Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

جناب وزیراعظم ! مکتب سیاست کاسبق پھرسے یاد کریں

SAMAA | - Posted: Dec 29, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 29, 2018 | Last Updated: 3 years ago

تصاویر بولتی ہیں ۔۔ اس ایک جملے کی اہمیت کا اندازہ ان لوگوں کو بخوبی ہوگا جو جذبات واحساسات رکھتے ہیں، جو کسی کی چکمتی آنکھوں کے پیچھے چھپی نمی اور ہنستے کھلکھلاتے چہروں کے پیچھے چھپا کرب دیکھ سکتے ہیں۔ یہ تصویریں وقت کی قید سے آزاد ہوتی ہیں ، ان میں جو لمحہ ٹھہرگیا سو ٹھہرگیا۔ کچھ تصویریں آپ کو مجبورکرتی ہیں کہ کھوج لگاؤ، حقیقت وہ نہیں جو نظر آرہی ہے تو کچھ دیکھنے والوں کو مشکل میں ڈالے بغیر اپنا حال خود بتلاتی ہیں۔

شاید اسی لیے انگریزی میں کہا جاتا ہے کہ

A picture is worth a thousand words

پڑھ کر یہ مت سوچیے گا کہ اس جملے کو اردو میں کیسے بیان کریں گے کیونکہ اس کا سلیس ترجمہ ہمارے عزت مآب وزیراعظم عمران خان صاحب نے کیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹرپروزیراعظم نے ایک تصویر شئیر کی جس میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار غالبا سی ایم ہاؤس کے شاہانہ ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہیں اور ان کے ساتھ تین سادہ لوح دیہاتی حضرات براجمان ہیں۔ وزیراعلیٰ کے ہاتھ میں پکڑے کاغذ اور ان کے چہرے کے تاثرات پھر ’’تصویریں بولتی ہیں‘‘ کے نقطے پرلاکھڑا کرتے ہیں۔ (ہمیں تو اس تصویر نے ماتھے کے بل بتائے اور انداز واطوار میں تھوڑی بیزاری جھلکتی دکھائی) تو تینوں سادہ منش آدمیوں کے چہروں پر کسی دیرینہ مسئلے کے حل کیلئے ’’بڑے صاب‘‘ سے بندھی امید نظرآتی ہے۔

تصویر پرتوکوئی اعتراض نہیں کیونکہ نہ جانے کتنے ایسے سائلین ایک چھوٹے سے کام کیلئے کہاں کہاں اور کس کس کے در کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں کہ شاید کام بن جائے۔ یہاں تو بات پھر بھی جنوبی پنجاب جیسے محروم خطے سے پہلی بار منتخب ہونے والے وزیراعلیٰ کی ہے جن کا اولین فرض بنتا ہے کہ وہ سرائیکی وسیب کی داد رسی کریں۔

حیرت توبس ایک بات پر ہوئی کہ وزیراعظم صاحب نے اس تصویر کو اپنے ٹوئٹرپیج پرشیئر کیا اور اسے ہزاروں الفاظ پر بھاری قراردیتے ہوئے ’’نئے پاکستان‘‘ کی ایک جھلک قراردیا۔ اختلافی پہلو یہ نکلتا ہے کہ قبلہ ۔۔۔ کہاں کی اور کیسی جھلک؟ اگر بات صرف ’’چھوٹو ں‘‘ کو ’’بڑوں‘‘ کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا دکھا کر اس اقدام کو بہت ہی اعلیٰ و ارفع ثابت کرناہے تو معذرت۔۔۔ ایسے مناظر تو ہرحکومت میں نظرآتے ہیں اورآتے رہیں گے۔ خان صاب کے صف اول کے مخالفین شریف برادران میں سے چھوٹے میاں کے روزوشب تو انہی معمولات کے تحت گزرتے تھے تو پھر وہ کیوں پرانا پاکستان تھا؟۔

حیرت تو ایک اور بات پربھی ہوئی کہ وزارت عظمیٰ کا منصب اورایسی دوراندیشی؟ کیا کہنے، کیونکہ ریاست چلانے والوں کی نظر اگر ایک تصویر سے بھی نہیں چوک رہی اور اس مصروفیت کے عالم میں دیکھنے کے بعد اس کی ’’بھرپور تشہیر‘‘ بھی کی جا رہی ہے تو پھر کیا ہی کہنے ایسی سیاسی بصیرت کے۔ اس ٹویٹ نے 100 دن پورے ہونے کے بعد ’’ہم مصروف تھے‘‘ کے بینر تلے حکومتی حسن کارکردگی کی شاندار نمائش کی یاد تازہ کرادی، جہاں اخباری تراشوں سے بگڑے کام سنوارنے کیلئے کسی عامل بابا کے تیر بہدف نسخے جیسا کام لیام گیا تھا۔

اس تصویرکو دیکھ کرنہ جانےکیوں یہ سوچ بھی آئی کہ دوسروں پر تنقید کرنا بڑا آسان ہے لیکن جب ان کے گلے سے اتراڈھول خود بجانا پڑے تو لگ پتہ جاتا ہے۔ کیسے اور کیوں کی بحث میں پڑے بغیرعمران خان کی 22 سالہ سیاسی جدوجہد کا صلہ انہیں وزارت عظمیٰ کی صورت میں ملنے پر ہمیں بھی خوشی ہوئی تھی لیکن کیا ہے نہ کہ اس صلے کے ایسے’’’ثمرات‘‘ ہضم کرنا تھوڑا مشکل ہو رہا ہے۔

عرض بس یہ کرنا تھا کہ جناب کارکردگی وہ جو منہ سے خود بولے، ایسی تصویروں کی محتاج نہ ہو۔ گھر میں بجلی سے بھی محروم بھلے مانس اور بیچارے عثمان بزدار بےشک آپ کے چہیتے ہوں لیکن عوام کو ڈی پی او پاک پتن کو عہدے سے ہٹانا اوراس کے پس پردہ محرکات ابھی بھولے نہیں، زیادہ دور نہ جائیں تو ابھی تو اعظم سواتی کی ’’غریب پروری‘‘ بھی ذہنوں میں تازہ ہوگی ۔ ایسے میں ایک تصویر کو نیا پاکستان کی جھلک قرار دینا؟ چہ معنی ندارد۔ اور تو اور مرادسعید کی ڈوبتے کو تنکے کا سہارا جیسی 200 ارب روپے واپس لانے والی بات بھی تو یاد آہی جاتی ہے۔

جناب وزیراعظم آپ کی دیانتداری اور وژن پر کوئی شبہ نہیں لیکن ۔۔۔ 100 روزہ پلان پر پھرنظرثانی کریں اور وزرا کو تازہ دم کرکے پھرسے یاددہانی کرائیں کہ کیا کرنا تھا اور کیا کر رہے ہیں ، توہی تنقید سے چھٹی ملنا ممکن ہوگا ورنہ مخالفین تو اس مکتب سیاست کے سارے سبق یاد کرکے بیٹھتے ہیں۔ آپ نے یہ سب کرلیا تو پھر مثبت رپورٹنگ تو ہماری ذمہ داری ہے ہی ۔

اللہ آ پ کا اورہماراحامی وناصرہو۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube