Saturday, January 29, 2022  | 25 Jamadilakhir, 1443

پاکستان کی شہری کچی آبادیوں میں معاشرتی دوری ایک چیلنج

SAMAA | - Posted: Apr 30, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Apr 30, 2020 | Last Updated: 2 years ago

سماجی دوری سے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکتا ہے مگر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے شہروں کی کچی آبادیوں کے باشندے سماجی دوری کیسے اختیار کریں؟ جبکہ اشرافیہ سے لے کر متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کےلئے یہ نسبتا آسان ہے کہ اپنے گھروں میں آرام سے محفوظ رہیں اور اچھی حفظان صحت برقرار رکھیں لیکن یہ کراچی کی اکثریت کےلیے حقیقت سے دور ہے۔ ان بستیوں کے باشندوں کےلئے سماجی دوری مراعات کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ تمام اسکے متحمل نہیں ہیں۔

بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ان آبادیوں میں صاف پانی اور صفائی ستھرائی کی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہاں کے رہائشی ’عالمی ادارہ صحت‘ اور حکومت کی تجویز کردہ سماجی دوری اور حفظان صحت کے ضوابط پر عمل کرتے ہوئے بار بار ہاتھ دھونے سے قاصر ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہے کہ پاکستان کے بڑے شہر کوویڈ19 بحران کی صف اؤل پر ہیں۔

جنوبی ایشیاء کے 2کروڑ آبادی کے شہر کی تقریباً 62 فیصد آبادی غیر رسمی بستیوں میں رہنے پر مجبور ہے۔ اس میں 575 سے زائد بستیاں سندھ کچی آبادی اتھارٹی کے تحت رجسٹرڈ ہیں جبکہ 800 سے زائد گوٹھ ’سندھ گوٹھ آباد اسکیم‘ کے تحت رجسٹرڈ ہیں- اسکے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں جھگی جھونپڑیاں، کئی کچی آبادیاں اور گوٹھ ایسے ہیں جن کے متعلق اعداد و شمار حکومتی اداروں کے پاس بھی نہیں۔ جس کے سبب اچھی پالیسیاں بنانا اور ان آبادیوں کی بہتری و ترقی سے متعلق کام بہت مشکل ہے۔

کراچی کے دوسرے حصوں بشمول دیہی علاقوں کے، ایشیا کی سب سے بڑی کچی آبادی، اورنگی ٹاؤن کے بہت سے مکینوں کو بھی یہی مسائل درپیش ہیں۔ ان کےلیے سماجی دوری اور حفظان صحت کو برقرار رکھنے کےساتھ بار بار ہاتھ دھونا تقریبا ناممکن ہے۔ ہم لاک ڈاؤن کے دوران مشاہدہ کر رہے ہیں، ’’ٹاؤن کے اندر، ہر کوئی سڑکوں پر نظر آتا ہے چاہے وہ بچہ ہو، نوجوان ہو یا بوڑھا۔‘‘

اورنگی ٹاؤن کے مکین صابر کا کہنا ہے کہ حکومت نے پارکوں اور دیگر مقامات کو بند کر دیا ہے اورغریب خاندانوں کے پاس تازہ ہوا کےلیے کوئی بھی جگہ نہیں ہے جبکہ پوش علاقوں میں رہنے والوں کے گھروں میں لاتعداد کمروں کے علاوہ باغات حتیٰ کہ سوئمنگ پول تک موجود ہیں۔ یہاں میں 40گز پر مشتمل ایک کمرے کے مکان میں اپنے 4 بچوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ پہلے یہ مکان 80گز پر تھا پھر بھائی کی شادی کی تو اسے آدھا آدھا تقسیم کرلیا۔ پیشے کے لحاظ سے مزدور ہوں اتنے پیسے نہیں کہ پکی چھت بنوا کر اوپر کمرہ بنا سکوں- لوگ باہر کی بات کر رہے ہیں یہاں گھر اور محلے میں خطرناک صورتحال ہے کیونکہ یہ بھیڑ والا علاقہ ہے ایک مکان کا دروازہ دوسرے سے ملا ہوا ہے اور تین فٹ کی گلی ہے جبکہ نل کے پانی کی فراہمی ناپید ہے۔ اس گلی سے نکل کر دیکھیں تو روڈ پر کھیلتے ہوئے اور پتنگ اڑاتے ہوئے بچے نظر آئیں گے۔ یہ سماجی دوری اور بار بار ہاتھ دھونا یہ عیاشی ہم تو نہیں کرسکتے- یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ اگر کوئی بیمار ہو جائے تو اس کےلئے علیحدہ کمرہ نہیں ہے- انہوں نے بتایا کہ آبادی کے وہ لوگ جو روڈ کے ساتھ رہتے ہیں وہ ٹینکروں سے پانی خریدتے ہیں جو بہت مہنگا ہے۔ میری گلی میں تو ٹینکر بھی نہیں آسکتا ان میں سے کئی ٹینکر کے پانی کو بیچتے ہیں تو تھوڑا ہم بھی خرید لیتے ہیں مگر یہ تھوڑا تھوڑا استعمال کیا جاتا ہے اور اکثر صرف کھانا پکانے کےلئے استعمال ہوتا ہے۔

اسی طرح جھگی جھونپڑیوں کی بات کریں تو الیاس گوٹھ جو لیاقت آباد تین ہٹی کے پل کے نیچے ایک آبادی ہے جہاں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے 150 سے 200 خاندان بانسوں اور کپڑوں سے بنائی ہوئی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔ بنیادی سہولیات پانی، بجلی، گیس اور نکاسی آب سے محروم ہے۔ اس آبادی کے اکثر رہائشی پھولوں کے ہار بنانے کا کام کرتے ہیں جبکہ کچھ مچھلی بیچنے کا کام کرتے ہیں اور پچھلے ایک ماہ سے بےروزگار ہیں- یہ وہی آبادی ہے جہاں رواں سال جنوری میں آتشزدگی کا سانحہ ہوا تھا اور تمام جھونپڑیاں جل کر خاکستر ہوگئیں تھیں۔

بہت سارے پاکستانیوں بشمول اورنگی ٹاؤن اور الیاس گوٹھ جیسی آبادیوں کے رہائشیوں کے گھروں اور آس پاس کی تنگ گلیوں میں معاشرتی دوری تقریبا ناممکن ہے۔ انکے لئے ’جگہ‘ ایک عیش و آرام کی حیثیت رکھتی ہے جس سے وہ محروم ہیں۔ حکومتی سطح پر اس طرح کی بستیوں کےلیے کسی بھی طرح کے اقدامات نہیں کیے جا رہے جوکہ تشویشناک ہے جبکہ دنیا بھر میں غیر رسمی بستیوں کےلیے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں کوویڈ19 کے وباء کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش میں، ’’محکمہ انسانی بستیوں‘‘ نے ملک بھر میں غیر رسمی بستیوں میں مقیم ہزاروں افراد کےلئے بڑے پیمانے پر انخلا کا منصوبہ بنایا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنوبی افریقہ کے 9 میں سے 4 صوبوں میں غیر رسمی بستیاں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کےلئے ’محفوظ علاقوں‘ میں چلے جانے والے اقدام پر عمل درآمد کے مراحل میں ہیں۔ اس نقل مکانی کا مقصد یہ ہے کہ بستیوں میں رونما ہونے والے انتہائی گھنے رہائشی حالات کا مقابلہ کرنا ہے اور جس کے نتیجے میں وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ اور انفیکشن کی شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ہم نیو یارک، فرانس یا اٹلی کو دیکھیں تو یہ ممالک پہلے سے ہی اپنے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے لحاظ سے ترقی یافتہ ہیں اور یہاں صاف پانی، صفائی ستھرائی و دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی موجود ہے مگر اسکے باوجود وہ وبائی بیماری سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ہم نے دیکھا ہے کہ یہ وائرس بالکل ناقابل تصور رفتار سے پھیلتا ہے۔ تو ہم پاکستان کے شہروں میں موجود ان آبادیوں کے بارے میں سوچتے ہیں کہ ان کچی آبادیوں کا کیا ہوگا؟

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube