Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

کیادنیاایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے؟

SAMAA | - Posted: Jul 4, 2017 | Last Updated: 5 years ago
Posted: Jul 4, 2017 | Last Updated: 5 years ago

b

تحریر: توقیر چغتائی

انیس سو پینتالیس  میں امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم سے حملہ کیا تھاجس کے بعد اس خوف ناک جنگ کا اختتام ہوگیا۔بظاہر یہ جاپان کی شکست تھی ، مگر اسے انسانیت کی شکست سے تعبیر کیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔اس سے قبل چین اور جاپان کی درمیان سرحدی جھڑپیں اور تناؤ مسلسل جاری رہا جس میں جاپان کو واضح برتری حاصل رہی، لیکن امریکہ کے ہاتھوں شکست کے بعد جاپان نے جدید صنعتی دور میں قدم رکھا تو ایشیا  میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔اس کے ساتھ ہی یہ ملک خود کو جنگ و جدال سے دور کرتا چلا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جاپان کے آئین میں ایک ایسی شک بھی موجود ہے جس کے مطابق کسی بھی ملک کے خلاف فوجی طاقت استعمال نہیں کی جا سکتی، لیکن اپنے ملک کا دفاع بھی ضروری قرار دیا گیا ہے ۔

بدلتی ہوئی عالمی صورت حال کے تحت جہاں بہت سارے ممالک اپنی خارجہ پالیسیوں میں تبدیلی لا رہے ہیں وہاں جاپان،سعودی عرب،ایران،روس،چین،افغانستان، پاکستان اور بھارت کی خارجہ پالیسی میں بھی کافی تبدیلی آئی ہے۔بہت سارے پرانے حلیف اب حریف بن گئے ہیں اورکچھ ممالک کی دشمنی دوستی میں تبدیل ہو رہی ہے۔مشرق وسطیٰ جو عراق، شام اور فلسطین میں جاری بے امنی کی وجہ سے پوری دنیا میں تناؤ کی وجہ بنا ہوا تھاابھی اپنے پرانے زخموں کا مداوا نہ کر پایا تھا کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کی طرف سے قطر کے ساتھ کشیدگی اور اس کے بعد مطالبات کی ڈیڈ لائن نے اسے ایک دفعہ پھر جنگ کے خطرے سے دوچار کر دیا ۔

پاک بھارت سرحدی خلاف ورزیاں بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں جو امن کے متوالوں کے لیے اچھا شگون نہیں۔سی پیک منصوبے کے بعد روس اور پاکستان کے تعلقات پر چھائی ہوئی لگ بھگ آدھی صدی کی دوری ختم ہوئی ہے،مگر بھارت افغانستان اور امریکہ کے تعلقات میں اضافے کے بعد افغانستان اور پاکستان کے حالات مزید کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔اس کشیدگی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا دورہ امریکہ بھی شامل ہے جس کے دوران انہوں نے بھاری مالیت کے بوئنگ طیارے خریدنے کی پیشکش کی۔اس سے قبل 2016میں بھی بھارت اورامریکہ کے درمیان ایک فوجی معاہدہ طے پایا تھا جس میں امریکی کی ایک کمپنی کے لیے بھارت میں چھ ایٹمی ری ایکٹرز کے قیام کا منصوبہ اور کچھ دیگر معاہدے شامل تھے۔

a

دوسری جانب شمالی کوریا اور امریکہ کے تعلقات بھی کشیدگی کی انتہا پر ہیں اور چین بھارت سرحدی تناؤ کے بعد چین اور بھارت کے درمیان ہونے والی بیانات کی سخت جنگ کسی وقت بھی جنگ میں بدل سکتی ہے۔ایک سال قبل شمالی کوریا پر امریکہ کی اقتصادی پابندیوں کے بعد شمالی کوریا کی حکومت کی طرف سے جنگ کا وقت آنے کا سخت بیان سامنے آیا تھا اور یہ کشیدگی اپنے عروج پر ہے ۔اس ساری صورت حال میں امریکہ کو مرکزی حیثیت یوں حاصل ہے کہ اس نے جاپان اور بھارت کے ساتھ مل کر نہ صرف فضائی مشقیں شروع کی ہیں بلکہ کوریا کی جانب سے حملے کی صورت میں اتحادی ہونے کے ناطے امداد کا بھی عندیہ دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی صدر کے دورے کے بعد ایران کے خلاف دیا جانے والا بیان بھی اس خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں،مگر سب سے خطرناک صورت حال کا سامنا پاکستان اور بھارت کے شہریوں کو ہے جو کشمیر کا مسئلہ حل ہونے تک مسلسل برقرار رہ سکتا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم کے دورہ امریکہ اور امریکی صدر کے دورہ سعودی عرب نے جہاں اس خطے میں بے امنی کو ہوا دی ہے وہاں مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر اور اس میں ہونے والے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش سے دونوں ممالک کے تعلقات کو بھی مزید نقصان پہنچا ہے۔موجودہ بین الاقوامی صورت حال میں اس خطے کے غریب عوام پر جنگ کا جو سایہ منڈلا رہا ہے اس سے بچنے کے لیے تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کرنا انسانیت کی بقا کے لیے ضروری ہے ورنہ کوئی بھی چھوٹی جنگ کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ ہو گی جس کے بعد خدا نخواستہ اگر یہ ایٹمی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے نقصان کا اندازہ لگانا بھی ہمارے لیے مشکل ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube