Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

روپے کی قدر میں مزید کمی، ڈالر نئی بلندیوں پر

SAMAA | - Posted: Dec 9, 2021 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Dec 9, 2021 | Last Updated: 5 months ago
[caption id="attachment_2437533" align="alignnone" width="800"]DOLLAR_NEW_1 فوٹو: آن لائن[/caption]

مقامی کرنسی مارکیٹوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے پر دباؤ جمعرات کو بھی برقرار رہا، جس کے نتیجے میں انٹربینک میں ڈالر مزید 18 پیسے کے اضافے سے 177.61 ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا دوسری جانب اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ٹریڈنگ کے دوران ڈالر 180 روپے کی بلند سطح پر پہنچ گیا تاہم بعد ازاں 179.70 روپے پر بند ہوا جو بدھ کے مقابلے میں 70 پیسے زائد ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتہ سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر پاکستان کو موصول ہوئے تھے جس کے بعد توقع ظاہر کی جارہی تھی کہ ڈالر کی قدر میں اضافہ رک جائے گا لیکن توقعات کے برعکس کرنسی مارکیٹوں میں سعودی عرب کے 3 ارب ڈالر کو نظر انداز کیا گیا اور ڈالر کی طلب برقرار رہنے کی وجہ سے ڈالر کی قدر بڑھنے کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا۔

ڈالر کی قدر بڑھنے کی وجوہات کیا ہیں؟

معاشی ماہرین کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ درآمدات کا بوجھ ہے جو اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس کے سامنے 3 ارب ڈالر کا سعودی قرض بھی غیر مؤثر ثابت ہورہا ہے، گزشتہ ماہ درآمدات کا حجم 8 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور اطلاعات کے مطابق رواں ماہ دسمبر میں بھی یہی صورتحال برقرار ہے۔

اگر پچھلے ماہ کے حساب سے بھی دیکھا جائے تو یومیہ برآمدات سے 10 کروڑ ڈالر ملک آرہے ہیں اور درآمدات کی مد میں 26 کروڑ ڈالر باہر جارہے ہیں یعنی ڈالر تجارتی خسارے کی وجہ سے تقریباً 16 کروڑ ڈالر کی یومیہ طلب ہے، اگر اس میں ترسیلات زر کی مد میں آنے والی رقم نکال لی جائے جو یومیہ تقریباً 9 کروڑ ڈالر بنتی ہے، تب بھی یومیہ 7 کروڑ ڈالر کا خسارہ ہے جو زرمبادلہ کے ذخائر اور پاکستانی روپے پر دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔

حکومت درآمدات کو کم کرنے کیلئے کئی اقدامات پر غور کررہی ہے اور اس سلسلے میں لگژری آئٹمز پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے سمیت دیگر اقدامات پر مشتمل منی بجٹ لانے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن عملی شکل میں تاخیر کی وجہ سے ڈالر کی قدر بڑھ رہی ہے۔

فاریکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان کے مطابق درآمد کنندگان لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کھلوانے کیلئے ڈالر خریدرہے ہیں، جس کی وجہ سے انٹر بینک میں ڈالر کی قدر بڑھ رہی ہے، جس کا اثر اوپن کرنسی مارکیٹ پر بھی پڑ رہا ہے۔

ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قدر مصنوعی طور پر بڑھائی جارہی ہے، ملک کی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ڈالر کی قدر میں اتنا اضافہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔

دوسری جانب بعض کرنسی ڈیلرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق اسٹیٹ بینک کرنسی مارکیٹ میں ماضی کی طرح مداخلت نہیں کرسکتی، جس کا بینک اور کرنسی ڈیلرز فائدہ اٹھارہے ہیں۔

کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ جہاں تک سعودی 3 ارب ڈالر کا تعلق ہے تو وہ صرف اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سپورٹ دینے کیلئے ہیں جس کی وجہ سے اس کا مارکیٹ میں زیادہ اثر مرتب نہیں ہورہا، البتہ درآمدی بل میں کمی سے ڈالر کی قدر میں کمی آسکتی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube