Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

سندھ میں کرونا پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے پر زور

SAMAA | - Posted: May 12, 2022 | Last Updated: 5 days ago
SAMAA |
Posted: May 12, 2022 | Last Updated: 5 days ago

محکمہ صحت سندھ کے اجلاس میں اومی کرون کی ذیلی قسم کا پھیلاو روکنے کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا۔

سیکریٹری صحت سندھ ڈاکٹر ذوالفقار علی شاہ کی زیر صدارت جس میں ڈائریکتر جنرل ہیلتھ سندھ ، ڈاکٹر ارشاد میمن، آغا خان اسپتال کے ہیڈ آف انفیکشیس ڈیزیز ڈاکٹر فیصل محمود، ہیڈ آف ڈبلیو ایچ او سب آفس سندھ ڈاکٹر سارا سلمان، فوکل پرسن کوویڈ ویکسینیشن ڈاکٹر سہیل رضا شیخ سمیت دیگر ماہرین نے شرکت کی۔

اجلاس میں کرونا وائرس سے بچاو کے لیے ماسک پہننے، سماجی فاصلہ برقرار رکھنے، اسکریننگ اور ویکسینیشن بڑھانے پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ اومی کرون کا سب ویرئینٹ تیزی سے پھیل رہا ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس کے کیسز رپورٹ ہور ہے ہیں مگر اسپتالوں میں سہولیات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ جن لوگوں نے ویکسین لگوائی ہے وہ ویکسین نہ لگوانے والوں سے زیادہ محفوظ ہیں، اجلاس میں تجویز دی گئی کہ اومی کرون کی نئی ذیلی قسم سے متعلق کمیونٹیز میں آگہی دی جائے، بھیڑ والے مقامات سے گریز کیا جائے، ماسک پہنا جائے، سماجی فاصلہ برقرار رکھا جائے اور ہاتھوں کو دھویا جائے۔

طبی ماہرین کا خیال ہے کہ اومی کرون کی ذیلی قسم سے متاثرہ افراد کے اہل خانہ اور قریبی افراد کی اسکریننگ کی جائے، کرونا وائرس کی علامات کے حامل افراد کے ٹیسٹ کیے جائیں اور اس سلسلے میں کراچی اور حیدرآباد سمیت ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ٹیسٹ کی تعداد بڑھائی جائے۔ غیر ویکسین شدہ افراد کی ویکسینیشن کی جائے جبکہ ہیلتھ کیئر ورکرز اور 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو بوسٹر شاٹس لگائیں جائیں۔

وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر رانا جواد اصغر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ متعدی امراض دنیا کے کسی بھی ملک سے آپ کے ملک تک پہنچ جائے گی، اس کے لیے آپ کتنی ہی پابندیاں عائد کر دیں اسے روک نہیں سکتے تاہم اس کی رفتار آہستہ ضرور کی جا سکتی ہے۔

 ڈاکٹر رانا جواد اصغر کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں اومی کرون کا سب ویرئینٹ پچھلے ویرئینٹ اومی کرون بی اے ٹو کو تیزی سے ری پلیس کر رہا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کچھ ممالک میں ہاسپٹلائزیشن میں بھی اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے اگرچہ وہ اتنا زیادہ نہیں ہے لیکن گراف اوپر جا رہا ہے، آئندہ اس میں کتنی شدت آئے گی یا پہلے کہ مقابلے میں اسپتالوں پر کتنا دباو بڑھے گا اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔

ڈاکٹر رانا جواد اصغر کا کہنا تھا کہ جس طرح دنیا کے دوسرے ممالک میں یہ ویرئینٹ موجود ہے اسی طرح پاکستان میں بھی یہ موجود ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر پابندیوں کے خاتمے کے اعلان سے یہ تاثر پھیلا کہ جیسے کرونا وائرس ختم ہوگیا ہے اور اسی وجہ سے لوگوں نے احتیاط کرنا چھوڑ دی حتیٰ کہ ڈاکٹرز نے بھی ماسک پہننا چھوڑ دیا تھا، ائیرلائنز نے بھی ماسک کی پابندی ختم کردی تھی، تجارتی اور سماجی سرگرمیاں ضرور شروع کریں لیکن اس کے ساتھ احتیاط بھی جاری رکھیں۔

ڈاکٹر جواد اصغر کا کہنا تھا کہ ہمیں علم ہے کہ اگر گھروں کی کھڑیاں کھلی ہوں اور وینٹی لیشن کا انتظام موجود ہو تو کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں، بندکمروں میں وائرس لگنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے بند جگہوں پر ماسک پہنا جائے ، احتیاط کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی تحقیق کے مطابق جن لوگوں کو کرونا کی معمولی علامات ہوں انہیں بھی لانگ کوویڈ کے نتیجے میں پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسے لوگوں کو دل کی بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور دوسری بیماریوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

 ڈاکٹر جواد اصغر کا کہنا تھا کہ اب تو یہ دیکھا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے دو، دو یا تین، تین بار بھی لوگ متاثر ہورہے ہیں اس لیے بہتر حکمت عملی یہی ہے کہ خود کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ خیال ترک کرنا چاہئے کہ کرونا وباء ختم ہوگئی ہے، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں کرونا وائرس دوبارہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube