Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

تھیلیسیمیا کے عالمی دن پر پریس کلب میں تقریب

SAMAA | - Posted: May 7, 2022 | Last Updated: 1 week ago
SAMAA |
Posted: May 7, 2022 | Last Updated: 1 week ago

تھیلیسیمیا کے عالمی دن کے موقع پر تھیلیسیمیا کے سیکڑوں بچے، ان کے والدین، ڈاکٹرز اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے معروف کرکٹر اسد شفیق اور ماہر امراضِ خون ڈاکٹر ثاقب انصاری کی قیادت میں کراچی پریس کلب میں چراغ روشن کئے اور ملک سے تھیلیسیمیا کے خاتمے کا عزم کیا۔

اس موقع پر معروف اینکر یحییٰ حسینی، کراچی پریس کلب کے سیکریٹری رضوان بھٹی، سابق صدر اے ایچ خانزادہ، ڈاکٹر راحت حسین اور دیگر بھی موجود تھے۔

چراغ جلانے کی تقریب کے موقع پر موجود شرکاء نے تھیلیسیمیا سے آگاہی کیلئے منعقدہ اس منفرد تقریب کے انعقاد پر عمیر ثناء فاﺅنڈیشن کی تعریف کی اور تھیلیسیمیا کے خاتمے کیلئے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

تھیلیسیمیا کے بچوں نے اپنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے، جن پر ”شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ کو عملی شکل دی جائے“، ”نئی نسل کو تھیلیسیمیا سے بچاﺅ، تھیلیسیمیا ٹیسٹ کراﺅ“ اور دیگر نعرے درج تھے۔

چراغ جلانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ثاقب انصاری نے کہا کہ ملک سے تھیلیسیمیا کے خاتمے کیلئے عمیر ثناء فاﺅنڈیشن گزشتہ 15سال سے جدوجہد کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آگاہی مہم کے باوجود تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی تعداد میں اضافہ تشویشناک ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مرض کے خاتمے کیلئے سرکاری و نجی ادارے مشترکہ جدوجہد کریں تاکہ تھیلیسیمیا سے محفوظ پاکستان کا خواب پورا ہوسکے۔

ڈاکٹر ثاقب کا کہا ہے کہ پاکستان میں ہر سال 5ہزار بچے تھیلیسیمیا کا مرض لے کر پیدا ہورہے ہیں، یہ مرض والدین سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے، اگر ماں اور باپ تھیلیسیمیا مائنر کا شکار ہوں تو 25 فیصد امکان اس بات کا ہوتا ہے کہ پیدا ہونیوالا بچہ تھیلیسیمیا میجر کا ہو، اس مرض میں خون بننے کا عمل رک جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مریض کو ہر 15 دن بعد خون لگوانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ شادی سے قبل تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کے ذریعے ہی اس مرض کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube