Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

ایک ہزار روپے میں ویمنز ورلڈ چیمپئن بننے کی خواہش

SAMAA | - Posted: Dec 20, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 20, 2018 | Last Updated: 3 years ago

جو بو گے وہی کاٹو گے” یہ محاوہ پاکستان ویمنز کرکٹ پر تو سو فیصد درست بیٹھتا ہے اور بیٹھے بھی کیوں نہ، آخر پاکستان کرکٹ بورڈ ایک ہزار روپے یومیہ وہ بھی محض تین ایونٹس میں دے کر ویمنز ورلڈ چیمپئن بننے کا خواب جو آنکھوں میں سجائے بیٹھا ہوتا ہے اور پوری قوم کو بے وقوف بنارہا ہوتا ہے۔

یہ بات سمجھنے کیلئے کسی راکٹ سائنس کو پرکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان دنوں کراچی میں ویمنز ٹرائنگولر ون ڈے کپ جاری ہے جبکہ اسی دوران ملتان میں قومی ٹی ٹوئنٹی کپ جاری ہے۔دونوں میں پاکستان کے موجودہ اور مستقبل کے ستارے ایکشن میں ہیں۔کراچی میں خواتین کھلاڑی اپنی صلاحیتیں دکھارہی ہیں تو ملتان میں مرد کرکٹرز اپنا لوہا منوارہے ہیں۔ یہ تو ہوگئی ایونٹس کی بات، اب ذرا ان کے معیار پر نظر ڈالی جائے تو ملتان میں جو ٹیمیں کھیل رہی ہیں اس میں شامل انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو ایک لاکھ روپے مل رہے ہیں۔ یہ کھلاڑی  سینٹرل کنٹریکٹ کے حامل ہیں اور جو انٹرنیشنل کھلاڑی نہیں ہیں ان کو فی میچ کم ازکم تیس ہزار روپے مل رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ملتان کے سب سے بڑے ہوٹل میں قیام و طعام کے ساتھ ساتھ 700 روپے یومیہ کھانے کی مد میں بھی ادا کیے جارہے ہیں جس میں ناشتہ ہوٹل کی جانب سے اور میچ کے دوران کھانا ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے ملتا ہے۔ جبکہ کراچی میں حال ہی میں ختم ہونے والی ویمنز ون ڈے ٹرائنگولر سیریز کی خواتین کھلاڑیوں کو نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں شیئرنگ پر ایڈجسٹ کرنے کے ساتھ میچ فیس کے نام پر ٹھینگا دکھایا گیا البتہ یومیہ ایک ہزار روپے ہر لڑکی کو دیئے گئے یعنی پورے ایونٹ کے محض گیارہ ہزار روپے فی کس لڑکی کو ادا کیے گئے ۔ اس کے علاوہ ایک روپیہ بھی نہیں ملا جبکہ مینز قومی ٹی ٹوئنٹی میں جو عام کھلاڑی فائنل تک سارے میچز کھیلے گا،اسے صرف میچ فیس کی مد میں دو لاکھ روپے کے قریب اور اگر وہ سینٹرل کنٹریکٹڈ ہے تو دس لاکھ روپے ملے ہیں۔

ویمنز کرکٹ کے ساتھ ایک اور بڑی زیادتی یہ ہے کہ انہیں پورے سال میں کرکٹ بورڈ کی جانب سے دو ایونٹس ملتے ہیں جبکہ ایک ایونٹ اسٹیٹ بینک کرواتا ہے یعنی مجموعی طور پر تین ایونٹس اور یوں سال بھر کی تینوں ایونٹس کے یومیہ الاؤنس کی مد میں محض30 ہزار روپے تک ملتے ہیں جبکہ مینز کرکٹ میں قائداعظم ٹرافی کھیلنے والے کو 50 ہزار روپے سے زائد فی میچ ملتے ہیں جبکہ ون ڈے کے 35 اور ٹی ٹوئنٹی کے فی میچ کی مد میں30 ہزار روپے ملتے ہیں۔ اب آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ میں ویمنز کرکٹ کے ساتھ سہولتوں کے نام پر کیا دھوکہ ہورہا ہے؟

اسی طرح اگر سینٹرل کنٹریکٹ کی بات کریں تو مینز کیٹگری کی اے کیٹگری کو8 لاکھ 75 ہزار روپے ماہوار جبکہ ویمنز اے کیٹگری کو ایک لاکھ بیس ہزار روپے کے قریب ماہوار ملتا ہے۔ مینز بی کیٹگری کو ساڑھے پانچ لاکھ روپے ماہوار جبکہ ویمنز بی کیٹگری کو تقریبا اسی سے نوے ہزار روپے ماہوار ملتے ہیں۔ مینز سی کیٹگری والے کو تین لاکھ پچھتر ہزار روپے ماہوار جبکہ ویمنز سی کیٹگری والی کھلاڑی کو تقریبا ساٹھ سے ستر ہزار روپے ماہوار ملتے ہیں مینز میں ڈی اور ای کیٹگریز بھی ہیں جنہیں ایک لاکھ نوے ہزار اور ایک لاکھ روپے ماہوار بھی ملتے ہیں۔

مینز کیٹگری میں پاکستان کی ٹیسٹ فیس چار لاکھ روپے فی میچ، ون ڈے میں فی میچ تین لاکھ اور ٹی ٹوئنٹی میں فی میچ تقریبا ایک لاکھ پچیس ہزار روپے میچ فیس ملتی ہے۔ ویمنز کرکٹ میں ون ڈے کی فیس تقریبا پچاس ہزار اور ٹی ٹوئنٹی کی میچ فیس تقریبا چالیس ہزار روپے ہے۔

مینز کو سال بھر کرکٹ کے بیک ٹو بیک ڈومیسٹک و انٹرنیشنل ایونٹس ملتے رہتے ہیں جن میں ایمرجنگ، اے ٹیم اور جونیئر ٹیم کے ملکی و انٹرنیشنل میچز بھی شامل ہیں جبکہ ویمنز کو ایسے کسی ایونٹ کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا جاتا،مطلب ویمنز میں خاک ٹیلنٹ سامنے آئے گا یا مستقبل کے ستارے مل پائیں گے کیونکہ خواتین کو انڈر نائنٹین اور نہ ہی ایمرجنگ یا اے ٹیمیں بنا کرٹورز کروائے جاتے ہیں۔

حد تو یہ ہے کہ ویمنز کرکٹ سے جڑے آفیشل کی موجیں ختم ہی نہیں ہورہیں۔ حال ہی میں کراچی میں ختم ہونے والے ویمنز ایونٹ میں لاہور سے آفیشل تو بذریعہ پرواز لاہور سے کراچی پہنچے اور وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ ساتھ بہترین رہائش اور بھاری ڈیلی بھی بٹوری ایونٹ ختم ہوا تو یہ آفیشلز اسی شاہانہ انداز میں لاہور کو واپس ہولیے لیکن اس ایونٹ میں چیمپئن بننے والی نیشنل و انٹرنیشنل کھلاڑیوں سمیت دیگر ٹیموں کی کھلاڑیوں کو بس کے ٹکٹ تھمادیئے گئے یعنی سارا دن دھوپ میں ون ڈے میچ کھیلنے کے بعد وہ بیچاری اٹھارہ گھنٹے کے سفر کیلئے راتوں رات بس کے ذریعے لاہور روانہ کردی گئیں۔ اور سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ تھی کہ نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کے احاطے میں موجود کرکٹ اکیڈمی جہاں ان خواتین کھلاڑیوں کو رہائش دی گئی تھی کو مذکورہ بس سروس تک پہنچنے کیلئے ایک بس بھی چندہ کرکے (فی کس ڈھائی سو روپے) بک کروانی پڑی جس کے ذریعے وہ اپنی منزلوں کو روانہ ہونے کیلئے بس اڈے پر پہنچیں۔

صرف میچ فیس کے فرق کے بعد اس بات کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں کہ ہم خواتین کھلاڑیوں سے توقعات تو آسمان کو چھونے کی کرتے ہیں اور حقیقتا کرکٹ بورڈ انہیں زمین پر کھڑے ہونے کی سہولت بھی نہیں دیتا ایسے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہزار روپے یومیہ میں ورلڈکپ جیتنے کی خواہش کسی دیوانے کے خواب سے کم نہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube