Saturday, January 29, 2022  | 25 Jamadilakhir, 1443

مہرین جباربھی’’زندگی تماشا‘‘کی حمایت میں بول پڑیں

SAMAA | - Posted: Jan 28, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 28, 2020 | Last Updated: 2 years ago

پاکستانی ہدایتکار مہرین جبار نے ہدایتکار سرمد کھوسٹ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم دنیا کے دوسرے حصوں میں انتہا پسند اقدامات پر تنقید کرتے ہیں تو پھر ہم میں پاکستان میں بھی ایسا ہی کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔

انہوں نے کہا میرا مطلب ہے کہ ہم دنیا کے کسی بھی انتہا پسند گروہ یا ہندوستان کے آر ایس ایس سے بہتر نہیں ہیں جہاں وہ سنیما گھروں کو جلا دیتے ہیں ، احتجاج کرتے ہیں اور ریلیز پر پابندی لگاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2017 میں سنسربورڈ نے بالی ووڈ کی فلم پدماوتی کی منظوری دے دی تھی لیکن راجپوت تنظیموں کے پُرتشدد مظاہروں کے بعد اس کا عنوان تبدیل کرکے پدماوت کردیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی کوئی قوم انتہا پسندی کے آگے ہتھیار ڈالتی ہے تو پھر اسے پسماندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو بار جائزہ لینے اور تمام سنسر بورڈز کی منظوری کے باوجود فلم زندگی تماشا کو سنیما گھروں میں نمائش کیلئے پیش نہیں کیا گیا۔

انہوں نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک چھوٹے پرتشدد گروہ نے فلم دیکھے بغیر ہی اس کے خلاف احتجاج کیا، یہ متوقع تو تھا لیکن قابل قبول نہیں کہ انہیں تنقید کرنے اور فلم کا مستقبل طے کرنے کا موقع دیا جارہاہے تاہم اب جو آئندہ ہونے جارہا ہے یہ اس کا ایک خطرناک نمونہ ہے۔

مہرین جیسے فلمساز ایسے ماحول کا دفاع اور اس میں وسعت چاہتے ہیں کہ جس میں متنازع موضوعات پر فلمیں بنائی جاسکیں۔

سال 2008 میں ریلیز ہونے والی ان کی فلم ’’ رام چند پاکستانی ‘‘ کو کئی سلگتے مسائل کو بخوبی نبھانے کے باعث ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ ان غلطی سے سرحد پار کرجانے والوں کے بارے میں پاک بھارت ریاستوں کے تاثرات، ذات پات کا نظام اور صنف سے متعلق تعصبات شامل تھے۔

سرمد کھوسٹ کی فلم’’زندگی تماشا‘‘  ایک مذہبی قسم کے شخص کے بارے میں ہے جو شادی میں ڈانس کرتے ہوئے اپنی ایک ویڈیو وائرل ہوجانے کے باعث مشکلات کا شکار ہوجاتا ہے۔ ہدایت کار اور کاسٹ کو مذہبی تنظیموں کے ایک مخصوص گروپ کے حامیوں نے آن لائن دھمکیاں دیں اور بدسلوکی کی تھی جس کے بعد اس فلم کا تیسری مرتبہ جائزہ آئندہ ماہ شیڈول کیا گیا ہے۔

مہرین نے پوچھا کہ اگر کوئی ایسی فلم جسے نامناسب سمجھا جاتا ہے یا معاشرے کے مخصوص طبقے کے کچھ افراد اسے پسند نہیں کرتے ہیں تو کیا وہ ریلیز سے پہلے ہر فلم کا جائزہ لیں گے؟ اس طرح کے اقدامات واقعی خطرناک ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے ٹریلر دیکھا تھا اور فلم دیکھنے کی منتظر تھی۔ انہوں نے کہا کہ ٹریلر سے لگا تھا کہ یہ ایک ایسے موضوع پر مبنی ہے جو ہم اکثر سنیما میں نہیں دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ سرمد کھوسٹ کے کام کی مداح ہیں وہ بے باک اور سچے آرٹسٹ ہیں، مجھے افسوس ہوا کہ ان کے کام پر سوال اٹھائے گئے اور فلم کو یرغمال بنایا گیا ۔

سرمد کھوسٹ نے وزیر اعظم اور عام شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے دو کھلے خط لکھے لیکن انہیں حکومت کی طرف سے خاطر خواہ جواب نہ مل سکا۔

مہرین جبار کے مطابق پاکستان میں عام طور پر عید کے موقع پر فلمیں ریلیز کی جارتی ہے اس دوران رش ہوتا ہے اور سنیما میں کئی فلمیں لگی ہوتی ہیں تاہم اس کے بعد مہینوں خاموشی ہوتی ہے ، مذکورہ خطرناک مثال ہماری انڈسٹری کو اس حمایت و تعاون سے محروم کررہی ہے جس کی اسے ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ہمیں اعلیٰ بجٹ فلموں کے بجائے ہر طرح کی بہت ساری فلمیں بنانے کی ضرورت ہے۔ کہانی اور سرمایہ کے لحاظ سے چھوٹے اور بڑے بجٹ کی یعنی 2 کروڑ روپے سے لے کر 10 کروڑ روپے تک کی فلمیں بنائی جائیں۔ بالی ووڈ اور ہالی ووڈ فلموں پر پابندی لگانے سے پاکستانی فلم انڈسٹری پروان نہیں چڑھ سکتی اس کے لئے حکومت کو موقع فراہم کرنا ہوگا۔

مہرین جبار نے مزید کہا کہ مفلم کے معیار کو برقرار رکھنے کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا اور یہ ضروری ہے کیونکہ کئی سالوں سے ہماری انڈسٹری بدحالی کا شکار تھی اور حال ہی میں کچھ بہتری آئی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube