Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

غیرت یا ہمدردی

SAMAA | - Posted: Jul 5, 2017 | Last Updated: 5 years ago
Posted: Jul 5, 2017 | Last Updated: 5 years ago

Desk Maryam Twitter Pkg 04-07

عید پر لاہور سے کشمیر اپنے گھر گیا، راستے میں گاڑی میں موجود ایک شخص کی معمولی سی بات پر تلخ کلامی ہوگئی، توں تکرار سے نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی، گاڑی میں موجود شخص کے ساتھ دو خواتین بھی سفر کر رہی تھیں، بعد میں معلوم ہوا کہ دونوں مذکورہ شخص کی بہنیں تھیں، شخص ڈرائیور کو طعنے دے رہا تھا کہ میرے ساتھ موجود خواتین کا احترام نہیں تم میں اور ایسے الفاظ استعمال کررہے ہو جبکہ گاڑی کا ڈرائیور بھی جوابا ایک ہی جملہ دہرا رہا تھا، تمھارے ساتھ لیڈیز نہ ہوتیں تو میں تمھارے دانت توڑ دیتا، اس لڑائی سے مجھے کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی اور نہ ہی مجھے جھگڑا کرنے والی کسی پارٹی کےساتھ کوئی ہمدردی تھی ہاں مجھ پر اس ساری صورت حال سے ایک راز منکشف ہوا، کہ عورت کو لے کر ہمدردی حاصل کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے، دوسروں کی بہو، بیٹیوں کو جی بھر کے برا بھلا کہہ لو مگر اپنی عورتوں کی آڑ میں چھپ کر خود کو مظلوم بنا کر پیش کرو۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ عورت کے پیچھے چھپنے والے بزدل ہوا کرتے ہیں، یقین جانئیے ایسا کہنے والے بالکل ٹھیک ہی کہتے ہیں۔

panama-Paper-Case-

پاناما کیس کی تحقیقات کے لئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے شریف خاندان سمیت کئی افراد کو طلب کیا، وزیر اعظم کے صاحبزادے 5 بار پیش ہوئے، خود وزیر اعظم نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے روبر و پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرایا اور ایک بہترین مثال قائم کی، یقینا انہوں نے تاریخ مرتب کی،منتخب وزیر اعظم نے اپنے ماتحتوں کے سامنے اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کیا جو کہ ایک قابل ستائش اقدام ہے، مگر اب جب کہ وزیر اعظم پاکستان کی صاحبزادی مریم نواز کو جے آئی ٹی کی جانب سے طلب کئے جانے کی خبریں سامنے آ رہی ہی تو گویا قیامت آگئی ہو، شریف خاندان کی بجائے وفاقی وزرا نے بیانات داغنے شروع کردئیے، جے آئی ٹی کے خلاف الفاظ کے تند وتیز نشتر چلائے گئے، مریم نواز کی طلبی کو قومی غیرت و حمیت کا سودا قرار دیا، بعض وزرا تو جذبات پر قابو نہیں پا سکے اور ساون کی جھڑی کی مانند ان کی آنکھیں بھی چھم چھم برسنا شروع ہوگئیں، حضور والا! خبریں گردش میں ہیں کہ مریم نواز شریف پارلیمانی سیاست میں قدم رکھنے کا خواب دیکھ سکتی ہیں، مسلم لیگ ن کے سیاسی وارث کے طور پر سامنے آسکتی ہیں تو قبلہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے پر کیا اعتراض ہے؟۔ مشرقی مردوں کی روایات کا پاس رکھتے ہوئے آپ بھی عورت کے پیچھے چھپ کر ہمدردیاں سمیٹنے کی بجائے وزیر اعظم کی طرح انہیں بھی اپنی صفائی کا موقع دیں۔ عورت کے آڑ میں تو بزدل چھپتے ہیں، ہمدردیاں سمیٹنا تو مجبور و لاچاروں کی مجبوری ہوتی ہے، جس طرح الفاظ کی نشتر زنی میڈیا پر چلا رہے ہیں تو اس طرح شریف خاندان کو بھی اپنا مئوقف پیش کرنے دیں۔ قبلہ آپ مذہب کو غیرت سے جوڑ رہے ہیں، ہاں ہاں ضرور جوڑئیے مگر یہ بھی خیال رکھیے کہ نبی مہربان ﷺ نے بھی یہ فرمایا ہے کہ اگر میری بیٹی فاطمہ  بھی چوری کرتے ہوئے پکڑی جائے تو سزا کے طور پر اس کا ہاتھ کاٹا جائےگا۔

pti pmln

قبلہ! 30 سال پیچھے چلے جائیں، 1988 ء کا وقت یاد کریں جب مسلم لیگ نے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ، بیگم نصرت بھٹو کی کردار کشی کی مہم چلائی، اپنی دبنگ سیاسی مقابل کے کردار کو قوم کے سامنے کیسے پیش کیا گیا، اخبارات میں اشتہار سے لے کر پنڈوں، گھوٹوں اور دیہاتوں میں بذریعہ ہیلی کاپٹر ہینڈ بل پھینکے گئے، جناب عالی! بھول جاتے ہیں آپ کی جانب سے سیاسی مخالفین کی کردار کشی کو مگر یہ روایات قوم کو تو آپ کی ہی کی جانب سے منتقل کی گئی ہیں، آپ نے خود ہی یہ ظالم گھڑا کھودا ہے، اس کو بھی چھوڑئیے یہاں محترمہ مریم نواز کی کردار کشی نہیں ہو رہی بلکہ انہوں نے قوم کے سامنے ایک لیڈر کے طور پر آنا ہے تو اس قوم کو اپنی صفائی تو دینا ہی ہوگی۔

عالی مرتبت! عورت کی آڑ میں خود کو مظلوم ثابت کر ہمدردی سمیٹنے کی بجائے مریم نوازکو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے دیں اور انہیں اپنے صفائی کا سنہری موقع کھونے سے روکیں، اگر کل اقتدار کی بھاگ دوڑ ان کے سپرد کرنا ہے تو انہیں خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے یہ موقع ضرور دیں، غیرت یہ نہیں کہ عورت کے پیچھے چھپا جائے، غیرت یہ ہے کہ عورت کو اپنے کردار کی صفائی کا موقع دیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube