Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

بادشاہ کے پیادے

SAMAA | - Posted: Aug 10, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 10, 2017 | Last Updated: 5 years ago

Pm Shahaid Khaqan Abbasi Upd Ptv 09-08 ۔۔۔۔۔**  تحریر : شاہد کاظمی  **۔۔۔۔۔

نئی کابینہ پوری طرح بھاگ دوڑ میں مصروف ہوچکی ہے، نئے وزیر داخلہ کے دوروں کی تصاویر میڈیا کی زینت بھی بن چکی ہیں، جس میں وہ ہنگامی اور بناء اطلاع کے دورے کر رہے ہیں، باقی وزراء بھی وزارتوں کا انتظام و انصرام سنبھال چکے ہیں، یقیناً جب تک وہ متعلقہ وزارتوں کی ایچی بیچی سمجھیں گے تب تک نئے انتخابات کا ہنگامہ شروع ہوجائے گا اور ویسے بھی پلاننگ اور ڈیولپمنٹ تو وزیر اعظم نے اپنے پاس رکھی ہے کہ جس کے زیر انتظام پاکستان کی سب سے بڑی اقتصادی ہلچل (سی پیک) آتی ہے،  لہٰذا اس بات میں شک نہیں کہ بھاری بھرکم وفاقی کابینہ ایک طرح کی پکنک ہی منا رہی ہے کہ چند مہینے ہی ہیں ان کے پاس۔ ان چند مہینوں میں ان سے توقع کہ کوئی وزیر جوئے شیر کھود لائے گا، دیوانے کی بڑھک کے سوا کچھ نہیں ہے، بادشاہ وہ ہے ہی نہیں جو سامنے ہیں ہاں پیادے وہی ہیں جو سامنے ہیں۔

PMLN CABINET OATH PTV CLEAN NAT ISB 04-08

پاکستان میں ایک چپڑاسی بھرتی کرنا ہو تو صف اول کے اخبارات میں اشتہار بھرتی شائع کروانا لازمی ہوتا ہے مگر اعلیٰ کرسیوں پر تعیناتیاں ہوں تو پھر اشتہار نہیں دیکھے جاتے، وابستگیاں کام آتی ہیں، جس طرح محترم وزیراعظم پاکستان نے اپنی نئی کابینہ کے اعلان کے موقع پر عملاً دکھایا، حال کچھ ایسا ہے کہ ایک چپڑاسی تک کی بھرتی میں مدنظر رکھی جانے والی اہلیت کو بھی مد نظر نہیں رکھا گیا اور کچھ اس انداز سے کابینہ ترتیب دی گئی ہے کہ جس جس نے پانامہ کیس کی سماعت کے درمیان جتنا اپنے گلے کے زور پر چلا چلا کے سابق وزیر اعظم اور ان کے خاندان کی حمایت میں الفاظ ادا کئے اسے وزیر بنا دیا گیا اور نئی کابینہ میں محترم عباسی صاحب کا کردار تماشائی سے بڑھ کر نہیں نظر آتا۔

ملاحظہ کیجئے، احسن اقبال 4 سال تک پلاننگ، ترقی و اصلاحات کے وزیر رہے، وہ چار سال جو پلان بناتے رہے جن اصلاحات پر کام کرتے رہے ان کا کام اتنا اچھا تھا کہ مزید 10 مہینوں کیلئے ان پر اعتبار کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ اب جو انہوں نے 4 سالوں میں کام کیا تھا نئے آنے والے وزیر کو یقیناً اس کو سمجھنے کیلئے ایک سال چاہئے ہوگا اور اس سے پہلے ہی وزارت کا وقت ختم ہو جائے گا اور ان کی سابقہ وزارت اب براہ راست وزیراعظم کے تابع ہو گی۔ خواجہ آصف 4 سال وزیر دفاع رہے، ( قطع نظر کہ وہ کیسے وزیر دفاع تھے) اب جب وہ اس وزارت کو مکمل سمجھ چکے ہوں گے تو صرف آخری 10 مہینے انہیں ایسے وزارت خارجہ تھمادی گئی کہ جیسے لنگر کے شوربے میں اچانک بوٹی ڈال دی جائے کہ چلو اب یہ ذائقہ بھی چھک لو۔ اور خرم دستگیر کو وزارت دفاع کا قلمدان دے دیا گیا، بھئی اگر خواجہ آصف دفاع میں اور خرم دستگیر تجارت میں کامیاب نہیں تھے تو انہیں خارجہ اور دفاع اب کون سی گیدڑ سنگھی دیکھ کے دی گئی ہیں؟ اب ان میں کون سی قابلیت آگئی ہے جو پہلے نہیں تھی؟ بندر بانٹ کا اندازہ لگائیے۔

pm-nawaz-1-1

وزارت ہے ایک وزارت قانون، اور وزیر ہیں 2، ایک وفاقی ایک مملکت،  یعنی اس وزارت میں پہلے کون سا پہاڑ گرایا جارہا تھا جو اب 2 وزیر مل کر گرائیں گے؟ اور ان کی کیا قابلیت ہے کہ اس وزارت کے اہل ٹھہرے؟، طلال چوہدری صاحب بہت محترم ہیں مگر ان کے حامیوں سے بھی اتنی التجا ہے کہ ان کی کوئی ایک قابلیت (سوائے نواز شریف صاحب کے حق میں بولنے کے) بتادیجئے، جس کی بنیاد پر انہیں وزیر مملکت داخلہ کا قلمدان دیا گیا ہے؟۔ اور جو کل تک قصوروار ٹھہرائے گئے تھے ان کے سب پاپ دھل گئے ہیں یعنی مشاہد اللہ خان کی دوبارہ کابینہ میں واپسی ہوگئی ہے، اب انہوں نے کیا ماحول ٹھیک کرنا ہے یا نہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ انہیں بس ماحول گرمانے کی ہی ذمہ داری دی گئی ہے۔

PM Abbasi in NML Montage 09-08

وفاداریاں ہی تو اہم ہیں اسی لئے نااہل وزیراعظم نے بھی اپنے 3 وفادار اور گرجنے والے پیادے اہم وزارتوں یعنی داخلہ، خارجہ اور دفاع پر بٹھا دیئے ہیں جو اس بات کی بھی نشاندہی کررہا ہے کہ آنے والے دن محاذ آرائی کے ہیں، قابلیت؟، ارے قابلیت کا نہ پوچھئے بس تینوں سابق وزیراعظم کے شیر ہیں بس یہی قابلیت کافی ہے، اب اگر آپ سمجھیں کہ خسرو بختیار اپنی کسی قابلیت کی بنیاد پر وزیر بنے ہیں تو آپ کی خام خیالی ہی ہوگی، بھلا مشرف دور میں ان میں کون سی قابلیت تھی جو قاف کے چہیتے بنے؟۔

خارجہ کیلئے کوئی خارجہ امور کا ماہر، داخلہ کیلئے کوئی داخلہ امور کا ماہر، کشمیر کیلئے کوئی تنازعات سلجھانے کا ماہر، خزانہ کیلئے کوئی اعداد و شمار کا ماہر، توانائی کیلئے توانائی کے تمام ذرائع پر مکمل عبور رکھنے والا ماہر متعین کیا جاتا اگر یہ کابینہ پاکستان کی نہ ہوتی، یہاں معیار اس مخصوص وزارت کا ماہر ہونا نہیں ہے بلکہ پاکستان میں حکمرانوں سے وفاداری اور ہر جائز و ناجائز کی تائید کرنا ہی اولین معیار ہے کسی بھی وزارت کی سربراہی سنبھالنے کا۔

 

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube