Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

ساحلوں کی حفاظت،ابھی نہیں تو کبھی نہیں

SAMAA | - Posted: Nov 9, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 9, 2018 | Last Updated: 4 years ago

اب سے تین سال قبل کی بات ہے کہ فیملی پکنک کیلئے مبارک ولیج جانے کا سوچا گیا،ا س وقت مبارک ولیج کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے کیوں کہ یہ کراچی کے وسط سے تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ جس وقت پہلی مرتبہ جانا ہوا تو اس وقت یہ ساحل بہت خوبصورت تھا، نیلا صاف شفاف پانی، تا حد نگاہ پھیلا ہوا سمندر، ارد گرد پہاڑ ، اس ساحل کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے دکھائی دئیے۔  تین سال قبل اس ساحل کو دیکھ کر حیرانی ہوئی تھی کہ اتنا خوبصورت صاف شفاف پانی ہمارے سمندر کا بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ ہم کراچی والوں کو تو سی ویو کے گندھے پانی کو دیکھنے کی عاد ت سی پڑ گئی ہے۔  خیر اس وقت اکتوبر کا مہینہ تھا اور سمندر کی لہروں میں ٹہراو بھی تھا۔ تین سال قبل اس ساحل پر صرف جھونپڑیاں تھیں ، اردگرد کچے گھروں میں رہنے والے لوگوں کو پیسے دے کر ان کے گھروں کے باتھ رومز استعمال کئے گئے۔

تین سال قبل بھی نہ وہاں نہ بجلی تھی نہ اب ہے، نہ وہاں سوئی گیس کی سہولت موجود ہے، بجلی کےچند کھمبے ضرور موجود ہیں ، لیکن لائنیں اب تک نہیں ڈالی گئیں ،نہ کوئی اسپتال نا ایمرجنسی کی صورت میں طبی امداد فراہم کرنے کیلئے کوئی کلینک موجود ہے۔  اب کچھ عرصہ پہلے جب اس ساحل پر دوبارہ جانے کا اتفاق ہوا تو یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ اس ساحل کو بھی کراچی کے عوام نے گندا کردیا ہے، تین سال قبل اس کا پانی اتنا شفاف تھا کہ انسان اپنا چہرہ اس میں دیکھ لے، اب اس کا پانی بھی سی ویو کی طرح گدلا ہونا شروع ہوچکا ہے۔ لوگوں نے وہیں چیزیں کھاکر پھینکنا شروع کردی ہیں،اب وہاں قریب رہائش پذیر لوگوں نے پکے ہٹ تو بنادئیے ہیں لیکن انہیں بھی عوام نے خراب کرنا شروع کردیا ہے۔ اس علاقے میں سیکورٹی بھی نہیں۔ طغیانی کے دنوں میں وہاں لوگ ڈوب بھی سکتے ہیں لیکن قریب میں کوئی اسپتال قائم نہیں ہے۔ کچھ دور ایک اسپتال ہے لیکن وہ بھی کم سے کم ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ ایسے میں یہاں حادثات اور نقصانات کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

 اب حال ہی میں مبارک ولیج کے پانی میں تیل کی موجودگی کا شور مچا، پانی میں تیل مل جانے کی وجہ سے پورا ساحل خراب ہوگیا، ساتھ ہی سمندری مخلوق کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تیل پھیلنے کے ابتدائی دنوں میں جب خبریں آنی شروع ہوئیں تو اس وقت فوراً اس کی صفائی کا آغاز نہیں کیا گیا۔ میری ٹائم منسٹری کی طرف سے بعد میں ایکشن لیا گیا اور صفائی کے احکامات جاری کئے گئے، بعد میں ان کی طرف سے پریس ریلیز بھی جاری کیاگیا جس میں کہا گیا کہ ساحل کی صفائی کرلی گئی ہےا ور اب ساحل مکمل طور پر صاف ہے۔ اس کے علاوہ منسٹری آف پیٹرولیم کی جانب سے بھی یہی بیان سامنے آیا کہ ساحل کی صفائی کی جاچکی ہے، اب وہاں تیل موجود نہیں ہے۔ ایسے دنوں میں جب یہاں اور چرنا آئی لینڈ کے پانی میں تیل کی موجودگی کی باتیں سامنے آئیں تو رہائش پذیر ماہی گیر بھی پریشان نظر آئے، ان کے مطابق وہ  پہلے ہی حالات سے پریشان تھے، اب تو اس تیل کی وجہ سے سمندری مخلوق کو مزید نقصان پہنچا ہے اور انہیں اتنی تعداد میں مچھلیاں نہیں مل پارہی ہیں ۔

کراچی سے دو ڈھائی گھنٹے گھنٹے دور مبارک ولیج ہو یا چرنا آئی لینڈ، یا پھر بلوچستان کے نزدیک موجود ایسے ساحل جہاں لوگوں کی پہنچ ہوچکی ہے، ان تمام ساحلوں کی صفائی کا کام اس محکمے کی وزارت کو دیکھنا چاہئے،یہاں بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ لوگ یہاں آئیں اور فیملی کے ساتھ انجوائے کریں ،اس کے ساتھ ہی لوگوں کو گندگی پھیلانے پر جرمانہ بھی عائد کرنے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ان ساحلوں کے قریب ہی ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینسز اور ڈاکٹرز کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے اور ساتھ ہی تیل پھیلنے جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے جائیں اور اس کام میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جائے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube