Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

اپوزیشن جماعتیں اور پیپلز پارٹی کا متنازع کردار

SAMAA | - Posted: Aug 31, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 31, 2018 | Last Updated: 4 years ago

پچیس جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد روایتی طور پر ہارنے والی جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات لگائے اور جیتنے والی جماعت نے جشن منایا۔ دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت اپوزیشم جماعتوں نے متحدہ اپوزیشن بنا کر دھاندلی کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا مگر یہ اتحاد زیادہ عرصے نا چل سکا۔ قمر زمان کائرہ کے مطابق اسپیکر کے الیکشن سے قبل پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ شہباز شریف کو وزارت عظمی کے لئے ووٹ نہیں دیں گے کوئی دوسرا امیدوار لایا جائے جبکہ مسلم لیگ (ن) کا یہ الزام ہے کہ پیپلز پارٹی نے یوٹرن لیا اور اپوزیشن جماعتوں کو دھوکا دیا۔ اسپیکر کا انتخاب ہوا تو اپوزیشن جماعتوں کے متفقہ امیدوار اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما کو تمام اپوزیشن جماعتوں نے ووٹ دیا لیکن جب قائد ایوان کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو پیپلز پارٹی نے تاریخ میں خود کو متنازع بناتے ہوئے خاموشی اختیار کرلی۔ پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کو ووٹ نا دے کر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان دیوار کھڑی کردی ہے جس کا نقصان بھی صرف پیپلز پارٹی کو ہوگا۔ پیپلز پارٹی پر یہ الزام لگایا جا رہ ہے کہ وہ تحریک انصاف کی مدد کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی پر پی ٹی آئی کی بی ٹیم ہونے کا الزام بھی لگایا جا رہا ہے جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری مقدمات سے بچنے کے لئے پی ٹی آئی سے مک مکا کرنا چاہتے ہیں۔

صدارتی الیکشن کے لئے بھی پیپلز پارٹی نے ایسا کام کیا ہے جس سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت تحریک انصاف کے لئے آسانیاں پیدا کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت کے بغیر پارٹی رہنما اعتزاز احسن کو صدارتی امیدوار نامزد کر کے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد اور ٹوٹتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا دیتے ہوئے خود کو اپوزیشن جماعتوں کی صف سے الگ کھڑا کر دیا۔ مسلم لیگ (ن)، متحدہ مجلس عمل پاکستان، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی متفقہ طور پر مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن کی جانب سے صدارتی امیدوار نامزد کر کے پیپلز پارٹی کو اینٹ کا جواب پتھر سے دے دیا۔ چار ستمبر کو صدارتی الیکشن ہونے ہیں اور آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید کو بھی چار ستمبر تک عدالتی ریمانڈ میں رکھا جائے گا، یہ محض اتفاق ہے مگر باتیں بنانے والے باتیں بنا رہے ہیں۔

چار ستمبر سے پہلے اگر تمام اپوزیشن جماعتیں مل بیٹھ کر اعتزاز احسن یا مولانا فضل الرحمان میں سے کسی ایک نام پر متفق ہو جاتی ہیں تو تحریک انصاف کی مشکلات میں شدید اضافہ ہو جائے گا، کیونکہ صدارتی الیکشن کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے پاس کافی ووٹ ہیں۔ دوسری طرف عامر لیاقت بھی باغی ہوگئے ہیں اور اگر ان کا دعوی ہے کہ 14 قومی اسمبلی کے اراکین ان کے ساتھ ہیں۔ اگر عامر لیاقت تحریک انصاف کے اراکین کے ووٹ اپوزیشن کو دلوا دیں تو اپوزیشن اپنا صدر لا سکتی ہے لیکن اس سے پہلے اپوزیشن جماعتوں کا اعتزاز احسن یا مولانا فضل الرحمان میں سے کسی ایک نام پر متفق ہونا ضروری ہے۔ اگر اپوزیشن جماعتیں صدارتی امیدواروں اعتزاز احسن یا مولانا فضل الرحمان میں سے کسی ایک نام پر متفق نہیں ہوتیں تو اس کا فائدہ پاکستان تحریک انصاف کو ہوگا اور پی ٹی آئی کے نامزد صدارتی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی با آسانی صدر منتخب ہوجائیں گے۔ اعتزاز احسن کو اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت کے بغیر صدارتی امیدوار نامزد کرنا آصف علی زرداری کی ضد ہے یا مجبوری یہ بہت جلد واضح ہو جائے گا مگر ملکی سیاسی تاریخ میں پیپلز پارٹی کا یہ متنازع کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube