Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  15

آپریشن فاؤل پلے

SAMAA | - Posted: Dec 26, 2017 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Dec 26, 2017 | Last Updated: 4 years ago

آج تاریخ کے کچھ اوراق کو پلٹ کر دیکھا اور ماضی میں جھانکا تو بہت کچھ دکھائی دیا اور شاید یہ بھی سمجھ آنے لگا کہ حکومتیں کس وجہ سے مارشل لا ء کا شکار ہوئیں اور ایک منتخب حکومت کو کس طرح آپریشن فیئرپلے کے ذریعے ختم کرکے پھانسی لگا دیا گیا۔ میں آج ماضی کی اس تفصیل میں نہیں جاؤں گا کیونکہ اگر میں نے ماضی کا پردہ چاک کیا تو شاید بہت سے پردہ نشینوں کے نام سامنے آیں اور پھر یہ کہا جانے لگے کہ ہم فوج کے خلاف بات کر رہے ہیں حالانکہ ایسی باتوں کا کم از کم میری ذات سے تو دور دور تک تعلق نہیں۔ ہمیں شاید یہ تو یاد ہوگا کہ آپریشن فیئر پلے کے ذریعے حکومت ختم کردی گئی اور جمہوریت کو بوٹوں کے نیچے روند دیا گیا مگر شاید کبھی کسی نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ آخر ایسی کیا وجہ یا محرکات ہوتے ہیں کہ ایک منتخب جمہوری حکومت کے ہوتے ہوئے فوج کو ٹرپل ون برگیڈ کا سہارا لینا پڑے۔ ہمیں ایک جمہوری ملک ہونے کے ناتے اور آزاد شہری ہونے کی وجہ سے مارشل لا ء کی برائیوں اور ڈکٹیٹر کے ظلم کی داستان تو سنائی جاتی ہے مگر کبھی کسی جمہوریت کے ان چیمپئنز نے اپنے گریبانوں میں جھانک کر اپنا احتساب کرنے کی کوشش نہیں کی کیوں ان کے ہوتے ہوئے فوج کو بیرکوں سے باہرآ نا پڑے؟۔ آج کل ہمارے ملک میں پچھلے تین سالوں سے جس طرح کی حکومت اور سیاست کی جا رہی ہے تو اس سے ایسا گمان ہوتا ہے کہ سیاستدان آپس میں شا یدآپریشن فاؤل پلے کر رہے ہیں وہ بھی ایک منتخب جمہوری حکومت کو وقت سے پہلے گرانے کی بات کررہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ عام انتخابات مقررہ مدت سے پہلے کروا دیے جائیں سوال یہ پیداہوتاہے کے وقت سے پہلے انتخابات کروانے کا کیا فائدہ؟۔ کیونکہ اگر انتخابات وقت پر ہوں یا وقت سے پہلے تو حکومت اور اپوزیشن کو مل کر نگران حکومت کا سیٹ اپ تیار کرنا پڑتا ہے جس نے 90 دنوں کے اندر انتخابات کروانے ہیں مگر اس وقت سب سے بڑا مسئلہ انتخابات نہیں بلکہ وہ فاؤل پلے ہے جو کیا جارہا ہے یا شاید کروایا جا رہا ہے۔ سیاستدان انتخابات کے بعد اپنے آپ کو اپنے دفاتر اور سرکاری رہائش گاہوں میں اس قدر مصروف اور محصور کر لیتے ہیں کہ وہ عام عوام کو ہی بھول جاتے ہیں اور ان کے ساتھ کسی نچلی ذات کے لوگوں جیسا برتاؤ کرتے ہیں اور شاید اسی برتاؤ کی وجہ سے فوج کو چاہے امن ہو یا جنگ اپنی بیرکوں سے آنا پڑتا ہے۔ آج کل میڈیا پر جس طرح کی بیان بازی اور الزامات کی بارش کی جارہی ہے اس سے تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا جارہا ہے اور یہ کسی بھی طرح سے کسی فیبریکٹر سٹوری سے کم نہیں۔ سیاستدانوں کو فوج اور عدلیہ کو اپنے انتقام کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے اور اپنی غلطیوں کا الزام دوسروں پر لگانے کے بجائے اپنی ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے تاکہ پاکستان اور پاکستانی عوام کو اس چیز کا فائدہ ہو اور اس کے دور رس نتائج پاکستانی معیشت پر ایک مثبت اثر چھوڑیں۔ میں ایک عام پاکستانی ہونے کے ناطے سے تمام جمہوری طاقتوں اور ان کے سٹیک ہولڈرز کو ایک مشورہ دینا چاہتا ہوں، مشورہ یہ ہے کہ وہ آپس میں لڑنے اور فاؤل پلے کرنے کے بجائے پیار محبت سے فیر گیم کھیلیں اور اپنی باری کا انتظار کریں اور کسی امپائر کی انگلی اٹھانے کے بجائے صبر سے کام لیں۔ کیونکہ اس ملک میں اقتدار اعلی کا تصور صرف خدا کی ذات کو ہے اور ہم اس ملک میں خدا کے نائب مقرر کیے گئے ہیں اور وہ لوگ جوان کو منتخب کرتے ہیں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ ووٹ کی طاقت اور اس کا درست استعمال کرکے یہ ثابت کریں اس ملک میں ہے طاقت کا سرچشمہ عوام اور ان کا ووٹ ہے کوئی غیر مرئی طاقت نہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube