Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

بھارتی سیاست میں ایک لفظ سے بھونچال آگیا

SAMAA | - Posted: Dec 25, 2017 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Dec 25, 2017 | Last Updated: 4 years ago

تحریر:توقیر چغتائی

دنیا کی مختلف زبانوں میں استعمال ہونے والے الفاظ کا ترجمہ کیا جائے تو ایک سے زیادہ مطالب سامنے آئیں گے۔ اس کی سب سے بڑی مثال اردو ہے جو بہت ساری زبانوں سے مل کر وجود میں آئی ۔ اس میں ملتے جلتے الفاظ بھی پائے جاتے ہیں اور ایسے کئی الفاظ بھی شامل ہیں جن کے کئی مطالب و معانی ہیں۔

اسی طرح سنسکرت اور ہندی کے کئی الفاظ ایک سے زائد معانی کے حامل ہیں۔ آج کل ہندی کا لفظ ’’نیچ‘‘ بھارتی سیاست اور ذرائع ابلاغ پر راج کر رہا ہے جو پچھلے دنوں تقریر کے دوران کانگریس کے ایک لیڈر مانی شنکر آئیر نے اپنے وزیر اعظم کے لیے استعمال کیا تھا۔ مانی شنکر آئیر نے اپنے وزیر اعظم کا حوالہ دیتے ہوئے صحافیوں سے کہا تھا ’’ مجھ کو لگتا ہے یہ بہت نیچ قسم کا آدمی ہے‘‘۔

  یہ جانتے ہوئے کہ انسانیت کے منہ پر طماچے رسیدکرنے والا ذات پات کا نظام لگ بھگ پانچ ہزار سال سے نچلی ذات کے لیے مصیبت بنا ہوا ہے مانی شنکر آئیر نے جب غصے میں اپنے وزیر اعظم کو نیچ کہا تو ان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہ ہو گی کہ اس کا مطلب نیچ انسان کے بجائے ’’ نیچ ذات ‘‘ سے جوڑ دیا جائے گا۔ ہمارے خیال میں کسی بھی انسان کو نیچ کہنا یا اس کی ذات پر کیچڑ اچھالنا ہر گز کسی سیاست دان کو زیب نہیں دیتا مگر منی شنکر آئیر کا کہنا تھا کہ ہندی سے ناواقفی کی وجہ سے جب انہوں نے ’’لو‘‘ کا ترجمہ کیا تو ان کے ذہن میں اس کے لیے لفظ’’ نیچ‘‘ ہی آیا۔ ظاہر ہے ’’لو‘‘ کا مطلب نیچا،چھوٹا،کوتاہ،کمینہ اور اوچھا تو ہو سکتا ہے مگر نیچ ذات بالکل نہیں ہو گا۔ ان کے بقول اگر وہ کسی کو نیچ ذات کہتے تو انگریزی کے لفظ ’’لوکاسٹ‘‘ کا ترجمہ کرتے۔

مودی جس ذات سے بھی تعلق رکھتے ہوں ہمیں اس سے کوئی تعلق نہیں ہاں اس بات سے تعلق ضرور ہے کہ اگر وہ گجرات میں الیکشن جیتنے کے بعد ایک دفعہ پھر مرکزی الیکشن میں بھی جیت حاصل کر لیں گے تو یہ اقلیتوں کے لیے بھی کوئی اچھی خبر نہیں ہو گی اور پڑوسی ممالک کو بھی اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا،ہاں بھارت میں ہندوتوا کو ضرور فائدہ ہو گا،ذات پات کا نظام مزید مضبوط ہو گا اور بھارت میں رہنے والوں کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ جیسی کٹر مذہبی اور قوم پرست تنظیم کی تعلیمات کے ساتھ زندگی گزارنا پڑے گی جس کی گود میں پل کر بھارتی وزیر اعظم اور ان کی سوچ پروان چڑھی ہے ۔

ہمیں تو ایسا لگتا ہے جیسے نا سمجھی میں مانی شنکر آئیر کا کہا گیا لفظ بھارتی وزیر اعظم کو آنے والے الیکشن کی مہم میں خوب فائد ہ پہنچائے گا۔ جہاں تک منی شنکرآئیر کاتعلق ہے تو بھارت کے کٹر ہندو پہلے سے ہی ان کو نا پسند کرتے تھے کہ ان کا تعلق مخالف سیاسی جماعت سے بھی تھا اور وہ پاکستان سے دوستی کی بات بھی کرتے تھے ۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube