Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

نوشکی اور پنجگور واقعات، ایران جاتے قدموں کے نشان

SAMAA | - Posted: Feb 8, 2022 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 8, 2022 | Last Updated: 3 months ago

بدھ 2 فروری 2022ء کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے جنوب میں افغانستان کی سرحد کے قریب پاکستان کے شہر نوشکی اور کوئٹہ سے تقریباً 500 کلومیٹر دور ضلع پنجگور کے ضلعی صدر مقام میں فرنٹیئر کور کے کیمپوں پر بلوچ کالعدم عسکریت پسند گروہ کے حملوں نے بلاشبہ تشویش کی شدید لہر دوڑا دی۔ دونوں اضلاع کے اندر فرنٹیئر کور کیمپ شہر میں موجود ہیں، جہاں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، اعلیٰ پولیس حکام کے دفاتر، ضلعی سرکاری اسپتال اور دوسرے سرکاری دفاتر بھی موجود ہیں۔

نوشکی شہر افغان سرحد سے غالباً 25 کلو میٹر کی دوری پر ہے، افغان سرحدی علاقہ ”سرلٹھ“ نوشکی سے متصل ہے جو ماضی کی شورشوں میں بھی خصوصی اہمیت کا حامل علاقہ رہا ہے۔ پنجگور ایران سرحد سے متصل تقریباً 50 کلومیٹر دوری پر ہے۔ ایران کے ساتھ پنجگور کی 200 کلومیٹر سے زائد سرحد ملتی ہے۔

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ بالاچ مری سرلٹھ منتقل ہوئے تھے اور افغانستان ہی میں انتقال کرگئے، پاکستان بننے کے بعد مزاحمت کی پہلی کوشش خان آف قلات میر احمد یار خان کے بھائی نے کی تھی، آغا عبدالکریم ساتھیوں کے ہمراہ ”سرلٹھ“ منتقل ہوئے تھے۔ افغان حکومت سے حمایت و پذیرائی نہ ملنے پر آغا عبدالکریم واپس لوٹے، بعد کی 3 مزاحمتوں کو تب کی افغان حکومتوں کی سرپرستی و مدد حاصل رہی۔ ان میں ستر کی دہائی کی بلوچ و پشتون سیاسی و مزاحمتی تحریکات کی پشت پر افغانستان میں سردار داﺅد اور روسی حمایت یافتہ کمیونسٹ افغان حکومتوں کی پوری سرپرستی حاصل رہی۔ بڑے بڑے بلوچ پشتون رہنماء اور جنگی کمانڈر افغانستان میں پناہ لئے ہوئے تھے۔ چنانچہ موجودہ مزاحمت کی ابتدا 2000ء کی دہائی کے اوائل میں ہوئی، افغانستان پر امریکی قبضے اور وہاں بھارت کے سیاسی اور جاسوسی کے نیٹ ورک کے قیام کے بعد ان گروہوں کی بڑی سطح پر پشت پناہی ہوئی۔

رفتہ رفتہ کئی گروہ قائم ہوئے اور عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد افغانستان منتقل ہوئی، امریکی چھتری کے نیچے بننے والی کابل کی تمام حکومتیں بھارتی پالیسیوں پر عمل پیرا رہیں۔ 29 فروری 2020ء کے دوحا میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں 15 اگست 2021ء تک امریکی و نیٹو انخلاء کے بعد منظر نامہ تبدیل ہوا، یقیناً بلوچ مزاحمت سے مختلف حوالوں سے وابستہ افراد اب بھی موجود ہیں مگر انہیں سرکاری سرپرستی حاصل نہیں ہے۔ نہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی مذہبی شدت پسندوں کو کابل کی سرپرستی حاصل ہے۔

نئی افغان حکومت طالبان، ٹی ٹی پی اور بلوچ شدت پسندوں کے ساتھ بھی کسی تنازع میں پڑنا نہیں چاہتی، انہیں افغانستان میں رہنے کی اجازت تو دینا چاہتے ہیں لیکن انہیں اپنی سرزمین استعمال کرنے یا عسکری سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتی۔ یقیناً افغانستان کی سرزمین سے مذہبی گروہوں کے حملے اب بھی ہورہے ہیں، نقل و حمل کا تدارک نہ ہوسکا ہے، جس کی ایک وجہ افغان حکومت کی معاشی مشکلات بھی ہیں۔ نیز پاک سرحدی علاقوں کی ساخت ایسی ہے کہ مسلح گروہ اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔

سو نئی کابل حکومت جتنی مستحکم ہوگی یوں ان کی عملداری ملک کے طول و عرض میں یقینی بن جائے گی، کابل کی حکومت دوحا معاہدے کے تحت اپنی سرزمین کسی بھی ملک کیخلاف استعمال نہ کرنے کی پابند ہے۔ افغان حکومت نے شمال کے صوبے بشمول پنجشیر کامل طور پر اپنے قلمرو میں شامل کرکے دراصل نئی دہلی اور ایران کے دیرینہ نیٹ ورکس کا خاتمہ بھی کردیا ہے۔

روسی افواج کے نکلنے کے بعد ایران کو افغانستان کے شمالی علاقوں میں گہرا اثر و نفوذ حاصل ہوا، ایرانی جاسوسی ادارے نے وسیع جال پھیلایا، جنرل سلیمانی بھی افغانستان میں کام کرچکے تھے، افغانستان پر امریکی حملے کے اور ملا عمر کی حکومت کے سقوط کے بعد بھارت کے ساتھ ایران بھی اہم کھلاڑی بنا۔ عراق پر امریکی فوجی تصرف کے بعد ایران کا دائرہ عراق تک پھیل گیا، پھر امریکی و ایرانی مفادات کیخلاف عراق کے اندر اٹھنے والی مزاحمت کے تناظر میں ایران نے افغان باشندوں پر مشتمل ملیشیائیں قائم کرلیں، جو عراق اور شام میں حکومت مخالف گروہ کیخلاف استعمال ہوتی رہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے بھی نوجوان ان ملیشیاﺅں کا حصہ بنے، افغانستان پر امریکی حملے کے بعد حیرت انگیز طور پر القاعدہ کے ارکان بھی ایران منتقل ہوگئے تھے، غرض کہ افغانستان پر امریکی تسلط کے دوران تقریباً ایک ہزار بلوچ جنگجو ایران میں موجود تھے، چناںچہ 15 اگست 2021ء کو امریکی و نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد بھی 700 کے قریب مزید جنگجو ایران منتقل ہوئے۔ حتیٰ کہ کراچی کے لیاری گینگ سے وابستہ 100 کے قریب لوگ بھی ایران میں پناہ لے ہوئے ہیں۔

کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے سربراہ سمیت کئی بلوچ کمانڈروں کی ایران آمد ورفت رہتی ہے، ایران کے جاسوسی کے ادارے ان بلوچ عسکریت پسندوں کو شناختی اسناد کی فراہمی، علاج و معالجہ، مالی امداد اور رہائش، نقل و حرکت اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات دیتے ہیں، نیز پاکستان کے اندر کارروائیوں کی ہدایات دی جاتی ہیں، بھارت کے ساتھ اشتراک بھی موجود ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ ایران کے اندر بھی ان جنگجوﺅں کو امداد و تعاون دے رہی ہے، انہیں رقوم دی جاتی ہیں، سہولت کاروں کے توسط سے ہر طرح کا تعاون کررہی ہے، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی ایرانی سرحد پر گرفتاری بڑی مثال ہے۔

گویا حالیہ چند بڑے واقعات کے تانے بانے اور قدموں کے نشان ایران جاتے پائے گئے ہیں، اگرچہ بلوچستان کے پہاڑی سلسلوں میں بلوچ عسکریت پسندوں کے کئی کیمپ موجود ہیں، ان کیمپوں کی طنابیں اگر افغانستان سے ملتی تھیں تو وہیں تہران سے بھی جڑی پائی جاتی ہیں۔ یہاں یہ امر بھی مدنظر رہے کہ ایران بلوچ عسکریت پسندوں کو اپنی ’بسیج‘ ملیشیاء کے ذریعے تعاون فراہم کرتا ہے۔ پاسداران انقلاب کے ماتحت یہ ملیشیا پورے ایران میں پھیلی ہوئی ہے، اس فورس سے داخلی سیکیورٹی، بچوں کی ذہن سازی اور ان کی عسکری تربیت، انقلاب مخالف عناصر کی نگرانی اور ان سے نمٹنے جیسے کام لئے جاتے ہیں۔

پاکستان سے ملحقہ ایرانی صوبے ”سیستان بلوچستان “میں یہ بارڈر سیکیورٹی فورس کے ہمراہ مل کر سرحدوں پر کام کرتی ہے، ان سرحدی علاقوں میں اس ملیشیاء کے اہلکار مقامی ایرانی بلوچ ہیں جو عسکریت پسندوں کی معاونت کرتے ہیں۔ ایران و بلوچستان کے سرحدی عوام کی زبان و قومیت ایک ہے، ان کے درمیان رشتے قائم ہیں، معاشی و تجارتی تعلق رکھتے ہیں، آبادیاں بھی جگہ جگہ منسلک ہیں، اکتوبر 2018ء میں امریکی حکومت نے ”بسیج“ فورس پر پابندی بھی عائد کی۔ کیچ میں 25 جنوری 2022ء کو فورسز پر حملہ جس میں 10 فوجی جوان جاں بحق ہوئے کے بعد، نوشکی و پنجگور کے سنگین حملوں کو بھی اس تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

کالعدم بی ایل اے کے اسلم اچھو دھڑے کے سربراہ بشیر زیب، کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ، بلوچ ری پبلکن آرمی اور باقی تنظیموں کے سربراہان بھی ایران آتے جاتے بتائے گئے ہیں۔ یہ گروہ ایران کی حدود سے آکر حملے کرچکے ہیں اور پناہ کیلئے واپس چلے جاتے ہیں، پاکستان نے دسمبر 2018ء میں کیچ میں ہونے والے ایک حملے کے بعد باقاعدہ اسلام آباد میں متعین ایرانی سفیر مہدی ہنر منددوست کو دفتر خارجہ طلب کرکے ایرانی سرزمین کے پاکستان کیخلاف استعمال پر احتجاج ریکارڈ کرایا، جانے کیوں پاکستان کا رویہ دھیمہ اور مصلحت پوشی پر مبنی ہے جبکہ ایران پاکستان کیخلاف بارہا شدید رد عمل دے چکا ہے، ایرانی فورسز پاکستان کی حدود میں بارہا داخل ہوئی ہیں، لوگوں کو اٹھا کر لے جاچکی ہیں، میزائل حملے کرچکی ہیں، آبادیوں کو مارٹر گولوں سے نشانہ بناچکی ہیں، چند سال پہلے تک پاکستان کی حدود میں ڈرون کی پروازیں معمول تھیں، پاکستانی فضائیہ نے جون 2017ء میں ایران کا ڈرون مار گرایا تو یہ سلسلہ رکا۔

حتیٰ کہ ایرانی فوجی حکام میڈیا کے ذریعے پاکستان کی حدود کے اندر کارروائیوں کیلئے سنگین نوعیت کی دھمکیاں بھی دے چکے ہیں، پاکستان کا رویہ تعاون کا رہا ہے، جس کی ایک مثال جون 2008ء میں جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریکی کے بھائی عبدالحمید ریکی کی ایران کو حوالگی کی ہے، جسے بعد ازاں ایران نے پھانسی دے دی۔

پاکستان نے انہی مشکلات کے پیش نظر افغان سرحد کے بعد 2019ء میں ایران کے ساتھ 909 کلومیٹر طویل سرحد پر بھی باڑ لگانے کا کام شروع کیا، مجموعی طور پر 1080 کلومیٹر طویل آہنی اور خاردار تاروں پر مشتمل باڑ لگانے کا خطیر مالیت کا منصوبہ ہے، جس پر اب تک 67 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ نوشکی، پنجگور حملے اس گروہ کے مجید بریگیڈ کے فدائین یونٹ نے کئے، یہ خودکش کارروائیاں تھیں، 2018ء میں چاغی میں چینی انجینئرز، کراچی میں چینی قونصل خانے، 2019ء میں گوادر میں پی سی ہوٹل اور 2020ء میں کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملوں کے برعکس نوشکی و پنجگور حملے بھیانک تھے۔ ان حملوں نے انٹیلی جنس اور حفاظتی حصار و نظام کو مات دے دی ہے۔

نوشکی آپریشن 3 فروری کی صبح تک مکمل ہوا جبکہ پنجگور میں ایف سی کیمپ اگلے 3 دنوں تک کلیئر نہ ہوسکا، دونوں شہروں میں کرفیو کی کیفیت تھی، ان شہروں کا ملک کے دیگر علاقوں سے مواصلاتی سمیت ہر قسم کا رابطہ منقطع رہا، نوشکی میں 9 اور پنجگور میں 7 عسکریت پسند مارے گئے، جن کی گروہ نے خود نام و تصاویر جاری کرکے تصدیق بھی کردی۔ مقابلے میں سیکیورٹی فورسز کے 9 اہلکار جاں بحق ہوئے جن میں 2 افسران بھی شامل تھے۔ آئی ایس پی آر نے پنجگور میں 5 اور نوشکی میں 4 اہلکاروں کے جاں بحق  ہونے کی تصدیق کی۔

چنانچہ بات چیت کی ضرورت ثابت ہوتی ہے، خصوصاً بلوچستان کے اندر حقیقی سیاسی جماعتوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے، البتہ سیاسی لوگ بھی دو رنگی اور فساد کا قلادہ اتار دیں، یقینی طور پر مصنوعی قیادت مسلط کرنے اور بالادستی کی سوچ و طرز عمل آئینی حقوق کا غصب ہونا۔ بلوچستان کے امن کی خرابی کی وجوہات ہیں۔ مصنوعی سیاسی جماعت اور ان پر مشتمل صوبائی حکومت کہ جس کی خواتین پارلیمنٹرین تک بدعنوانی میں لت پت ہیں، مسلط ہوں تو عوام کے جذبات اور رائے قطعی مثبت نہیں رہے گی؟۔ لہٰذا بلوچ معاشرے کے اندر رائے عامہ موافق بنانے کی ضرورت ہے، جو مستقل و بامعنی آئینی، سیاسی اور معاشی اقدامات کے بغیر ممکن نہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube