Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

دنیا بھرمیں سالانہ70 لاکھ افراد فضائی آلودگی کے باعث موت کےمنہ میں جارہےہیں

SAMAA | - Posted: Nov 7, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 7, 2018 | Last Updated: 4 years ago

فضائی آلودگی خطرناک حد تک پہنچ گئي ہے۔ دنيا بھر ميں سالانہ 70 لاکھ افراد زندگي کی بازی ہار رہےہيں۔ فضائي آلودگي سے مرنے والوں ميں 6 لاکھ بچے ہيں۔ متاثرہ بچوں کا تعلق ايشيا، افريقا اور لاطيني امريکا سے ہے۔

عالمي ادارہ صحت کے خوفناک انکشافات سامنے آگئے۔فضائی آلودگی کے سبب دنيا بھر ميں سالانہ 6 لاکھ  بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ہر دس میں ایک بچہ پانچ سال سے کم عمر کا ہوتا ہے ۔ڈبليو ايچ او کي ايئرپولوشن اينڈ چائلڈ ہيلتھ رپورٹ کے مطابقفضا ميں شامل سلفيٹ  اور بليک کاربن پھيپھڑے اور دل کے امراض کا سبب ہيں ۔ ہر روز15 سال سے کم عمر کے 93 فيصد بچے زہريلي ہوا ميںسانس ليتے ہيں ۔ بيشتر بچے سينے کے انفيکشن کے باعث موت کے منہ ميں جاتے ہيں ۔

مُردہ بچوں کي پيدائش، قبل ازوقت ولادت ،نومولود ميں دمہ کي شکايات  اور بچوں ميں  ذہني صلاحيت ميں کمي کي وجہ بھي فضائي آلودگي ہے ۔اس کے علاوہ فضائي آلودگي کے سبب ايئرانفکيشن اوربچوں ميں موٹاپے ميں خطرناک حد تک اضافہ ہوگيا ہے ۔الزائمر اور دوسری طرح کے ڈیمینیشیا کے امراض بڑھ گئے ہيں ۔

فضائي آلودگي سے متاثرہ بچوں کا تعلق ايشيا، افريقا اورلاطيني امريکا سے ہے۔ ڈبليو ايچ او کے ڈائريکٹر کے مطابق فضائي آلودگي سے کروڑوں بچوں کي زندگي داؤ پر لگي ہے۔دنيا کي 91 فيصد آبادي ايسے مقامات پر رہتي ہے جہاں کا فضائي معيار انتہائي خراب ہے۔ ہردس ميں نو افراد آلودہ فضا ميں سانس ليتے ہيں ۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube