Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

بجٹ 16-2015،مزدور کی تنخواہ13ہزارمقرر، کےپی کےعوام،نئے گھربنانےوالوں کیلئے خوشخبریاں

SAMAA | - Posted: Jun 5, 2015 | Last Updated: 7 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 5, 2015 | Last Updated: 7 years ago

ویب ایڈیٹر :

اسلام آباد :   وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 42 کھرب 72 ارب روپے کا 67واں بجٹ اسمبلی میں پیش کردیا، نئے بجٹ کے مطابق  خیبر پختونخوا کے عوام، نیا گھر بنانے والوں,  گاڑی والوں  اور  سرکاری ملازمین کیلئے  چھوٹ اور خوشخبری دی گئی ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7.5 فیصد جبکہ میڈیکل الاؤنس میں 25 فیصد اضافہ کردیا گیا، وزیراعظم کی جانب سےنوجوانوں کیلئے  نیا انٹرن شپ پروگرام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت انٹرن شپ کرنے والوں کیلئے ماہانہ 12 ہزار روپے دیئے جائیں گے، بجٹ میں خیبر پختونخوا کے تاجروں کو پہلی بار قانون میں ترمیم کرکے کسٹم ڈیوٹی پر چھوٹ اور وسط ایشیائی ممالک میں تجارت کیلئے اب ڈالر پر انحصار  نہیں کرنا پڑے گا، پہلی بار کے پی کے تاجر روپے میں تجارت کرسکیں گے، جبکہ خیبرپختونخوا میں صنعتی یونٹس کو 5 سال کی ٹیکس  پر چھوٹ بھی دے دی  گئی ہے، سولر اور ونڈانرجی کے آلات کی درآمد پر ٹیکس ختم کردیا گیا، جبکہ سگریٹ نوشی کرنے والوں کو  ایک بار پھر ٹیکا لگا دیا گیا، سیلفی بخار میں مبتلا افراد اور شوقینوں کیلئے بھی بری خبر یہ ہے کہ مختلف اقسام کے موبائل فونز کی قیمتوں میں ٹیکس  اور قیمت میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی میں  وفاقی بجٹ سال 2015-16 پیش کردیا گیا  ہے، اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے شکستہ معیشت کو بحالی کی طرف گامزن کردیا ہے، معاشی صورت حال کو بہتربنانے کیلئے ٹھوس پالیسیاں ترتیب دی جا رہی ہیں، بجٹ خسارہ 4.3 فیصد  اور زر مبادلہ ذخائر 19 ارب ڈالر تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، توانائی کے شعبے کیلئے بھی بھرپور طریقے سے کام کررہے ہیں، 2017ء تک 10 ہزار میگا واٹ سے زائد بجلی سسٹم میں شامل ہوجائے گی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس  اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت  ہوا، جہاں وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار قومی بجٹ سال 2015-16 پیش کیا ، اس موقع پر وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے شکستہ معیشت کوبحالی کی طرف گامزن کر دیا ہے، معاشی پنڈتوں کی پیشگوئیاں غلط ثابت ہوگئیں۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ فی کس آمدنی1384سے بڑھ کر 1513 ڈالر  ہوگئی، افراط زر کی شرح 11 سال کی کم ترین سطح پر آگئی، جب کہ اہداف کے حصول کیلئے ٹھوس پالیسیاں تشکیل دیں، انہوں نے کہا کہ  رواں مالی سال اقتصادی ترقی کی شرح 4.24 فیصد رہی ہے تاہم  شرح سود کم ہو کر  7 فیصد پر آگئی، زرمبادلہ کے  ذخائر 17ارب ڈالر  تک پہنچ چکے ہیں، کےایس ای میں70فیصداضافہ ہوا  اور سرمایہ کاروں کاپاکستانی معیشت پراعتمادبڑھاہے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ساڑھے سات فیصد اضافہ :

حکومت  کی جانب سے  وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ساڑھے سات فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے،  ریٹائرڈ ملازمین کی کم از کم ماہانہ پنشن تیرہ ہزار روپے کر دی گئی۔ میڈیکل الاؤنس میں بھی  پچیس فیصد اضافے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

سرکاری ملازمین کیلئے بجٹ تنخواہوں میںاس بار صرف سات فیصدہ اضافہ کیا گیا ہے، یعنی سرکاری ملازمین جو نئے بجٹ سے کئی امیدیں لگا بیٹھے تھے، صرف سات فیصد اضافے کی خبر نے گویا امیدوں پر پانی پھیر دیا ہو،  دو ہزار پندرہ سولہ کے وفاقی بجٹ میں تنخواہیں تو بڑھائی گئیں لیکن صرف آٹے میں نمک کے برابر ،  یعنی صرف ساڑھے سات فیصد جب کہ گریڈ پانچ کے ملازمین کو ایک پری میچور انکری منٹ دیا جائے گا۔

حکومت نے کم ازکم ماہانہ اجرت بھی بارہ سے بڑھا کر تیرہ ہزار روپے کر دی ہے۔ چار سے پانچ لاکھ روپے سالانہ تنخواہ دارطبقے پرانکم ٹیکس پانچ سے کم کر کے دو فیصد کر دیا گیا ہے۔ سول ریٹائرڈ ملازمین کی کم از کم پنشن بھی تیرہ ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کیلئے میڈیکل الاؤنس میں پچیس فیصد اضافہ بھی کیا گیا ہے –

بجٹ ، عوام اور موبائل فونز کا بخار :

نئے بجٹ میں حکومت کی جانب سے موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم اور ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا، جس کے مطابق دومیگا پکسلز کیمرے والے موبائل پر 150 کے بجائے 300روپے، دس میگا پکسلزوالے موبائل پر 250 کے بجائے 500 جب کہ دس سے زائد میگا پکسل کیمرے والے موبائل پر 500 کے بجائے 1000 روپے سیلز ٹیکس بڑھایا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا کیلئے خصوصی ٹیکس چھوٹ :

سال دو ہزار پندرہ اور سولہ کے بجٹ میں خٰبر پختونخوا کے عوام اور تاجروں کو  نئے بجٹ میں خصوصی مراعات او ر ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے، اسمبلی میں بجٹ تقریر اور بجٹ پیش کرنے کے دوران وفاقی وزیر خزانہ اسحاق داڑ کا کہنا تھا کہ ملک کا علاقہ فاٹا اور صوبہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کی وجہ سے سب سے ز یادہ متاثر ہوا ہے، صوبے کے عوام کی بہتری اور صوبے کی ترقی  مختلف شعبوں میں ٹیکسوں  پر مکمل چھوٹ دے دی گئی ہے۔

نئے بجٹ کے مطابق  خیبر پختونخوا کیلئے خصوصاًمختلف اسکیمز متعارف کرائی گئی ہیں، جس پر  ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے گی،  خیبرپختونخوامیں صنعتی یونٹس کو پانچ سال کی ٹیکس چھوٹ بھی دے دی گئی  ہے، جس کیلئے قانون میں ترمیم کرکے مختلف ٹیکس کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ،  کے پی کے تاجروں کیلئے  کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا، جب کہ تاجروں کو خوشخبری سناتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اب کے پی کے کے تاجر  وسطی  ایشیائی ممالک کے ساتھ  ڈالر کے بجائے  روپے میں تجارت کر سکیں گے،  وزیر خزانہ نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کے پی کے کے تاجر وں کو  اب افغانستان سے روپے میں تجارت کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے، کے پی کے کے تمام  ری فنڈز اکتوبر تک ختم ہو جائیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ مالیاتی خسارہ5فیصدتک رکھنےکی کوشش کرینگے، 2018تک سسٹم میں10ہزارمیگاواٹ بجلی شامل ہوگی، اس سال زرمبادلہ ذخائر19ارب ڈالرتک لےجائیں گے۔  بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مختص رقم 102 ارب روپےکی جارہی ہے،  اس موقع پر سنجیدہ گفت گو میں مزاح کا تڑکا لگاتے ہوئے وزیر خزانہ نے  پارلیمنٹ میں موجود اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ  پروگرام سے متعلق سفارشات پیش کی جا رہی ہیں، آپ لوگ تالیاں بجائیں، ڈیسک بجائیں، جس پر تمام تو  نہیں صرف چند اراکین نے تلقین پر ڈیسک بجا ئیں۔

بجٹ تقریر کو آگے بڑھاتے ہوئے  وزیر خزانہ نے کہا کہ بیت المال کا بجٹ 2ارب سےبڑھا4ارب کیا جارہا ہے،  جب کہ پانی وبجلی کےمنصوبوں کیلئے 30 ارب 12 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،  پانی کےشعبےمیں31ارب روپےخرچ کیےجائیں گے، دیامربھاشاڈیم،زمین کےحصول کیلئے15ارب روپےمختص کیے گئے ہیں، توانائی منصوبوں کیلئے248ارب روپےمختص کیے ہیں، جب کہ شہر قائد  کے  گرین لائن بس منصوبےکیلئے16ارب روپےمختص کردیئے گئے ہیں۔

اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق داڑ کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کو سرحد کے دفاع کے ساتھ ساتھ ملک کے اندورنی دفاع کو بھی مضبوط بنانا ہے، آپریشن ضرب عضب کے باعث اپنے گھروں اور علاقوں کو چھوڑنے والے ٹی ڈی پیز کی  اپنے علاقوں میں واپسی، اور ان کی آباد کاری بھی حکومت کیلئے ایک  چیلنج تھا، تاہم حکومت یہاں بھی سرخرو ہوئی، آپریشن ضرب عضب کے باعث خالی اور محفوظ بنائے گئے علاقوں میں ٹی ڈی پیز کی واپسی ایک کڑا امتحان تھا، نئے بجٹ میں  ٹی ڈی پیز کیلئے 100 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، جس میں ان کی آباد کاری، محفوظ بنائے گئے علاقوں کی تعمیر و ترقی اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔

بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ چھوٹی ترقیاتی اسکیموں کیلئے20ارب روپے جب کہ  ہایئرایجوکیشن کمیشن کیلئے5.71ارب روپےمختص کیے گئے  ہیں، مالیاتی خسارہ5فیصدتک رکھنےکی کوشش کرینگے، برآمدات کےفروغ کیلئے 6 ارب روپے، ریلوے کیلئے78ارب روپے،  اور زرعی قرضہ جات کاہدف600ارب روپےمقرر کیے گئے ہیں۔

کسانوں اور ان کی بہتری کے منصوبوں  سے متعلق  وزیر خزانہ نے کہا کہ کسانوں کوسولرٹیوب ویلزکیلئےبلاسودقرضےدیں گے، آئندہ3سال میں30ہزارٹیوب ویلز کیلئے قرضےدینگے، ساڑھے 12 ایکڑ یا کم زمین رکھنے والےکسان اہل ہونگے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف اقسام کے موبائلز پر ٹیکس دگنا کردیا گیا ، جبکہ ایک موقع پر وزیر خزانہ نے عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ دسمبر 2017 تک لوڈشیڈنگ ختم کردیں گے،  بجٹ کے اہم حصے یعنیٰ دفاعی بجٹ میں 11 فیصد اضافے کے بعد  دفاعی بجٹ 780 ارب روپے کردیا گیا ہے، ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں ساڑھے 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ گلگت  بلتستان میں نمک اور گندم پر دی جانے والی سبسڈی ختم کردی گئی ہے، رمصان پیکیج کیلئے 3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
Facebook Twitter Youtube