Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

منگو کا نيا پاکستان

SAMAA | - Posted: Aug 1, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 1, 2018 | Last Updated: 4 years ago

برصغيرميں انگريزکے آخري دن تھے منگو کوچوان اچھے دنوں کے انتظارميں تھا، اڈے کے سارے کوچوان اس ان پڑھ دانشورسے آنے والے دنوں کاحال جانتے تھے، منگومدبرانہ اندازميں حقے کا دم لگاتا تھا، اچھے دنوں کا دم بھرتا تھا، اورسادہ کوچوانوں کونمک مرچ لگي خبريں سناتا تھا، سب منگوپرآنکھيں بند کرکے بھروسہ کرتے تھے۔ بھروسہ نہ کرنے کا کوئي سبب نہ تھا۔ يوں سمجھيے، منگوکوچوانوں کا خبرنامہ تھا۔ استاد منگوکوانگريزوں سے بڑي نفرت تھي۔ اس کي وجہ يہ تھي کہ چھاؤني کے گورے اسے بہت ستاتے تھے۔ اس کے ساتھ ايسا سلوک کرتے تھے جيسے وہ کوئي حقيرشے ہو۔ انگريزوں سے نفرت ميں منگو کے دن گزررہے تھے کہ وہ دن آگيا جب منگوکوکام کي خبرہاتھ لگي۔۔

کچہري سے بيٹھنے والي دوسواريوں کي گفتگوسے پتا چلا کہ ہندوستان ميں نيا آئين نافذ ہونے والا ہے، منگونے انہيں کہتے سنا کہ يکم اپريل سے نيا قانون چلے گا، اس نئے قانون سے سب بدل جائے گا، يوں کہيے تبديلي آجائے گي۔ منگونے سواريوں کي گفتگو سے اندازہ لگايا کہ انڈيا ايکٹ آنے والا ہے، سب کچھ نہ سہي مگربہت کچھ بدل جائے گا، يہ خبرمنگوکيلئے منہ مانگي دعا ہوگئي، وہ سارا دن خوشگوار موڈ ميں رہا، انگريزوں سے بدلے لينے کا بے چيني سے انتظار کرنے لگا۔

يکم اپريل تک ايک ايک دن گن گن کر گزارنے لگا، آخريکم اپريل آگيا۔ منگو صبح سويرے تانگہ ليکرنئے قانون کی تلاش میں نکل پڑا، کچہري کي سواري ملي، منزل پر پہنچا وہاں ايک گورا ہاتھ ہلاکراسے بلانے لگا۔ منگونئے قانون کے جوش ميں گورے کے سرپر جا پہنچا۔ غور سے ديکھا توياد آيا اس گورے سے پچھلے سال جھگڑا ہوا تھا۔ مگر تب پرانا قانون تھا، اور اب نيا قانون آچکا ہے۔ منگونے گورے کوسوار کيا، مگررويہ تلخ رہا۔ پانچ روپيہ کرايہ مانگ ليا۔ يہ بہت زيادہ تھا۔ گورا تلملايا لڑائي ہوئي، منگو نے نئے قانون کے سہارے گورے کوبُري طرح پيٹ ڈالا۔ وہ ساتھ ساتھ چلارہا تھا ”پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑ فوں…. وہ دن گزر گئے۔ جب خلیل خاں فاختہ اُڑایا کرتے تھے…….. اب نیا قانون ہے میاں…….. نیا قانون!” ۔ پھرکيا ہوا۔ وہي پرانا قانون نکلا۔ منگوجيل پہنچاديا گيا۔۔۔ يہ تو تھا سعادت حسن منٹوکا نيا قانون اوراب پاکستاني قوم نے نئے پاکستان کيلئے ووٹ ديا ہے۔ کچھ منگو جيسي ہي توقعات ہيں۔

انتخابات سے پہلے منگو جيسي گفتگوسنتے رہے ہيں۔ منگوجيسے خيالات ہي اکثرووٹرزکے دل ودماغ پرچھائے ہيں، سوشل ميڈيا کي دنيا ديکھيں، توہرجانب منگو کا نيا پاکستان نظر آرہا ہے۔ جہاں کالے گوروں کي حکمراني کے دن گنے جاچکے ہيں، عمران خان نے حلف نہيں اٹھایا مگرمنگو کواچھے دن نظرآرہے ہيں۔ ڈالرکي نفسياتي قدر گررہي ہے، ہرہرپوسٹ ديکھ کرمنگو کا خيال آرہا ہے۔

ہرايک منگو نئے پاکستان کا نعرہ لگارہا ہے۔ چہرے نہيں بدلے مگرنظام بدلا بدلا نظرآرہا ہے۔ لگتا ہے، ہرايک کہتا پھررہا ہے کہ نيا پاکستان ہے مياں۔۔ نيا پاکستان! وہ دن گزرگئے جب شريف خاندان والے قوم کا پيسہ لوٹ کربھاگ جايا کرتے تھے۔ وہ دن گئے جب زرداري سرے محل بنايا کرتے تھے۔ وہ دن گئے جب پولیس والےجھوٹے مقدمے بنايا کرتے تھے۔ جب قانون اندھا تھا۔ وکلاٗ اور جج بہرے تھے۔ جب تحقيقاتي ادارے چوروں لٹيروں اور راشيوں کي آماجگاہ ہوا کرتے تھے۔ جب پارليمان ميں باسٹھ تريسٹھ کے نافرمان براجمان رہا کرتے تھے۔ جب کراچي ميں کچرے گندگي کے ڈھير ہوا کرتے تھے۔ جب راؤ انوارکے سپاہی سيکڑوں بےقصورمارديا کرتے تھے۔ جب بھتہ مافيا ہوا کرتے تھے۔ جب دو تين تعليمي نظام ہوا کرتے تھے۔ جب غريب اميرکے قوانين الگ ہوا کرتے تھے۔ جب پروٹوکول ہوا کرتے تھے۔ نہ جانے کہاں کہاں کیسے کیسے سنگین جرائم ہوا کرتے تھے۔ اب نئے پاکستان کا زمانہ آگيا ہے!
دعا ہے نئے پاکستان کا منگومنٹو کا منگوبن کرنہ رہ جائے۔ تمنا ہے يہ منگوپرانے پاکستان ميں پھرسے قيد نہ کرديا جائے۔ آرزو ہے کہ اس منگوکوآزادی مل جائے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube