Saturday, January 29, 2022  | 25 Jamadilakhir, 1443

چنگان پاکستان نے گاڑیوں کی قیمت بڑھادی

SAMAA | - Posted: Nov 26, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 26, 2021 | Last Updated: 2 months ago

چنگان پاکستان نے بھی دیگر کار ساز کمپنیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی تمام گاڑیوں کی قیمت میں اضافہ کردیا۔

کمپنی نے کنٹینرز کی کمی کے باعث شپمنٹ کی لاگت بڑھنے کو قیمتوں میں اضافے کی وجہ قرار دیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مال برداری کی لاگت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ چنگان نے اپنی گاڑیوں کی قیمت 2 لاکھ 75 ہزار روپے تک بڑھادی ہے جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

چنگان موٹرز کی جانب سے رواں سال دوسری بار قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ کمپنی نے اگست میں ایلسون ماڈلز کی قیمتوں میں ایک لاکھ 20 ہزار روپے اضافہ کیا جو حکومتی مداخلت کے بعد واپس لے لیا گیا تھا۔

پاکستان میں کاروں کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان کا آغاز نومبر میں شروع ہوا اور تقریباً تمام کار ساز کمپنیوں نے شپمنٹ لاگت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث اپنی نئی قیمتوں کا اعلان کیا۔

چنگان ایلسون

چنگان ایلسوین 1.3ایل ایم/ٹی، ایلسون 1.5ایل ڈی سی ٹی کنفرٹ اور ایلسون 1.5ایل ڈی سی ٹی لومیئر 2 لاکھ 75 ہزار روپے مہنگی ہوگئیں، جن کی قیمت اب بالترتیب 24 لاکھ 20 ہزار، 26 لاکھ 70 ہزار اور 28 لاکھ 60 ہزار روپے ہوگی۔

واضح رہے کہ ایلسون چنگان موٹرز کی سب سے زیادہ پسند کی جانیوالی گاڑی ہے۔

چنگان کاروان

کمپنی کے مطابق چنگان کاروان ایم پی وی اور کاروان ایم پی وی پلس کی قیمتوں میں بھی 2 لاکھ 75 ہزار روپے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ان ماڈلز کے نرخ 16 لاکھ 70 ہزار روپے اور 18 لاکھ 10 ہزار روپے ہوگئے۔

چنگان ایم 9 لوڈر پک اپ کی قیمت بھی 2 لاکھ 75 ہزار روپے اضافے سے 15 لاکھ روپے ہوگئی۔

کاروں کی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہوا؟

تجزیہ کار عبدالغنی میاں نور کا کہنا ہے کہ شپنگ لاگت میں پانچ گنا اضافہ ہوچکا ہے، لاک ڈاؤن کے خاتمے کے باعث کنٹینرز کی طلب میں بھی اضافہ ہوگیا لیکن کنٹینرز کی دستیابی محدود شپنگ صلاحیت کے باعث طلب کو پورا نہیں کرپارہی۔

چنگان ڈیلرز کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کمپنی تقریباً تمام پارٹس چین سے درآمد کرتی اور پاکستان میں گاڑیاں تیار کرتی ہے، خام مال جیسا کہ اسٹیل اور المونیم کی قیمتوں میں بھی عالمی سطح پر اضافہ ہوگیا اور پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں ڈالر بلند ترین سطح 178.30 روپے پر پہنچ گیا جس سے درآمدی بل پر دباؤ ہے، اس کے ساتھ سمندری راستے سے مال برداری کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے۔

ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹر سائیکل اسمبلرز (اے پی ایم اے) کے چیئرپرسن محمد صابر شیخ کا کہنا ہے کہ کرونا وباء کے دوران پابندیوں کے باعث کئی ممالک بشمول چین نے پورٹس پر اپنے مزدوروں کی تعداد میں کمی کردی جس کے باعث بھی مشکلات کھڑی ہوئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بڑے برآمد کنندگان ممالک میں شامل چین کو بھی کنٹینرز کی کمی کا سامنا ہے، اس کے علاوہ لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد کنٹینرز کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

قیمتوں میں اضافہ کاروں کی فروخت پر کیسے اثر ڈالے گا؟

عبدالغنی میاں نور کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے سے چنگان کی گاڑیوں کی فروخت میں کمی واقع ہوگی۔

چنگان ڈیلرز کہتے ہیں کہ گاڑیوں کی فروخت میں 10 سے 15 فیصد تک کمی واقعی ہوسکتی ہے۔

البتہ ان کا دعویٰ ہے کہ چنگان کی کاروں کی قیمت اب بھی دیگر کمپنیوں کی ایسے ہی فیچرز والی گاڑیوں سے کم ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ بڑے کار ساز اداروں کی جانب سے قیمتوں میں اضافہ کیا جاچکا ہے تاہم اس اضافے کا کچھ زیادہ اثر نہیں پڑا۔

صابر شیخ نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود گاڑیوں پر اون منی میں کمی کا کوئی امکان نہیں۔

اون منی وہ اضافی رقم ہے جو سرمایہ کار فوری طور پر گاڑی لینے والے صارف سے وصول کرتا ہے۔ یہ رقم گاڑی کی اصل قیمت کے علاوہ ہوتی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube