Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

ہمیں مار کیوں نہیں دیتے

SAMAA | - Posted: Dec 19, 2018 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Dec 19, 2018 | Last Updated: 3 years ago

پیر کا دن عموما سستی کے ساتھ آتا ہے، علی الصبح اٹھنے کو جی نہیں کرتا، لیکن گذشتہ روز مقبوضہ کشمیر سے آئی ٹیلی فون کال نے میری آنکھ کھول دی، سری نگر سے صحافی دوست کا ٹیلی فون تھا، وہ بتا رہا تھا کہ سری نگر سمیت وادی کے بیشتر حصوں میں کرفیو لگا دیا گیا ہے، انٹرنیٹ سروس مکمل بند کردی گئی ہے جبکہ حریت رہنماوں اور عام کشمیریوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ میں اس کی اطلاع پر بالکل بھی حیران نہیں ہوا کیوں کہ یہ کشمیر میں روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ نوجوانوں ، بزرگوں کی گرفتاریاں اور ماروائے عدالت قتل عام کا نہ رکنے والا سلسلہ کوگذشتہ کئی دھائیوں سے جاری ہے، مگر گذشتہ دنوں پلوامہ میں ہونے والا واقعہ انسانیت کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ کے مترادف ہے، بھارتی فوج نے پلوامہ میں چودہ نہتے کشمیریوں کو یکے بعد دیگر گولیوں سے بھون ڈالا، اس دوران ستر سے زائد کشمیری زخمی بھی ہوئے، یہ گذشتہ چند سالوں کے دوران قتل عام کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔

ان چودہ نوجوانوں میں سے تین نوجوانوں کی شناخت ہوئی ہے ، جن میں سے ایک چودہ سالہ بچہ ، عاقب احمد بٹ ہے،کرکٹ کا شوقین ، شاہد آفریدی اسکے پسندیدہ کھلاڑی اور نویں جماعت کا طالب علم ہے۔ بھارتی فو ج کے آپریشن کے دوران گھر سے باہر نکلا اور پھر گھر واپس نہ آیا، بچے کا والد آپریشن کے زخمیوں کی عیادت کیلئے ہسپتال پہنچا اور سامنے اپنے لخت جگر کی لاش نظر آگئی۔لیاقت احمد ڈار گیارہویں جماعت کے امتحان سے فارغ ہونے کے بعد اپنے والد کیساتھ دودھ فروخت کرتا تھا، بھارتی فوج کے آپریشن کے دوران اسکے والد کام کے سلسلے میں سری نگر تھے، اور یہ جوں ہی باہر نکلا اور اسے گولیوں سے بھون ڈالا گیا، ایک سب سے ظالمانہ قتل عابد حسین کا تھا، انڈونیشیا سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی، وہاں ہی انڈونیشین خاتون سے شادی کی ، اور اب گاوں واپس آکر ماحولیات پر کام کر رہے تھے، آپریشن کے دوران انہیں بھی بھارتی جبر کا نشانہ بنایا گیا اور ماحول کو صاف اور خوبصورت بنانے کا ارمان لئے عابد حسین بھی بارود بھری فضاء میں آخری سانس لے کر داعی اجل کو لبیک کہہ گیا، شہید کی ایک تین ماہ کی معصوم بیٹی بھی ہے۔ چودہ شہدا میں سے ہر ایک کی داستان آنسو ، سسکیوں اور دکھوں سے لبریز ہے، جس کے لئے پتھر دل اور چیتے کا جگر چاہیے۔

پلوامہ کے اس قتل عام کے خلاف حریت کانفرنس نے وادی میں احتجاج کی کال دی ،، جس کے بعد جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے بادامی باغ میں آرمی کیمپ کی طرف جانے کا اعلان کیا، مظاہرین کا ایک ہی سلوگن تھا کہ ہم سب کو الگ الگ مارنے کی بجائے ایک ساتھ ہی قتل کردو، ہم اجتماعی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کو آگئے ہیں۔ ان مظاہرین میں یاسین ملک ، ان کی بہن اور ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین شامل تھے، جنہوں نے کفن کا لباس پہن رکھا تھا جس پر انڈین آرمی ہم سب کو مار دو کے نعرے درج تھے۔ بھارتی فوج نے ان پرامن مظاہرین کیخلاف بھی طاقت کا بے دریغ استعمال کیا، یاسین ملک کی عمر رسیدہ بہن کو تشدد کا نشانہ بنایا جسکے باعث ان کی حالت غیر ہوگئی جبکہ یاسین ملک اور دیگر درجنوں قائدین کو بھی گرفتار کرلیا۔

بھارتی ظلم و جبر سے بزرگ شہری ، خواتین اور نوجوان تو ایک طرف معصوم بچے بھی محفوظ نہ رہے، چند ماہ کی معصوم ہبہ بھی پیلٹ گن سے متاثرہ افراد میں سب سے کم عمر ہے، مودی سرکار اقوام عالم اور اپنے عوام کے سامنے بلند وبانگ دعوے کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے لیکن معصوم کشمیریوں پراپنی افواج کے مظالم سے نگاہیں چرا نے کی کوشش کرتے ہیں۔ کشمیری نوجوانوں کو پیسوں کا لالچی قرار دیتے ہیں، بھارتی جنرل بپن راوت صاحب تو گولی کو بولی سے زیادہ پر اثر گردانتے ہیں۔ لیکن یہ دونوں بھارتی بڑے شاید اس بات سے بے خبر ہیں کہ کشمیری کہساروں کے شیر بیدار ہوچکے ہیں،، چناروں کی بلندی پر محو پرواز شاہین اب اپنی منزل آزادی کے لئے محو سفر ہیں اور انہیں دنیا کی کوئی بھی طاقت منزل سے دور نہیں رکھ سکتی، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو اقوام عالم کے سامنے مدلل اور موثر انداز میں پیش کرے تاکہ دہلی سرکار کا مکارانہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جاسکے۔

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube