Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  16

پاکستان انگلینڈ سیریز اور تنازعات

SAMAA | - Posted: Jun 5, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jun 5, 2018 | Last Updated: 4 years ago

تحریر: سجاد خان

پاک انگلینڈ کی سیریز ہار جیت کے بغیر ختم ہوگئی بلکہ کسی بڑے تنازع کے بغیر ختم ہوگئی۔ پہلا ٹیسٹ شاہینوں نے اپنے نام کیا اور دوسرے میں ڈگمگاگئے بہرحال یہ بھی کامیابی ہے کہ کسی بڑے تنازع نے جنم نہیں لیا۔ اب سے پہلے والی پاک انگلینڈ سیریز میں تو خاصے ناخوشگوار تجربے سامنے آتے رہے ہیں۔ یعنی حالیہ سیریز سے پہلے تک کہا جا سکتا تھا کہ پاکستان اور انگلینڈ کی سیریز ہو اور کوئی بڑا تنازع نہ ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا جب بھی دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کیا کوئی نہ کوئی تنازع کھڑا ہوتا رہا۔ ویسے تو اس بار بھی لارڈز ٹیسٹ میں پاکستانی کھلاڑی اسمارٹ واچ پہن کر میدان میں اترے۔ بابراعظم اور اسد شفیق کا اسمارٹ واچ پہن کر ٹیسٹ میچ کھیلنا آئی سی سی کی اینٹی کرپشن یونٹ کی نظروں میں آگیا۔

پاکستانی کھلاڑیوں کے گھڑی پہن کر میچ کھیلنے پر آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ بھی فوری طور پر حرکت میں آگیا اور کھلاڑیوں کے اسمارٹ واچ پہن کر ٹیسٹ میچ کھیلنے کی پاکستان ٹيم مینجمنٹ سے وضاحت طلب کرلی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو کرپشن پر لیکچر دینے والے پاکستان ٹیم کی منیجمنٹ کو ہی نہیں پتا تھا کہ میچ کے دوران کوئی بھی کھلاڑی اسمارٹ واچ نہیں پہن سکتا۔ آئی سی سی کی اینٹی کرپشن یونٹ نے پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں سے فوری طور پر اسمارٹ واچز لیں اور آئندہ اسمارٹ واچ پہن کر میچ نہ کھیلنے کی تنبیہ کی۔ اسد شفیق اور بابر اعظم کا نصیب اچھا تھا کہ ان کی بات آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کی سمجھ میں آگئی اور بات وارننگ سے آگے نہ بڑھ سکی۔ جب پاکستان ٹیم کی منیجمنٹ کو ہی نہیں پتا کہ واچ پہن کر میچ کھیلنے پر پابندی ہے تو کھلاڑیوں کو سزا دینے کا کیا فائدہ۔ آئی سی سی کی اینٹی کرپشن یونٹ نے پاکستانی کھلاڑی کی آسانی سے جان نہیں چھوڑی، دونوں کھلاڑیوں کی واچز قبضہ میں لے کر ان کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اسمارٹ واچ میں فون اور وائی فائی ہوتا ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ پلئیرز نے کسی سے فون اور وائی فائی پر رابطہ کیا ہو۔ آئی سی سی کے قوانین کے مطابق کھلاڑی اسمارٹ واچ پہن کر میچ نہیں کھیل سکتا اور میچ کے دوران کھلاڑی میدان سے باہر کسی سے رابطہ نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی رابطہ کرسکتا ہے۔

ماضی میں بھی پاکستانی ٹيم انگلينڈ جائے يا انگلش ٹيم پاکستان آئے۔ تنازعات ضرور کھڑے ہوئے۔۔ انيس سو ستاسي میں انگلینڈ کی ٹیم پاکستان کے دورہ پر آئی۔ فيصل آباد ٹيسٹ میں بالر گيند کرانے کے ليے دوڑا تو انگلینڈ کے کپتان مائيک گيٹنگ نے فیلڈنگ ميں تبديلي کی۔ امپائر شکور رانا نے پکڑليا تو انگلينڈ کے کپتان بگڑ گئے۔ شکور رانا بھي پسپا نہ ہوئے۔ بات بڑھ گئی۔ ہلچل مچ گئی لیکن مائیک گيٹنگ کو معافي مانگنا پڑي۔ پانچ سال بعد پاکستان انگلينڈ گيا تو اس بار جاويد ميانداد اور امپائر رائے پامر آمنے سامنے تھے۔ عاقب جاوید بیٹسمین کو باونسر کرا رہا تھا تو امپائر عاقب جاوید کو روک رہا تھا۔ ہر باونسرز نو بال قرار دے رہا تھا ایسے میں کپتان جاوید میانداد غصہ میں آگئے اور امپائر اور کپتان کے درمیان تلخ کلامی ہوتی رہی۔ ویسے امپائر کو پتا ہے کہ باونسر کرکٹ کا حسن ہے۔ اگست دوہزار چھ ميں پاکستانی بالرز پر بال ٹمپرنگ کا الزام لگا تو کپتان انضمام الحق ٹيم ميدان سے باہر لے گئے۔ دوہزار دس کے دورہ انگلينڈ ميں اسپاٹ فکسنگ اسکينڈل سامنے آگيا جس میں سلمان بٹ، عامر اور آصف پر پابندي لگ گئی۔

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube