Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

ہنر مند خواتین اور ہماری ذمہ داریاں

SAMAA | - Posted: Aug 8, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 8, 2017 | Last Updated: 5 years ago

_65495026_landgrab2-womenfarmingtheland

تحریر: راضیہ سید

خواتین جو ہماری آبادی کا تقریبا 52 فیصد ہیں زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ  کام کر رہی ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ملازمت پیشہ خاتون دو مختلف محاذوں پر لڑ رہی ہے۔ ایک جانب بچوں کی دیکھ بھال ہے تو دوسری طرف شوہر اور دیگر سسرال والوں کےکھانے کا خیال، ایک طرف باس کی ڈانٹ کی فکر ہے تو کہیں رشتے داریاں بھگتانے کی ذمہ داریاں ہیں۔

لیکن ملازمت پیشہ خواتین کے اس طبقے میں ہم اکثر اوقات ان خواتین کو بھول جاتے ہیں جو اپنی ہنر مندی سے دوسروں کے گھروں کی خوب صورتی میں چار چاند لگاتی ہیں لیکن ان کی اپنی زندگی رنگین نہیں ہوتی، جس کی بنیادی وجہ ان کا غیر تعلیم یافتہ ہونا، کم خواندگی، غربت اور بے بسی ہے۔ یہ عورتیں صرف خواب دیکھ سکتی ہیں ان کی تعبیر کبھی نہیں پا سکتیں، گھروں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اوراکثر اوقات شوہر نکما اور ہڈ حرام ہوتا ہے۔

ہم ان گھریلو ہنر مند خواتین پر ذرا برابر بھی توجہ نہیں دیتے، پاکستان میں ہی دیکھ لیں تو صوبہ سندھ کا  شہر حیدر آباد چوڑی سازی کے حوالے سے بہت مشہور ہے، تقریبا 80 ہزار افراد اس روزگار سے وابستہ ہیں جن میں زیادہ تر تعداد خواتین کی ہے جنہیں ساڑھے تین سو چوڑیوں کو جوڑ لگانے کی اجرت صرف تین روپے پچاس پیسے تک ملتی ہے۔ جبکہ چوڑی سازی کا کام بہت مشکل ہے۔ اس کے دھوئیں سے سانس کی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں لیکن ان خواتین کو بیماری میں کوئی میڈیکل الاوئنس نہیں ملتا اور چھٹی کرنے پر تنخواہ کی کٹوتی بھی ہوتی ہے۔

Girl_skilled_with_sewing_skills_Large

اسی طرح سلائی کرنے والی خواتین جو کپڑوں پر لیس لگاتی ہیں وہ بھی صرف ماہانہ 1200 سے 1500 تک مزدوری حاصل کر سکتی ہیں۔ ان تمام خواتین پر پورے کنبے کی کفالت کا بوجھ ہوتا ہے اور یہ پیسے ان کے خاندان کے لئے ناکافی ہوتے ہیں، کئی خواتین میز پوش، کشن، مکرامے، پراندے دستر خوان بھی بناتی ہیں جبکہ دوپٹوں پر گوٹے سے پھول بنائے اور ستارے ٹانکے جاتے ہیں۔

ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ۴۷ ملین افراد باروزگار ہیں جن میں خواتین کی تعداد صرف نو ملین ہے اور ان نو ملین میں سے بھی ستر فیصد خواتین زراعت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ خواتین کے لئے کچھ نہیں کیا گیا، اس سلسلے میں بے نظیر انکم سپورٹ کا نام لیا جا سکتا ہے لیکن اس کے اثرات بھی اتنے موثر دکھائی نہیں دے رہے جتنا ہونے چاہیں، خواتین کے لئے قرضے لینا مشکل ہے کیوں کہ بہت سی خواتین کے پاس ضمانت دینے والا کوئی نہیں ہوتا، کئی خواتین کی بینکوں اور متعلقہ اداروں تک رسائی نہیں۔ بہت سی خواتین پڑھی لکھی نہیں اور انھیں مالی معاملات کے معاملے میں آسانی سے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔ سب تو نہیں لیکن کئی این جی اوز اور رفاہی ادارے بہت کم اجرت پر خواتین سے کڑھائی سلائی کا کام کروا لیتے ہیں اور انھیں بہت کم پیسہ ملتا ہے جب کہ یہ چیزیں  جب فروخت کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ کام بہت باریک اور نفیس ہے لہذا اسکی قیمت ہزاروں میں ہے۔

us_ambassador_police-15

دنیا بھر میں کوریا اور تائیوان ایسے ممالک ہیں جہاں خواتین کے بنائے گئے فن پاروں کو اہمیت دی جاتی ہے اور ان کی بہترین مارکیٹنگ کی جاتی ہے جس سے نہ صرف خواتین کو حوصلہ افزائی ملتی ہے بلکہ ان ممالک کو زرمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے، ایسی نمائشوں  کو دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاح بہت پسند کرتے ہیں، اور تو اور ان کاموں کو  متعلقہ وزارتوں کی سرپرستی بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں قالین بافی، سوزن کاری (سوئی کے ذریعے پینٹنگ) اور پیپر ماشی (پانی میں کوٹے ہوئے کاغذ کے گودے سے بنائی جانے والے نقش و نگار اور دیگر چیزیں بنائی جاتی ہیں) سے بہت سی خواتین وابستہ ہیں۔

اس وقت ضرورت ہے تو یہ ہے کہ فرسودہ نظام میں جکڑی ہوئی خواتین کو معاشرے کا فعال رکن بنایا جائے، ان کے شوہروں کو بھی کام کرنے کی ترغیب دی جائے، ہنر مند خواتین کو اکثر جنسی ہراسگی کا سامنا بھی رہتا ہے اسکے تدارک کے لئے بھی سخت اور موثر قانون سازی ہونی چاہیے۔ کم عمری کی شادیاں، بیٹے اور بیٹی میں تفاوت بھی بہت سے مسائل کو جنم دیتی ہے، ہمیں ان محنت کش اور ہنر مند خواتین کا بھی احساس کرنا چاہیے، کیونکہ اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والی، چوڑیوں  کے جوڑ لگاتی ہوئی اور سلائی کرنے والی عورت بھی بنت حوا ہے، اسکی عزت اور عظمت بھی اسی طرح محترم ہے جس طرح دفتر میں اے سی میں بیٹھی ہوئی خواتین کی۔ بات صرف سوچنے کی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube