Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

میں پرفیکٹ ہوں

SAMAA | - Posted: Mar 10, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 10, 2017 | Last Updated: 5 years ago

Businesswoman applying lipstick

حالیہ منظر نامے پہ نظر ثانی کی جائے تو تقریباً ہر صنفِ نازک اپنی ظاہری وضع قطع کو بہتر سے بہترین بنانے کی دوڈ میں جتی ہوئی ہے کیونکہ اس سے انکار نہیں کہ خوبصورتی کا معیار اور ڈیمانڈ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ گورا چٹا رنگ ،کھتئی لمبے سلکی گیسو ، کھڑی ناک، بڑے بڑے چمکتے نین، پتلی دبلی اسمارٹ سی ہو ورنہ تو ابا کا بھاری بھرکم بینک اکاؤنٹ ہو تو ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا۔ اب ہر لڑکی تو پیسے کی دھنی نہیں ہوتی لٰہذا سارا زور اپنے آپ کو ہر ممکنہ کوشش تک سنوارنے اور سدھارنے میں لگ جاتا ہے جس کا فائدہ کسی کو ہو نا ہو لیکن بیوٹی پالرز والوں کی چاندی اور کاسمیٹکس کمپنیوں کا تو سمجھیں چاندی سے بڑھ کے سونا ہو جاتا ہے اور سونے پہ سہاگہ جدید اسکن وائٹننگ ٹریٹمنٹ، بوٹوکس، پلاسٹک سرجری یا مصنوعی طریقہ سے ہیرٔ ٹرانسپلانٹ کی آفر کی صورت میں ہو گیا ہے۔اگر ناک تیڑھی یا ہونٹ پتلے ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں پلاسٹک سرجری بہت عام ہو گئی ہے جناب ناک سیدھی کرائیں یا ہونٹ نمایاں کروائیں۔بڑا آسان ۔ جب کہ اگر غور کریں تو یہ سارے مسائل کا حل نہیں بلکہ اس سارے گھن چکر میں پڑ کے ہماری صنفِ نازک کی نئی نسل میں خود اعتمادی کہیں کھو گئی اور احساسِ کمتری بڑھ گیا۔

بد قسمتی سے ہمارے تعلیمی اداروں میں یا خواتین سینٹرز میں اس بات کی طرف توجہ نہیں دی جاتی کہ لڑکیوں کو ان کے اندر چھپی مہارتوں کو بروئے کار لا کر اس قابل بنا دیا جائے یا ایسا شعور دیا جائے کہ وہ ظاہری طور پہ جیسی بھی ہوں لیکن اپنی قابلیت، ہنر یا مہارتوں اور خود اعتمادی کے زریعے قابلِ فخر بنیں۔ اب جب کہ دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے اورالیکٹرونک میڈیا و سوشل میڈیا تقریباً ہر نوعِ انسان کی زندگی کا ایک لازمی جز بن گیا ہے تو دیگر مذاہب اور ممالک کی خواتین کا کردار سب کے سامنے ہے جو رنگ روپ کی پرواہ کئے بغیر بھر پور خود اعتمادی سے معاشرے میں اپنا کردار بخوبی نبھا رہی ہیں اور اپنے آپ کو منوانے میں کامیاب ہیں۔ شاید وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں ٹیلنٹ کی قدر کی جاتی ہے جب کہ ہمارے معاشرے میں زیادہ تر رجحان ایسا ہے کہ صنفِ نازک اگر بھر پور تیار ہو کے جائے گی تو اس کی درخواست پہ خاص نظر کرم کی جائے گی ورنہ تو ایک مڈل کلاس طبقہ سے تعلق رکھنے والی لڑکی بیچاری اپنے آپ کو منوانے کی جدو جہد میں یا اپنی جگہ بنانے میں ہی لگی رہتی ہے اور اس کوشش میں وقت بھی تیزی سے گزرتا جاتا ہے۔

جہاں مختلف این جی اوز خواتین کے حقوق کے لئے سر گرم عمل رہتی ہیں اس کے ساتھ ہیں اس کے ساتھ ہی ضرورت اس بات کی ہے کہ عام طبقہ کی خواتین کے لئے ایسے آگاہی پروگرام شروع کئے جائیں جن سے وہ بہرا مند ہوں اور خاص کر گھر بیٹھی خواتین یا وہ لڑکیاں جو عدم خود اعتمادی کی وجہ سے معاشرے کے ساتھ چلنے سے گھبراتی ہیں ان کو اس پیغام سے آشنا کرایا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی صنفِ نازک کو بے تحاشا صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔ کہنے کو تو وہ صنفِ نازک ہے لیکن حقیقت میں مردوں کے مقابل ہے اور کہیں آگے بھی۔ اور یہ سب اس کی خود اعتمادی اور ٹیلنٹ کی بدولت ہی ہوتا ہے۔ ظاہری خوبصورتی تو چند عرصہ ہی رہتی ہے اصل میں تو وہ کارنامے ہوتے ہیں جو وہ انجام دیتی ہے اور نام ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ کونڈا لیزا رائس، سرینا ولیمز، بانو قدسیہ ، نسیم حمید، ارفع کریم سے بہتر مثالیں کیا ہو سکتی ہیں۔ جنہوں نے اپنے ملک و قوم کا نام خوب اونچا کیا اور ہمیشہ کے لئے یاد رہتی ہیں۔

اگر ہمارے معاشرے کی عام عورت میں بھر پور خود اعتمادی آجائے تو اس سے نا صرف اس کی اپنی نسل کو فائدہ پہنچا گا بلکہ براہِ راست اپنے ملک اور قوم کا ہی نام روشن ہوگا کیونکہ خواتین کے بغیر کسی بھی معاشرے کی کامیابی ادھوری ہے مرد حضرات کو کسی بھی صنعت کو پروان چھڑھانے کے لئے کہیں نا کہیں خواتین کی مدد درکار ہوتی ہی ہے۔ لہٰذا خود اعتمادی پیدا کریں، اپنی صلاحیتوں کو منوائیں اور سب کو بتا دیں۔ میں پرفیکٹ ہوں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube