Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

یہ قائد کاپاکستان نہیں

SAMAA | - Posted: Dec 30, 2017 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 30, 2017 | Last Updated: 4 years ago

تحریر : عتیق الرحمان رشید

بانی پاکستان کے پیش نظر ایسا پاکستان تھا جہاں عوام آزادی کے ساتھ اپنے مذہب اور رسم و رواج کے مطابق باوقار زندگی گزار سکیں لیکن اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ آزادی کے حصول کے لیے جان و مال کی قربانی دینے اور انگریز کی غلامی سے نجات کےباوجود بھی وہ آزادی نصیب نہیں ہوگی۔ وہ پاکستان جو کمزوروں کے تحفظ کیلئے بنایا گیاتھا،اسے اشرافیہ اپنی ذاتی سلطنت میں بدل ڈالے گی اور کمزور کے حقوق غصب کر لئے جائیں گے۔ مراعات یافتہ طبقہ اقتدار، ریاستی امور اور وسائل پر قابض ہوجائے گا اور عوام کو سوائے بھوک، افلاس، بے روزگاری، دہشت گردی اور عدم تحفظ کے کچھ نہیں ملے گا۔  سر اٹھاکے جینے کی تمنا کرنے پر ماڈل ٹاؤن میں 14 افراد کو ریاستی دہشتگردی کا نشانہ بنایا جائے گا۔ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو روڈ پر اپنی ڈیوٹی ادا کررہا تھا،اسے ایک ممبر اسمبلی نشے میں دھت اپنی گاڑی کے نیچے روند ڈالے گااوراپنی بہن کو جاگیرداروں کی شرارت سے بچانے پر شاہ زیب کو بھری جوانی میں قتل کردیا جائے گا۔  آئین اور ادارے جو کہ پسی ہوئی عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں وہ بھی غاصب کے مددگار بن جائیں گے۔

شاہ رخ جتوئی اور مجید اچکزئی کیس جو کہ الیکٹرونکس، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر نمایاں ہونے  کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت حاصل چکا تھا شواہد اور ثبوت قاتل کی نشاندہی کررہےتھے اور عوام کی نظریں ان کیسوں پر لگی تھی کہ شاید اس نظام میں رہتے ہوئے ملکی سطح پر شہرت حاصل کرنے والے کیس میں انصاف ہوجائے لیکن عوام کو ایک بار پھر مایوسی ہوئی-

تمام محب وطن پاکستانیوں کا دل شاہ رخ جتوئی کے وکٹری کا نشان بنانے پر اندر ہی اندر رو  رہا تھا  یہ وکٹری کا نشان شاہ رخ  جتوئی نہیں اس ملک کا کرپٹ نظام اوراس سےمستفید ہونے والے خاندان،  ملک کی اکثریت عوام  کے خلاف بنا رہے تھے۔وہ یہ کہہ رہے تھےکہ ملک میں عزت صرف بڑےخاندانوں،پیسہ،طاقت،دھونس اورغنڈہ گردی کی ہے۔سفیدپوش انسان کی یہاں کوئی عزت نہیں۔اس کو ہرجگہ ناکامی کامنہ دیکھنا پڑے گا۔وہ ہمیں آئینہ دیکھا رہا تھا کہ تم غلام ہو،تمھیں عزت اور  وقار سے جینے کا کوئی حق نہیں۔

وہ جیسے مسکرا رہا تھا کہ مجھے ایسا محسوس ہو  رہا تھا کہ اس نے میرے کسی اپنے کو  قتل کردیا  اور میں کچھ نہیں کرپایا اور ریاست پاکستان  جو کہ آئینی طور پر مجھے انصاف دلانے کی پابند ہے وہ بھی اس کے سامنے سر جھکائے کھڑی ہے۔ دراصل یہ افسوس ہمیں اس قتل پر نہیں ہوا تھا وہ تو ایک سال پہلا کا واقعہ ہے،ہمارارنج ہماری امیدوں کے ٹوٹ جانے پرتھاجوہم نےریاست اور اس کےاداروں سےلگائی تھی۔ شاہ زیب کسی مزدور، ریڑھی لگانے والے یا کسان کا بیٹا نہیں تھا وہ پولیس جیسے طاقتور محکمے کے اعلی افسر کا لخت جگر تھا لیکن وہ  آفسر بھی اس ظالم نظام کے ٹھیکیداروں کے سامنے  کھڑا نہ رہ سکا تو ایک عام آدمی کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی جاگیردار، سرمایہ دار اور غنڈوں سے اپنی عزت، جان و مال کو بجا سکے گا۔ یہ وہ سوال ہے جو عوام آج  اس نظام اور  اداروں سے کررہی ہے-

موجودہ کرپٹ نظام اس قدر بوسیدہ ہو چکا ہے کہ اس میں عوام کے کسی طبقہ کے حقوق کا تحفظ نہیں رہا،  ملک سے قانون کی حکمرانی ختم ہو چکی ہےاورسیاست ایک گھناؤناکھیل بن چکاہے جس میں امراء بیس کروڑغریبوں کی غربت کے ساتھ کھیل رہے ہیں، قانون بنانے اور ان پر عمل کرانے والے ایوان عوام نہیں چند خاندانوں کے حقوق کا تحفظ کررہے ہیں۔

[caption id="attachment_934926" align="alignnone" width="680"] APP45-19
QUETTA: August 19 – Prime Minister Shahid Khaqan Abbasi chairing meeting on Law & Order situation of Balochistan. APP[/caption]

 عوام کا اس نظام اور  جعلی جمہوریت سے بھروسہ اٹھ رہا ہے جو کہ ایک خطرناک صورتحال ہے حکمرانوں اور ریاست کے تمام اداروں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئے عوام کی مایوسی کا کوئی حل نکالنا چاہئے۔عوام جہاں روٹی،کپڑا، مکان،  علاج صحت تعلیم اور روزگار کی سہولتوں سے محروم ہیں۔اگر وہاں انہیں ظلم اور زیادتی کے باوجود ادارے انصاف نہیں دے سکتے تو عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوگی کہ آزادی انہیں نہیں چند خاندانوں کو ملی ہے  اور  اصل آزادی کے لیے ابھی ایک اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube