Saturday, January 29, 2022  | 25 Jamadilakhir, 1443

بلتستان کا قدیم تہوار مے فنگ

SAMAA | - Posted: Dec 21, 2020 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Dec 21, 2020 | Last Updated: 1 year ago

جشن مے فنگ گلگت بلتستان کے قدیم ترین تہواروں میں سے ایک ہے، یہ جشن ہزاروں سال سے منایا جارہا ہے، اپنی ثقافت و روایات سے محبت کرنے والے بلتتی لوگ آج بھی اس رسم کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

مے فنگ بلتی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی آگ پھینکنا ہیں، قدیم دور میں اس جشن کو بلتستان میں انتہائی جوش و خروش سے منایا جاتا تھا اور بلتستان کے کونے کونے میں آگ لہرانے کی تقریبات ہوتی تھیں، بچے، جوان، بوڑھے اور خواتین سب مل کر اس جشن کو مناتے تھے، گھر کے بڑے اپنے بچوں کیلئے ڈنڈوں کی مشعال بناتے جن کو مقامی زبان میں ڈانڈریا، لانڈر کہتے ہیں۔

جوان اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر محفل موسیقی سجاتے اور خواتین گھروں میں مزیدار روایتی پکوان تیار کرتیں، جن میں مارزان، اضوق، ہژب، کھوربلے ٹروبلے، ہژب بلے قابل ذکر ہیں۔ موسیقی، رقص اور آگ پھینکنے کا یہ سلسلہ رات بھر جاری رہتا ہے۔

جشن مے فنگ میں شام ہوتے ہی لوگ اپنے گھروں سے آگ کے گولے یا مشعلیں بناکر گروپ کی شکل میں گیت گاتے ہوئے نکلتے اور کسی بلند ٹیلے یا پہاڑی پر چڑھ جاتے ہیں اور وہاں ایک بڑا اجتماعی الاؤ روشن کرکے دائرے کی شکل میں بیٹھ کر قدیم گیت گانا اور رقص کرنا اس جشن کا اہم حصہ ہے، اس رقص کو آگ رقص جبکہ مقامی زبان میں مے ہژس کہتے ہیں۔

قدیم زمانوں میں جشن مے فنگ 21 دسمبر سے 3 ہفتے قبل اور 3 ہفتے بعد تک منایا جاتا تھا مگر دور حاضر میں بلتی لوگ صرف 21 دسمبر کو یہ جشن  مناتے ہیں اور بمشکل اس تہوار کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ جشن مے فنگ میں مشعلوں کو لہراتے ہوئے بلند مقام سے نیچے پھینکنے سے متعلق عقیدہ یہ تھا کہ گھروں سے جب آگ لے کر نکلتے ہیں تو گھر میں موجود آسیب بلائیں سب اس آگ کے ساتھ نکل جاتی ہیں، لوگ دعا کرتے کہ آنے والا وقت ہمارے لئے اچھا ہو، پانی وافر مقدار میں آئے اور فصلیں بہتر ہوں، یہ سب دعائیں مانگ کر پھر آگ کو بلندی سے نیچے پھینک دیا جاتا ہے۔

جشن مے فنگ تبتی کیلنڈر کے حساب سے سال نو کا آغاز ہے کیونکہ بلتستان میں تبتی لوگ زیادہ آباد ہیں اور پرانے زمانے میں یہ علاقہ تبت کا حصہ ہوا کرتا تھا، تو کچھ لوگ اس جشن کو بدھا کا تہوار مانتے ہیں لیکن یہ گھر گھر آگ لہرانے کا تہوار تبت میں یا لداخ میں ہمیں نظر نہیں آتا، اس لئے اس تہوار کو تبت سے نہیں جوڑا جاسکتا، اس کیلئے ہمیں بلتستان کی تاریخ کو دیکھنا ہوگا۔

قبل مسیح میں ان علاقوں میں دیو پرستش۔ بون مذہب۔ زرتوشی اور اسلام سے قبل بدھسٹ مذہب تھا، ہوسکتا ہے یہ دیو مذہب کے ماننے والوں کا تہوار ہو جو اپنے دیوتاؤں کو خوش کرنے کیلئے ایسا کرتے تھے۔ محمد یوسف حسین آبادی اپنی کتاب تاریخ بلتستان میں لکھتے ہیں کہ محقق جان بڈلف کہتا ہے یہ علاقہ زرتشی مذہب کے ماننے والوں کا گہوارہ تھا اور لوگ دسمبر میں لمبی لمبی راتوں کو آگ کا بڑا تہوار کرتے تھے، عبادت خانوں میں چراغاں اور پوری سلطنت میں ہر جگہ آگ کے بڑے بڑے ڈھیر جلاتے اور ساری رات لوگ گاتے ناچتے اور تفریح کرتے تھے۔

اسی طرح بڈلف نے ایک اور مؤرخ کو نقل کیا ہے کہ ہندو کش کے پہاڑی سلسلے کو عبور کرکے قراقرام اور ہمالیہ کے دامن میں پہاڑوں کے درمیان ایک وادی ہے، وہاں کے لوگ دسمبر کی لمبی لمبی راتوں میں آگ کے تہوار مناتے ہیں، جگہ جگہ بلند مقامات پر آگ جلا کر گیت گاتے ناچتے نوجوان آگ لہرانے کی تقریب کرتے ہیں اور پوری وادی میں دسمبر میں آگ کے چراغاں کا سماں ہوتا ہے۔

جشن مے فنگ سے متعلق مزید تفصیلات جاننے کیلئے سُکردو کے رہائشی علی کاظم گولڈن سے بھی تفصیلی بات چیت ہوئی، جو سماجی کارکن اور تبت  بلتستان آرٹس کونسل کے ساتھ وابستہ ہیں، اس کے ساتھ ساتھ سکردو میں ایف ایم 91 ریڈیو پر بھی پروگرام کرتے ہیں۔ مے فنگ کے متعلق علی کا کہنا ہے کہ تاریخ اس تہوار کو کسی بھی قدیم مذہب سے جوڑے، بلتی لوگ یہ تہوار شاندار انداز میں مناتے آرہے ہیں۔ ستر اور 80 کے بعد اسلامی اور ایرانی ثقافت کے عروج کے باعث بلتستان کا یہ قدیم ثقافتی تہوار زوال پذیر ہوا۔ کچھ عرصہ قبل کسی نے اس کو آگ پرستشوں کا تہوار، کسی نے اس کو بدھسٹ مذہب کا تہوار قرار دیکر ختم کرنے کی کوشش کی لیکن پھر بھی بلتستان میں یہ تہوار مکمل طور پر ختم نہ ہوسکا۔

پچھلے دو 3 سالوں سے بلتستان کے فنکاروں نے اس تہوار کو قومی سطح پر منانا شروع کردیا۔ اس کوشش کو  بلتستان کی سطح پر کافی پذیرائی حاصل ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ تہوار پورے بلتستان میں پھر سے زندہ ہوگیا۔ اس کا سہرا بلتستان کے فنکاروں اور تبت بلتستان آرٹس کونسل کو جاتا ہے۔ اب پچھلے 3 سالوں سے حکومتی سطح پر پورے سُکردو میں اس تہوار کو شاندار طریقے سے منایا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ مے فنگ جشن منانے کی ایک وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ  بلتستان میں موسم سرما طویل ہوتا ہے۔ دسمبر جنوری کی سرد ترین راتوں میں پارہ منفی 30 ڈگری تک بھی گرتا ہے، ایسے میں یہاں زندگی بہت کٹھن ہوتی ہے، 21 دسمبر سے لمبی لمبی سرد راتیں آہستہ آہستہ چھوٹی اور دن بڑے ہونا شروع ہوجاتے ہیں تو یہ تہوار بہار کی آمد کی نوید کا جشن بھی ہوسکتا ہے۔

علی کاظم مزید کہتے ہیں کہ جشن مے فنگ ہمارے خطے کا تہوار ہے، ہم  اپنے مسلمان ہونے پر فخر کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے آباؤ اجداد کی ثقافت پر بھی فخر محسوس کرتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر ایسے تہواروں کو منانے، ثقافتی ورثہ کی حفاظت اور فن و ثقافت سے وابستہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کیلئے اقدامات کئے جائیں، تاکہ وطن عزیز پاکستان میں انتہاء پسندانہ سوچ کا خاتمہ ممکن ہو اور تب ہی پیار، محبت، امن بھائی چارے کو عروج ملے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube