Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  17

عائشہ گلالئی کے بعدعائشہ احد؛حقیقت کیا ہے؟

SAMAA | - Posted: Aug 11, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 11, 2017 | Last Updated: 5 years ago

Rana Sana On Ayesha Ahad RBpr 06-08

تحریر: عمیر سولنگی

جیسے جیسے عام انتخابات کا وقت قریب آرہا ہے ویسے ویسے سیاسی جماعتیں اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کررہی ہیں۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی کے بعد سیاسی صورتحال مزید بگڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ میرے نزدیک رائیونڈ میں بیٹھے ہوئے نوازشریف ,وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھے نوازشریف سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں جو ان کے مخالفین کے لئے خاص طور پر عمران خان کے لئے کسی خطرے سے کم نہیں۔

نوازشریف کی نااہلی کے فوری بعد تحریک انصاف کی اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی کا خیبر پختونخواہ حکومت سے علیحدگی اختیار کرنا محض اتفاق نہیں ہوسکتا اور پھر تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کے اپنی جماعت کے سربراہ عمران خان پر سنگین نوعیت کے الزامات اور نوازشریف کی تعریفیں بھی شک میں اضافہ کرتی ہیں مگر (ن) لیگ نے واضح طور پر تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا عائشہ گلالئی کے الزامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Ayesha Gulalai Merit Sot 07-08

نواز لیگ کا گلالئی معاملے سے تعلق ثابت ہو یا نا ہو مگر تحریک انصاف نے عائشہ احد معاملے کو نا صرف دوبارہ زندہ کیا ہے بلکہ یہ بھی تاثر دیا ہے کہ اگر (ن) لیگ منفی سیاست کرے گی تو ہم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ تحریک انصاف کی رہنما فردوس عاشق اعوان اور یاسمین راشد نے عائشہ احد کے ساتھ پریس کانفرنس کی جس میں عائشہ نے حمزہ شہباز پر الزامات لگائے۔ ہوسکتا ہے تحریک انصاف نے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے اور گلالئی کے الزامات کے جواب میں عائشہ احد کا ساتھ دیا ہو مگر میں پچھلے کئی سالوں سے عائشہ احد کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، ان کا تعلق ایک شریف گھرانے سے ہے اور ان کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔

یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ عائشہ احد کا معاملہ سچا ہے یا جھوٹا مگر یہ معاملہ نیا نہیں ہے اور دوسری اہم بات یہ کہ عائشہ احد کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں اور اگر عائشہ احد اور گلالئی کے الزامات کا موازنہ کیا جائے تو گلالئی کے الزامات بھی سنگین ہیں جن کی تحقیقات ضروری ہیں مگر بظاہر لگتا ہے کہ عائشہ گلالئی کو سیاسی طور پر استعمال کیا گیا کیونکہ اب وہ عمران خان سے معافی کا مطالبہ کرکے اس معاملے کو ختم کرنا چاہتی ہیں جبکہ عائشہ احد پچھلے کئی سالوں سے یہ مطالبہ کررہی ہیں کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ جس طرح وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے گلالئی کے الزامات پر پالیمانی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے اسی طرح وزیراعظم کو غیرجانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عائشہ احد کے الزامات پر بھی تحقیقات کا حکم دینا چاہئے کیونکہ حمزہ شہباز جنہیں الزامات کا سامنا ہے وہ بھی قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔

MA BILAWAL 2100 MONTAGE 06-08 ALI

عام انتخابات کا وقت جوں جوں قریب آتا جارہا ہے سیاسی جماعتیں جلسوں اور ریلیوں کا انعقاد کرکے اپنے کارکنان کا لہو گرما رہی ہیں۔ 5 اگست کو چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے چترال میں جلسہ کیا جہاں بڑی تعداد میں پیپلزپارٹی کے کارکنان اور عوام نے جلسے میں شرکت کی وہیں حیران کن طور پر خواتین کی بڑی تعداد نے بھی جلسے میں شرکت کی جس کی مثال چترال کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یوں تو پیپلزپارٹی کے مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پیپلزپارٹی نا صرف خواتین کو عزت دیتی ہے بلکہ برابری کے حقوق بھی دیتی ہے جس کا اقرار ناز بلوچ نے اپنی پریس کانفرنس میں کیا تھا جنہوں نے حال ہی میں تحریک انصاف کو خیرباد کہہ کر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔

naz

عائشہ گلالئی کے خلاف تحریک انصاف کے رہنماؤں جبکہ عائشہ احد کے خلاف رانا ثناءاللہ سمیت (ن) لیگ کے دیگر رہنماؤں نے جو نازیبا زبان استعمال کی ہے اس کے بعد خواتین اینکرپرسن، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور یہاں تک کے گھریلو خواتین جو عام طور پر زیادہ سیاسی فہم نہیں رکھتی انہوں نے بھی تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کو خوب آڑے ہاتھوں لیا ہے۔عائشہ گلالئی اور عائشہ احد دونوں قوم کی ییٹیاں ہیں مگر میرے نزدیک گلالئی کا معاملہ سیاسی معاملہ ہے اور خدشہ ہے کہ عائشہ احد کے معاملے کو سیاست کی نذر نہ کردیا جائے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube