Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

سری لنکا سےثقافتی رابطے،مگر کیسے ؟

SAMAA | - Posted: May 8, 2017 | Last Updated: 5 years ago
Posted: May 8, 2017 | Last Updated: 5 years ago

saarc

جنوبی ایشیا کے تقریباً سارے ممالک ایک ثقافتی ڈور سے بندھے ہوئے ہیں مگر اس ڈورمیں کچھ ایسی گانٹھیں بھی موجود ہیں جو ثقافتی رنگا رنگی کو دھندلا رہی ہیں۔ سب سے بڑی گانٹھ پاک بھارت تعلقات میں اتار چڑھاؤ کا وہ سلسلہ ہے جو موسم سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

جغرافیائی طور پر بھارت کو یہ فائدہ ضرور ہے کہ نیپال ہویابھوٹان،بنگلہ دیش ہو یا سری لنکا،اُس کی سرحدوں سے متصل اور ہم سے ہزاروں میل دورہیں۔صرف مالدیپ ہی ایسا ملک ہے جو بھارت کی سرحدوں سے دور سمندر ی جزیروں پرقائم ایک الگ ملک ہے۔سری لنکابھارت سے صرف 31کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جس تک پہنچنے کا واحد ذریعہ سمندری سفر ہے۔ 1985میں سارک نام کی تنظیم وجود میں آئی جس میں ابتدائی طور پر بھارت، پاکستان،بنگلہ دیش،سری لنکا،نیپال ، مالدیپ اور بھوٹان نے شمولیت اختیار کی اور 2007میں افغانستان کو بھی سارک کا مستقل رکن بنا دیا گیا۔ اس خطے کے 1.47ارب افراد کے باہمی تعاون کی ضرورت کو سمجھا تو گیامگر یہ خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔

saarc

بھارت کے باسیوں کو بھی افغانستان کا سفر کرنے کے لیے خشکی کے راستے پاکستان سے گزرنے کی ضرورت ہوتی ہے، مگر اس سلسلے میں بھارت کی سرحد ی پالیسیوں کو سب سے بڑا مسئلہ کہا جائے تویہ کچھ غلط نہ ہو گا۔ سری لنکا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ 543قبل مسیح میں ابتدائی طور پر 700افراد جہاز کے ذریعے اس جزیرے پر آ کر آباد ہوئے جو سنہالی تھے اور یہی سنہالی اس ملک کی اکثریتی زبان بولنے والے افراد ہیں۔ یہاں پر رہنے والے تامل ہندوؤں کی آبادی کا دوسرا نمبر ہے جن کی سری لنکا آمد،سنہالیوں سے اختلاف، 1980کی خانہ جنگی اور اس کے دوران 40,000 افراد کی ہلا کت کے طویل داستان ہے ۔ لیکن بہت سارے مراحل سے گزرنے کے بعد اب سری لنکا داخلی طور پر پر امن ملک کہا جا سکتا ہے۔

چند دن قبل پاکستان بحریہ کے دو جہاز خیر سگالی کا پیغام لے کر کولمبو پہنچے۔ اس سے قبل بھی پاکستان بحریہ کے جہاز مشترکہ مشقوں اور اشیائے خوردونوش کی ترسیل کے سلسلے میں سری لنکا جا چکے ہیں۔موجودہ پانچ روزہ دور ے کو سیاسی،سفارتی،اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی تعلقات کا نام دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ تمام تعلقات کی بنیاد ثقافتی تعلقات سے شروع ہوتی ہے اور کسی بھی قوم ، ملک یا علاقے سے بہتر تعلقات کے لیے اُس کے شہریوں کی زبان اور ثقافت سب سے بہترین ذریعہ ہوتی ہے۔ بے شک پاکستان سے سری لنکا جانے کے لیے خشکی کا راستہ بھارت سے ہو کر گزرتا ہےمگر ہم بہت سارے یورپی ممالک اور امریکہ کی طرح اس راستے کے بغیر بھی اپنے سیاسی ، سماجی اور ثقافتی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے ثقافتی شعبوں کے ماہرین اور دانش ور جب تک اپنے روایتی خول سے باہر آ کر فیصلے نہیں کرتے،سری لنکا کے ساتھ ثقافتی تعلقات میں بہتری سست روی کا شکار رہے گی۔ ہمیں خشکی کے راستوں کے بجائے سمندری اور فضائی راستوں پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا۔ یہ دیکھنے کے بعد کہ ثقافتی اور سیاحی شعبے میں ہم کن اجتماعی دلچسپیوں کو فروغ دے سکتے ہیں، بزرگ شہریوں اور اشرافیہ کے بجائے اسکول اورکالج کے نوجوانوں کو ثقافتی دوروں اور طائفوں کا حصّہ بنانا ہو گا وگرنہ کوئی بھی ثقافتی رابطہ اتنا پائے دار نہیں ہو سکتا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube