Saturday, January 29, 2022  | 25 Jamadilakhir, 1443

سازش یا سرزنش؟۔

SAMAA | - Posted: Aug 1, 2017 | Last Updated: 4 years ago
Posted: Aug 1, 2017 | Last Updated: 4 years ago

Panama

ملکی صورتحال گومگوں کا شکار ہے۔کوئی ڈوب گیا کوئی طلوع ہوا کے مصداق پوری قوم رخ زیبا کی منتظر ہے۔نیا وزیر اعظم کون ہو گا جو جمہوریت کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دے گا ۔ سیموئل بیکٹ کے ناول ’’گوڈاٹ‘‘ میں ایسٹریگون اور ولادیمیر  ایک ایسے کردار کا انتظار کرتے ہیں جو آئے گا تو ان کی مشکلات کا خاتمہ ہو جائے گا۔بالکل اسی طرح آج ہم بھی کسی ایسے ہی کردار کے منتظر ہیں۔کہیں شیر ھے کہیں ہیر پھیر ہے۔کہیں منی لانڈرنگ ہے تو کہیں بلیک منی ہے۔کہیں افراط زر ہے تو کہیں زبوں حالی ہے۔لالچ ہے ہوس ہے دولت کی کثرت ہے اور غربت کی بھی بھرمار ہے۔ادارے زوال پزیر حکمران ترقی افزوں ہیں اور عوام افسردہ ہیں۔کوئی جانے پہ حیران ھے اور آنے والے پہ پریشان ہے کوئی عارضی ہے تو مستقل ہونے کی عرضی دیے بیٹھا ہے۔

سوال بےشمار ہیں مگر سوال اٹھتا ہے جواب کون دے گا۔جہاں ایک کرتے پہ گزارا کرنے والے عمر بن عبد العزیزرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ہوں جہاں دریائے فرات کے کنارے ایک کتے کی موت سے ڈرنے والے عمررضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ہوں۔وہاں منی لانڈرنگ کرنے والے اور اپنے کھاتے بڑھانے والے حکمران ہوں تو عجیب سی بےچینی دامن سے لپیٹ جاتی ہے ،یہی مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود،آپ کئی گنا مالیت کا لباس زیب تن کر لیں بیش قیمت گھڑی پہن لیں۔قیمتی گاڑیوں میں گھومیں اگر آپ کی رعیت میں عوام کی زندگی کا پہیہ جام ہے تو خدا کی قسم حساب لیا جائے گا۔

مگر پھر سوال اٹھتا ہے کہ راہ دکھلائیں کسے کوئی راہ روء منزل ہی نہیں۔ جیسی روح ویسے فرشتے کے مصداق اگر آپ ہوس اور لالچ سے اپنی دوکان چمکا کے رب کا کرم کہتے ہیں تو حکمران بھی ایسا ہی کریں گے۔ پھر انکا لیول کچھ اور بلند ہو گا۔پھر ستر سالہ غریب اور ضعیف پاکستان کا خیال کون رکھے گا ۔وہ ترقی پزیر ہے کتنے برسوں سے ہے۔کس کو خیال ہے۔تعمیراتی ترقی وہ بھی کچھ لاڈلے شہروں میں کلی ترقی کی ضامن نہیں۔بات تب بنتی ہے جب لوگ خوش باش اور خوش بخت نظر آئیں۔پھر عین ممکن ہے کہ پاکستان آپ کو قائداعظم کے مزار پہ روتا نہ ملے۔

کہتے ہیں کہ یہ رب ذولجلال کی سرزنش نہیں بلکہ بین الاقوامی سازش ہے۔پاکستان میں جمہوریت کا پودا پنپنے نہیں دیا جاتا۔مان لیا کہ ساش ہے مگر اپنے بھی اخلاص کا مظاہرہ کرتے نظر نہیں آتے جو راہزن ہیں وہ راہبر ہیں جو خزانے چراتے ہیں وہ ملکی خزانوں کے نگہبان ہیں۔دل توڑنے والے دلدار بنے بیٹھے ہیں تو گلہ کس سے کریں؟۔

دلداریاں کرو کہ دل زاریاں کرو
دیکھو وطن کے ساتھ نہ غداریاں کرو
یہ نشہ چھین لے گا تم سے مروت کی روشنی
انسان کے لہو سے نہ مہ خاریاں کرو

بجا ھے کہ سازش ہے ،جمہوری تماشا برداشت نہیں ہوتا مگر کیا ضروری ہے کہ عوام کے ڈنڈے عوام کے سرپہ اتنی زور سے برسائے جائیں کہ وہ کہنے پہ مجبور ہوجائیں کہ پتھروں آج میرے سر پہ برستے کیوں ہو، میں نے تم کو کبھی اپنا خدا رکھا ھے۔یہ بھی بجا ہے کہ ڈکٹیٹر شپ جمہوریت کی نسبت زیادہ کامیابی سے اپنی مدت پوری کرتی رہی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ  اس ڈکٹیٹر شپ کی قیمت چکائی ہے۔ملک اور عوام کو برسوں پیچھے دھکیل کر ہر ڈکٹیٹر نے اپنا سفر جاری رکھا مگر ایک جمہوری راہنما اپنا سفر مکمل نہ کر سکا کہ کج شہر دے لوک وی ظالم سن کج مینوں مرن دا شوق وی سی۔

پاکستان کے لیے کیا بہتر ہے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والے یا پانی کی روانی پہ بند باندھنے والے۔ اس کا فیصلہ اس بار عوام کی بجائے پاکستان پہ چھوڑ دیا جائے۔مسائل در مسائل اور قرضوں کے بوجھ تلے دبا پاکستان اپنی سن رسید گی کا بوجھ اٹھائے یا اپنی عوام کے حوصلے بلند کرے کہ بین الاقوامی سازشوں کے جال میں مقید ہونے کی بجاۓ خود کو پہچانو۔یاد کرو قائد اعظم نے کیا کہا تھا کہ پاکستان کو آنے والے سالوں میں اقوام عالم میں انتہائی اہم مقام حاصل ہو گا۔اور وہ اس کے نقش قدم کی پیروی کریں گی۔پاکستان کو مدینے جیسی ریاست قرار والے قائد کی سیاسی بصیرت کے دشمن بھی قائل تھے کہ دونوں ریاستوں میں ہجرت کے عظیم واقعات پیش آئے تو یہ کیسے کہ پاکستان کو شب دیگ بنا کے کھانے والوں کا کھاتہ نہ کھلے۔

دل دکھے ہیں،بہت ذیادہ دکھے ہیں۔انصاف کرنے والوں کے صادق و امین ہونے پر شکوک کا اظہار کیا گیا مگر ایک منصف جو سب سے بالاتر ہے وہ خدائے واحد کی ذات ہے اور قرآن کہتا ہے وہ جس کو چاہے ملک دےدے اور جس سے چاہے ملک لے لے۔سب سے بالاتر ذات خدا کی ہے اور سب سے مقدم پاکستان ہے کوئی فرد واحد نہیں کسی کے آنے سے اور جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر فرق پڑتا تو قائد کی ایمبولینس کی آہستہ روی پہ سوال ضرور اٹھتے فاطمہ جناح کے زخم ضرور سلتے لیاقت علی خان کو لگنے والی گولی اندھی نہ ہوتی۔اور ایٹمی پروگرام کا روح رواں اور تمام اسلامی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پہ لانے والا یوں عبرت کا نشاں نہ بنتا۔پس ثابت ہوا کہ پاکستان کا وجود کسی فرد واحد پہ منحصر نہیں یہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے۔اور انشاء اللہ قائم رہے گا،دعا ہے کہ یہ ارض پاک سدا شاد و آباد رہے ۔

خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube