Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

یاسر اختر کی نئی فلم “آزاد”ٹی وی اسکرین پرریلیز کیلئےتیار

SAMAA | - Posted: May 28, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: May 28, 2020 | Last Updated: 2 years ago

تحریر : خالد فرشوری

یاسر اختر کے نام سے کون واقف نہیں ہے وہ بطور چائلڈ اسٹار متعارف ہوئے اور پھر بطور سنگر ، ایکٹر، ڈائریکٹر ، پروڈیوسر، اور اسکرپٹ رائٹر انھوں نے جو کام بھی کیا وہ بڑ ی جدت کے ساتھ کیا۔

یاسر اخترکی فلم “آزاد” پاکستان سمیت دنیا بھر میں ریلیز ہوئی ہے، اگر چہ کرونا کی وبا ء کے باعث فلم سینما گھروں کی زینت نہیں بنی اور اسے ٹی وی پر لانچ کیا گیا ہے۔

یو کے میں شوٹ ہونے والی اس فلم میں یاسر اختر کے علاوہ پروین اکبر، مومل شیخ ، گگن چوپڑا اور عمران علی اسد نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں، لندن کی سخت سردیوں میں اس فلم کو مکمل طور پر لندن میں ہی شوٹ کیا گیا ہے، ملٹی نیشنل فلمز کے بینر تلے، موشن کانٹینٹ گروپ اور یاسر کی کمپنی پگاسس کا یہ پہلا مشترکہ فلمی پروجیکٹ ہے۔

یاسر کے مطابق بقر عید پر ریلیز کے لئے ان کی اگلی فلم بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، آزاد، میں جہاں ناظرین نئے چہروں کے جھرمٹ میں پروین اکبر جیسی کہنہ مشق اور مومل شیخ جیسی گلیمرس بیوٹی کوئن کو اپنی فنی زندگی کے بہترین اور اچھوتے کردار کرتا دیکھیں گے وہیں یاسر اختر خود بھی ایک چونکا دینے والے کردار میں جلوہ گر ہیں، یہیں پر بس نہیں ہے بلکہ فلم میں یاسر کے مقبول ترین گیت “سائیاں ” کو بھی بطور ٹائٹل سانگ خوبصورتی سے عکسبند کیا گیا ہے۔

فلم میں پروین اکبر مہرو کے روپ میں پاکستان سے اس وقت یوکے منتقل ہوتی دکھائی گئی ہیں جب ان کا دیور ان کے شوہر کو قتل کر دیتا ہے، وہاں رہتے ہوئے وہ اپنے دونوں بیٹوں، آزر اور آزاد (یاسر اختر) کی پرورش بڑی محنت سے کرتی ہیں،یہ دونوں مقامی طور پر بہت اچھے تعلقات کے حامل ہوتے ہیں، مومل شیخ ان کی پڑوسن یاسمین کا مرکزی کردار نبھا رہی ہیں، یاسمین اپنے باپ کی تلاش میں سرگرداں ہے، اس کی مانکولا نے اس سے کئی حقائق چھپا رکھے ہیں،فلم میں اصل موڑ تب آتا ہے، جب آزر کا کزن دلاور،(عمران علی اسد ) انٹری دیتا ہے،دلاور اس فیملی کے ہر معاملے میں مداخلت کرتا ہے، فلم آزاد میں ، ایکشن تھرل، ڈرامہ اور سسپنس سمیت مزاح کے پہلووں کو بھی انتہائی خوبی کے ساتھ ٹریٹ کیا گیا ہے۔

آزاد کی اسکرپٹنگ میں مصنفہ رومی زاہد کو یاسر کی اس خاصیت سے مستفید ہونے کا بھرپور موقع ملتا رہا، اسد محمد خان ، حمید کاشمیری ، سیما غزل اور زبیر عباسی جیسے رائٹرز کی صحبت میں یاسر نے جو کچھ سیکھا ہے اس کا نچوڑ ناظرین کو آزاد میں نظر آے گا، فلم کا کیمرا ورک، حیات خان اور کریم آئزک کی صلاحیتوں کا عکاس ہے، ساونڈ ریکارڈنگ میں، زاہد طرفدار اور حرا تحسین کی کاوشوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکے گا، ٹیم آزاد کو جہاں فلم کی ریلیز کی بے انتہا خوشی ہے، وہیں انہیں یہ ملال بھی ہے کہ اس کی ریلیز سے قبل کینسر سے لڑتے لڑتے اس کی مصنفہ رومی زاہد اس دار فانی سے کوچ کر چکی ہیں۔

مضبوط اسکرپٹ، شاندار لوکیشنز، بہترین عکاسی اور دلوں کو چھو لینے والی کہانی سے سجی فلم آزاد کی ریلیز کے ساتھ ہی ٹی وی پر فلموں کی ریلیز کا سلسلہ شروع کرنے کا کریڈٹ بھی یاسر نے اپنے سر پر سجا لیا ہے اور آنے والے دنوں میں ان سوالات کے جوابات بھی سامنے آجائیں گے کہ ایسے تجربات کس حد تک مالی منفعت کا باعث ہوسکتے ہیں، کیا دیگر فلمساز بھی یاسر اختر کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سینما انڈسٹری کو نا سہی، فلم انڈسٹری کو زندہ رکھنے کی کوشش کریں گے یا نہیں؟ جلد یہ پہلو نمایاں ہونا شروع ہو جائے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube