Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

ٹھپے والا ہاتھ اور بھائی پھتو

SAMAA | - Posted: Dec 28, 2018 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Dec 28, 2018 | Last Updated: 3 years ago

ہمارے محلے  میں بھائی پھتو سب کی آنکھوں کا تارا ہیں، ہر ایک کا کام بلامعاوضہ کردیتے ہیں، آنٹی کو نمک منگوانا ہو یا خالہ کو سرف کی ضرورت ہو، کسی کے گھر آٹے کو تھیلا پہنچانا ہو یا کسی کے بچوں کو اکیڈمی سے لے آنا ہو، بھائی پھتو صرف ایک آواز پر پہنچتے ہیں، بچپن سے ہی انہیں خدمت خلق کرتے دیکھتا آیا ہوں، سنا ہے کسی دور میں سرکاری ملازمت بھی کرتے تھے، نام شاید فتح محمد تھا لیکن  کثرت استعمال سے ان کا نام پھتو پڑ گیا، سارے زندگی شادی نہیں کی، سنا ہے انہوں نے جوانی میں کسی  سے محبت بھی کی تھی،اور زمانہ ان کے ساتھ چال چل گیا، سسرال کی ڈیمانڈز پوری نہ کرنے پر ان کی محبت انہیں نہیں ملی اور  وہ شادی نہ کرسکے ، یہی نہیں انہوں نے ساری زندگی شادی نہ کرنے کی قسم کھا لی، تادم تحریر بھائی پھتو کنوارے ہی ہیں۔

       یہ داستان صرف بھائی پھتو ہی کی نہیں بلکہ پاکستان کے تقریبا ہر گھر کی ہے ، گذشتہ دنوں فنکاروں نے سوشل میڈیا پر جہیز خوری بند کرو مہم چلائی ، یقینا یہ ایک اچھی مہم ہے ، پاکستان میں  لاکھوں لڑکیاں ہاتھ میں مہندی سجانے کے سپنے دیکھتے دیکھتے اس جہیز کی لعنت کے باعث بالوں میں چاندی سجا لیتی ہیں، جہیز ہی کے باعث گھر کی رحمت والدین کیلئے زحمت بن جاتی ہے.

اسی جہیز خوری کے باعث  بنت حوا کے ارمان اور سپنے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ یقین جانیں جہیز خوری کے حوالے سے جتنا پاکستان میں لکھا گیا یا آگہی مہمات چلائیں گئیں ، اتنی کسی بھی ملک میں نہیں چلائی گئیں، شادی تو خاندانوں کے درمیان اعتماد ، تعلقات اور محبتوں کے فروغ کا ذریعہ ہوتا ہے، لیکن ہم  اس ذریعے کو مادیت پرستی کی ایسی لعنت میں ضائع کردیتے ہیں کہ الامان الحفیظ ۔جہیز خوری ایک قابل مذمت اقدام ہے۔

 لیکن کبھی سوچا گیا کہ شادی سے قبل لڑکے کی نوکری، لڑکے کا سماجی  تعلق، گاڑی ، بنگلہ اور فیملی بزنس پر توجہ دی جاتی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ دونوں خاندان شادی کی بات نہیں بلکہ بزنس ڈیل کر رہے ہوں ، اگر یہ ڈیل کہیں منطقی انجام تک پہنچ جائے تو اس کے بعد دولہے میاں کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے،برائیڈل شاوور کے نام بے دریغ پیسے کابہاؤ۔ہماری بیٹی کیلئے  ڈیزائنرز کلیکشن، منگنی فنکشنز، مایوں کے انتظامات کرو،پری مہندی فنکشنز، مہندی فنکشنز، پری بارات فنکشنز، بارات سیلیبریشنز کے اخراجات اٹھاؤ، ولیمہ اور پھر ان سب کو کور کرنے کے لیے چوبیس گھنٹوں کے حساب سے موجود جانے مانے پروفیشنل فوٹوگرافرز کو ہائیر کرو۔ زندگی بھر کی جمع پونچی سسرال کی ناک اونچی کرنے پر لٹا دو۔دس دس تولے سونے کے زیورات  کی ڈیمانڈ بھی دلہے سے ہی کی جاتی ہے۔

مڈل کلاس تو اسی  ذہنی انتشار میں مبتلا رہتی ہے۔ ایک شادی کیلئے لاکھوں روپے لٹا دئیے جاتے ہیں، اگر جہیز خوری ایک لعنت ہے تو لڑکی والوں کے مطالبات بھی قابل ستائش نہیں ہیں، جہاں بیٹی بیاہی جاتی ہے ، ان کی ساری جمع پونجی لٹا دی جاتی ہے، ایک نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو اس کی شادی کرا دی جاتی ہے،ماسٹرز کی ڈگری مکمل کرنے والے نوجوانوں کو  ابتدا میں  اوسطاََ 30 سے 40 ہزار کی نوکری ملتی ہے، جبکہ اس کی شادی پر  کم ازکم 20 سے 25 لاکھ کے اخراجات آجاتے ہیں۔

شادی کے بعد ایک نئے رشتے کی بنیاد رکھی جاتی ہے، محبت اور اخوت کا ایک نیا دور پروان چڑھتا ہے، مگر لڑکے والوں اور لڑکی والوں کے مطالبات اس تعلق کو ابتدا ہی میں نہ چاہتے ہوئے بھی نفرتوں کا شکار بنا دیتے ہیں۔

ضرورت  اس امر کی ہے کہ سرکاری سطح پر اور معاشرتی سطح پر نوجوان نسل میں شادی بیاہ کی فضول رسومات کے خلاف آگہی پھیلائی جائے ، کیوں کہ نوجوانوں ہی میں وہ صلاحیت ہے کہ وہ جاہلانہ رسومات اور دولت کے ضیاع کیخلاف علم بغاوت بلند کرسکتے ہیں۔

لڑکے اور لڑکی والے باہمی اعتماد کو فروغ دیں ، کیوں کہ قرض کی رقوم کے ذریعے نمود و نمائش جہاں مستقبل میں پریشانیوں کا باعث بنتی ہے ، وہیں عائلی زندگی میں بھی سکون نہیں ملتا۔کئی پھتو بھائی سسرال کی ڈیمانڈز پوری نہ کرنے کی وجہ سے زندگی کے سفر کا آغاز نہیں کرسکتے ، دوسری جانب جہیز کی رقم نہ ہونے کے باعث لڑکیاں بھی بالوں میں چاندی سجا لیتی ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube