Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

ترکی: خواتین فوجی افسران کے اسکارف پرعائد پابندی ختم

SAMAA | - Posted: Feb 23, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 23, 2017 | Last Updated: 5 years ago

turkey

استنبول: ترکی میں ڈیوٹی کے دوران خواتین فوجی افسران کےاسکارف لینے پرعائد پابندی کو ختم کردیا گیا ہے۔

ترک وزارت دفاع کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خواتین فوجی افسران پر ڈیوٹی کے دوران سر پر اسکارف لینے کی پابندی کو ختم کر دیا جائے۔فیصلے کا اطلاق جنرل اسٹاف ، کمانڈ ہیڈ کوارٹر اور اس کی شاخوں پر فرائض انجام دینے والی افسران پر ہوگا۔

ترک وزارت دفاع کے فیصلے میں خواتین فوجی افسران کو یونیفارم کے رنگ سے ملتا جلتا اسکارف پہننے کا پابند کیا گیا ہے جبکہ چہرہ چھپانے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ اسکارف پہننے کے بعد اس پر روایتی فوجی کیپ پہننا بھی لازم ہوگا۔

ترکی میں 1980 کی دہائی میں عوامی اداروں میں خواتین کے لیے سر پراسکارف لینے پر پابندی عائد کی گئی تھی، معاملہ طویل عرصے تک متنازع رہا مگر اب ترک صدر کا کہنا ہے کہ یہ پابندی ماضی کی تنگ نظری کی وجہ سے تھی۔

دو ہزار دس میں ترکی کی یونیورسٹیوں نے لڑکیوں کے اسکارف لینے پر عائد کیسرکاری پابندی ہٹا دی تھی۔ تین سال کے بعد خواتین کو ریاستی اداروں میں سر پر اسکارف لینے کی اجازت دی گئی جن میں سے عدلیہ، فوج اور پولیس کے ادارے مستثنیٰ تھے۔ دوہزارسولہ میں محکمہ پولیس کے محکمے میں کام کرنے والی خواتین کےاسکارف لینے پر عائد پابندی کو بھی ختم کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ فوج وہ آخری ادارہ ہے جہاں یہ پابندی ختم کی گئی۔ ترکی کا قانون سیکولر ہے جبکہ اکثریتی آبادی مسلمان ہے۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube