Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

سگریٹ نوشی کرنیوالے نوجوانوں میں اسٹروک کی شرح زیادہ

SAMAA | - Posted: May 11, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: May 11, 2018 | Last Updated: 4 years ago

نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ نوجوان جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں جلد اسٹروک کا شکار ہوتے ہیں، تاہم وہ نوجوان جو سگریٹ نوشی سے پرہیز کرتے ہیں ان میں اسٹروک کی شرح کم ہوتی ہے۔

بالٹیمور کی یونی ورسٹی آف میری لینڈ اسکول آف میڈیسن کی جانب سے کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ وہ افراد جو سگریٹ نوشی کے عادی ہوتے ہیں ان میں اسٹروک کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ امریکی ماہرین صحت کی جانب سے نوجوان خواتین اور مردوں پر مشتمل گروپس پر سگریٹ نوشی سے متعلق سروے کیا گیا۔ ریسرچ’ کی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہےکہ عمر کے کسی بھی حصے میں سگریٹ نوشی ترک کرنے سے انسانی صحت پر اس کے مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تحقیق کے نتیجے میں حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، نوجوانی سے سگریٹ پینے والے عمر رسیدہ افراد جب سگریٹ نوشی ترک کرتے ہیں تو اُن کی صحت پر اس کا اچھا اثر پڑتا ہے، جبکہ آئندہ پانچ برسوں میں ان میں دل کی بیماریوں اور اسٹروک کا خطرہ 40 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ سروے کے دوران سگریٹ نوشی کرنے اور نہ کرنے والے نوجواںوں کی صحت اور اسٹروک کی شرح سے متعلق تحقیق کی گئی تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد عموماً 50 کی عمر سے قبل ہی اسٹروک کا شکار ہو جاتے ہیں، تاہم وہ افراد جو سگریٹ نوشی سے پرہیز کرتے ہیں ان میں اسٹروک کی شرح کم ہوتی ہے۔

تحقیق دانوں کے مطابق، اس عرصے میں سگریٹ پینے والوں میں دل کی بیماری کا خطرہ سگریٹ نہ پینے والوں کی نسبت دوگنا ہو گیا تھا جبکہ، پانچ برس قبل سگریٹ کی عادت چھوڑنے والے عمر رسیدہ افراد اورساری عمر سگریٹ نوشی نہ کرنے والے افراد دونوں میں دل کی بیماری پیدا ہونے کی شرح برابر تھی۔ وہ افراد جو کم سگریٹ نوشی کرتے ہیں یا پورے دن میں 11 سے زیادہ سگریٹ استعمال نہیں کرتے ان میں اسٹروک کی شرح 46 فیصد، جب کہ وہ افراد جو اس سے دگنی سگریٹ نوشی کرتے ہیں ایسے افراد زیادہ اسٹروک کا شکار ہوتے ہیں، تحقیق کے مطابق زیادہ سگریٹ نوشی اسٹروک کا سبب بنتی ہے۔

سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کی عمر اپنی ہم عمر خواتین جو سگریٹ نہیں پیتی ہیں کی نسبت دس برس کم ہو جاتی ہے۔ ماہرین صحت جینین مارکیڈن کا کہنا ہے کہ آپ جتنی کم سگریٹ نوشی کریں گے، آپ کیلئے اسٹروک کا خطرہ اتنا ہی کم ہوگا، تاہم سب سے بہترین عمل یہ ہے کہ آپ مکمل طور پر تمباکو نوشی ترک کردیں۔

ایسی خواتین جو40 برس کی عمر سے قبل ہی سگریٹ نوشی ترک کر دیتی ہیں ان میں سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث مرنے کی شرح 90 تک کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح، 30 برس کی عمر سے قبل سگریٹ نوشی چھوڑنے والی خواتین میں 97 فیصد موت کا خطرہ ٹل جاتا ہے۔ تحقیق کرنے والے ماہرین صحت کے مطابق سگریٹ نوشی کرنے والے بیشتر افراد اسکیمک اسٹروک کا شکار ہوتے ہیں، جس سب سے زیادہ عام ہے، اس صورت میں وہ رگیں جو خون کو دماغ تک پہنچاتی ہیں، بند ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور ان میں خون جمنا شروع ہوجاتا ہے۔

 

تحقیق میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا، جس میں 239 نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی، 108 افراد جو پہلے کبھی سگریٹ نوشی کرتے تھے،103 افراد جو دن میں 11 سگریٹ سے کم پیتے ہیں، 97 ایسے افراد جو 11 سے 20 سگریٹ روزانہ پیتے ہیں اور ایسے 40 افراد جن میں روزانہ 21 سے 39سگریٹ پینے کی عادت ہے، اس تحقیق کا حصہ رہے۔

تحقیق کے مطابق زیادہ سگریٹ پینے والے افراد جو زیادہ اسٹروک کا بھی شکار رہے، ان کی عمریں 35 سے 49 سال کے درمیان تھیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube