Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

سود و زیاں کا چکر

SAMAA | - Posted: Sep 23, 2015 | Last Updated: 7 years ago
SAMAA |
Posted: Sep 23, 2015 | Last Updated: 7 years ago

 1d

فیصل آباد کی سوتر منڈی کے ایک تاجر نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اس ماہ ہمیں لٹھے میں 4 کروڑ روپے کا گھاٹا ہو گیا، بیٹے نے حیران ہوکر پوچھا کہ ابا جی ہم نے تو لٹھا خریدا ہی نہیں، گھاٹا کیسا، باپ بولا اگر لٹھا خرید لیتے تو 4 کروڑ روپے بچ سکتے تھے مگر نہ خریدنے کی وجہ سے یہ فائدہ نہیں مل سکا، سود و زیاں کے بارے میں صرف سوتر منڈی کے تاجروں کا ہی یہ معاملہ نہیں۔

صنعتکاروں نے بھی آج کل ایسا ہی رویہ اپنایا ہوا ہے، 20 سال پہلے درمیانے درجے کی ایک ٹیکسٹائل مل کے مالک کے پاس اب 5 سے 10 کمپوزٹ ملیں ہیں، جن میں دھاگے سے لیکر کپڑے اور ملبوسات کی تیاری کی سہولت موجود ہے، لاہور میں ڈیفنس اور کراچی کے کلفٹن میں وسیع و عریض بنگلے ہیں، جدید گاڑیاں ہیں مگر منافع کے معاملے پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ ایسی ہی صورتحال ہمیں معیشت کے دیگر شعبوں میں بھی نظر آتی ہے، فلار ملز میں چوکر پر ٹیکس نافذ ہوجائے تو ملیں بند کرنے کی دھمکی۔

1c

پنجاب ریونیو اتھارٹی نے ٹینکرز کے منافع میں سے کچھ حصہ سروسز ٹیکس کی صورت میں لینے کی کوشش کی تو کراچی سے پشاور تک پیٹرول کی فراہمی روک دی گئی، عوامی رد عمل سے بچنے کیلئے پنجاب حکومت نے گھٹنے ٹیک دیئے اور ٹیکس 31 دسمبر تک مؤخر ہوگیا، گویا کہ رونا دھونا ہی رزق کمانے کی کنجی ہے، دنیا جہان میں کاروبار منافع کیلئے ہی ہوتا ہے، کاروبار گھاٹے کیلئے کوئی نہیں کرتا مگر اس کی حد ضرور مقرر ہے۔

امریکا سمیت سرمایہ داری کے حامل نظام والے ممالک میں منافع کی کہیں 5 فیصد اور کہیں 10 فیصد کلی منافع کی شرح ہے، پاکستان کی طرح 100 فیصد سے 200 فیصد منافع کہیں نظر نہیں آتا، ایک دوسرے کو لوٹنے کی یہ داستان کسان سے شروع ہوتی ہے اور ایک محلے کی دکان پر ایک مجبور گاہک پر ختم ہوجاتی ہے۔

1a

کھیت میں کسان آلو 10 روپے فی کلو بیچتا ہے، منڈی میں اس کی قیمت 15 جبکہ کھلی منڈی میں 50، 60 روپے سے کم نہیں ہوتی، اکبری منڈی میں 50 روپے فی کلو بکنے والی دال چنا اچھرے کے بازار میں 100 روپے کلو بکتی ہے، غیر معمولی منافع کو روکنے کیلئے حکومتی مشینری کا کردار کبھی بھی مؤثر نہیں رہا۔

صرف رمضان کے مہینے میں منافع خوری کو تو نہیں بلکہ قیمتوں میں اضافے کو روکنے کیلئے غیر معمولی سبسڈی کا سہارا لیا جاتا ہے، جس سے دکانداروں کی منافع کیلئے مہم جوئی کم نہیں ہوتی، گاہکوں کا خون چوسنے کے بعد یہی دکاندار غریبوں میں چاول کی دیگیں تقسیم کرنے سے نہیں گھبراتے، کروڑوں روپے کی منافع خوری کے بعد ہزاروں کی خیرات، کسی طور بھی دیوار گریہ پر گناہی کی توبہ سے کم نہیں۔

1

تاجر برادری کی خسارے کی اپنی ہی تعریف اس بات کی غماضی کرتی ہے کہ ابھی ہم صرف فائدے کا سودا ہی کرنے کو تیار ہیں، گھاٹا کسی قیمت پر بھی منظور نہیں، قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو وقتی فائدے کی بجائے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے کم منافع اور کبھی کبھی گھاٹے کا بھی سودا کرلیتی ہیں۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube