Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

پانامہ ہے کیوں برپا ؟

SAMAA | - Posted: Jul 21, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Jul 21, 2017 | Last Updated: 5 years ago

330649_18164607

**** تحریر : فرخ عباس ****

سولہ ماہ قبل سامنے آنے والے پانامہ سکینڈل کی گونج تا حال عالمی سیاست میں بالعموم اور پاکستانی سیاست میں بلخصوص سنائی دے رہی ہے ، دنیا بھر کی ستر ملکوں میں پانامہ سکینڈل سامنے آنے کے بعد سے اب تک ڈیڑھ سو کے قریب تحقیقات کی جا چکی ہیں، جن میں درجنوں ممالک کے وزرا، تاجر ، سیاست دان ، رٹائرڈ سرکاری افسر اور موجودہ و سابقہ حکمرانوں کی کرپشن کی کہانیوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے، ان تحقیقات کے نتیجے میں کچھ حکمرانوں کو تو حکومت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے ہیں،

lessons-from-the-panama-scandal-89065b84f099e22d45948132b779f4e9

وطن عزیز میں بھی پانامہ نے ہنگامہ برپا کر رکھا ہے، نوے کی دہائی میں کرپشن کے خلاف سیاست کرنے والے حکمران نواز شریف کے بارے میں یہ انکشاف سامنے آنا ہے کہ میاں صاحب جس کرپشن کے خلاف لڑتے رہے اس میں نا صرف خود ملوث ہیں بلکہ با جماعت یعنی پورے خاندان کے ساتھ گردن تک ڈوبے ہیں، اس صورت حال میں حکمران جماعت کی جانب سے پہلے سپریم کورٹ میں تحقیقات کے دوران یہ تصور دیا گیا کہ جیسے تمام معاملات حکومت کے حق میں جا رہے ہیں اور حکمران خاندان کی جانب سے عدالت میں تمام کاغذات و شواہد پیش کیے جا چکے ہیں جس کی بنا پر عدالت نے حزب اختلاف کی درخواست کو اب پٹخا کے تب پٹخا ،

160404172539-panama-papers-scandal-bobby-ghosh-lead-intv-00002702-large-169

حکومتی وزرا اور امیدواران وزارت کی جانب سے جس قسم کی موشگافیاں عدالت کے باہر دیکھنے میں آتی رہیں، ان میں خاتمے کی امید تب محسوس ہوئی جب عدالت عظمیٰ کی جانب سے تحقیقات کے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا اعلان کیا گیا، حکمران جماعت کی جانب سے خوشی کے شادیانے یوں بجاے گئے جیسے چھوٹے میاں صاحب سے ایک بار پھر شادی خانہ آبادی کا پروگرام بنا لیا ہو، لیکن عوامی امیدوں کو دھچکا اس وقت لگا جب مٹھائیوں کی مٹھاس ختم ہونے سے بھی پہلے حکمران جماعت کے وزرا اور کچھ وزارت کے طلبگاروں کی جانب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم پر لفظی حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، بھارتی فلموں کے ولن کے لئے موزوں کردار کی جانب سے جے ائی ٹی کو جاسوسی فلموں سے تشبیہ دی گئی، کبھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو قصائی کی دکان کہا گیا اور کبھی اسی  ٹیم کو پیروں میں مہندی لگے ہونے کے کوسنے دیے گئے ، اور جن سے کچھ نا ہو سکا انہوں نے محض جوڈیشل اکیڈمی کی جانب منہ کر کے اخ تھو کرنے پر ہی اکتفا کیا ، غرض جتنے وزرا اتنی باتیں، اور جتنے طالب گاران وزارات اتنی لن ترانیاں

JIT-3

تحقیقات کے دوران شروع ہونے والا یہ سلسلہ تحقیقات کے ختم ہوتے ہی بڑھتے بڑھتے اب اس مقام پر آ چکا ہے جہاں صرف پرویز مشرف کے پستول شریک بھائی امیر مقام کی جانب سے تحقیقاتی ٹیم پر کسی اور سیارے کی مخلوق سے مل کر سازش کرنے کا الزام لگنا باقی ہے

PMLN Attack On Jit Montage 10-07

حکمران خاندان اور ان کے حامی کبھی اس کو سازش کہتے ہیں اور کبھی پاکستان دشمنی، کبھی سی پیک کے خلاف چال کا نام دیتے اور کبھی پاکستان کی ترقی روکنے کی کوشش، اور کچھ صاحبان قلم و دانش تو اس حد تک چلے گئے کہ اس سارے معاملے کو ہی جمہوریت کے خلاف سازش قرار دے دیتے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ احتساب جمہوریت کے خلاف سازش نہیں، آمریت کی راہ میں بند کا کردار ادا کرتا ہے ، اور جہاں تک رہی بات باقیوں کے احتساب کی تو ظاہر ہے کسی اور کا احتساب بھی تو وہی کر سکتا ہے جس پر خود کسی قسم کا الزام نہ ہو، اب اگر کوئی چور کسی اور چور کو چور کہے گا تو عوام دونوں میں سے کسی ایک کی بھی حمایت نہ کرنے میں حق بجانب ہوگی، تو بجاے باقی کرپٹ عناصر اور آئین شکن آمروں کو کوسنے کے اس حکومت پر لازم ہے کہ حکمران خاندان کی کرپشن ثابت ہونے کے بعد یہ احتساب اور سزا کا عمل ان سے شروع کیا جائے اور جمہوریت کی مضبوطی کے لئے اس کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوے کرپٹ اشرافیہ کی بیخ کنی بھی کی جائے تا کہ پاکستان میں حقیقی جمہوری انداز میں غیر جانبدارانہ احتساب کا عمل شروع کیا جا سکے

PMLN Attack On Jit Montage 10-071

عدالت کی جانب سے اب روزانہ کی بنیاد پر جے آئی ٹی رپورٹ پر سماعت جاری ہے ، جس میں وزیر اعظم کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل دو دن تک اپنے دلائل ہی دہراتے رہے، پھر حسن نواز ، حسین نواز  اور مریم نواز کے وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ ہمہیں مزید وقت دیا جائے تا کہ تازہ آمد ہونے والے کاغذات سے تیاری کا موقع ملے، حکومت کی جانب سے کیس کو لمبا کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے اور یہ بھی کوشش جاری ہے کہ بجاے عدالت کچھ فیصلہ کرے ، مزید کاروائی کے لئے نیب کو ریفرنس بھیج دیا جائے ، جس کا مطلب ہوگا کہ کیس مزید چند ماہ کے لئے تاخیر کا شکار ہوگا، اور اکتوبر میں موجودہ چیرمین نیب کے جانے کے بعد نئے چیئرمین کی تعیناتی تک کوئی پیش رفت ہونا نا ممکن ہوگی جس صورت میں حکومت کی جانب سے اپنائے جانے والے تاخیری حربوں کے  کامیاب ہونے کے  امکان کافی زیادہ ہوگا۔ سماء

فرخ عباس صحافی ہیں , سیاسی حالات اور سماجی مسائل پر لکھتے ہیں- بلاگز میں اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرتے ہیں

Twitter : @Farrukh_Abbas12

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube