Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  17

دودنیا

SAMAA | - Posted: Mar 1, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 1, 2017 | Last Updated: 5 years ago

Facebook_Search

ایک تھکا دینے والی روز مرہ کی روٹین سے اکتا کے پرانی دوستوں کو رات کو کھانے پہ انوائٹ کیا۔ دیرینہ دوستوں سے  ملنےکا سوچ کر ہی میں دل ہی دل میں خود کو ترو تازہ محسوس کرنے لگی۔ شام کو مقرر کئے گئےٹائم پہ سب پہنچ گئیں،سلام دعا ہوئی۔ باتوں کا آغاز ہوا ہنسی مذاق ہوا خوش گپیاں ہوئیں بہت مزہ آنے لگا۔ ہماری ایک دوست نازیہ کو نوٹ کیا وہ بلکل ہم باقی دوستوں کی باتوں پہ دھیان نہیں دے رہا تھی۔ ہاتھ میں موبائل تھا اور نظریں مستقل موبائل کی اسکرین پہ تھیں۔جب بھی ہم دوست کوئی پرانی بات یاد کر کے اس کی تائید چاہتیں تو اس کو بار بار مخاطب کرنا پڑ رہا تھا۔حالانکہ وہ ہم سب دوستوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ شوخ چنچل اور باتونی لڑکی ہوا کرتی تھی۔

کھانے کے دوران بھی وہ مستقل موبائل میں مصروف رہی اور جلدی  کھانا ختم کر کے سب سے پہلے چلی گئی۔ مجھے اس کے رویے سے کافی مایوسی ہوئی چونکہ ہم کافی دنوں بعد ملے تھے ، اس لئے مجھے اس سے اس قسم کے رویے کی امید نہیں تھی ۔بعد میں اسے فیس بک اور ٹویٹر پر ایڈ کیا تو پتا چلا کہ وہ سوشل میڈیا پر کافی ایکٹیو ہے اور تواتر کے ساتھ استعمال کرتی ہے اور اپنی ہر ایکٹیویٹی سوشل میڈیا پر شیئرکرتی ہے۔ حتیٰ کہ اس دن کی ملاقات بھی بڑے جوشیلی اسٹیٹس کے ساتھ فیس بک پر بتائی گئی تھی۔

An-Afghan-Muslim-woman-browses-the-Facebook-website-at-the-Young-Women-For-Change-internet-cafe-in-Kabul.-Image-via-AFP.-890x395

یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ سوشل میڈیا کے بے دریغ استعمال نے لوگوں کو حقیقی دنیا سے کہیں دور کر دیا ۔ اب ہر سوشل میڈیا یا اسمارٹ فون استعمال کرنے والے کی دنیا دو حصوں میں بٹ چکی ہے۔حقیقی دنیا اور اس میں بسنے والے لوگوں کی اہمیت کہیں معدوم ہو گئی جب کہ سوشل میڈیا کے بغیر ایک منٹ بھی بھاری ہو جاتا ہے۔ میں نے اپنے ہی ارد گرد اور عزیزوں میں ایسے لوگ دیکھے ہیں جو بظاہر کم گو اور اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں لیکن اندر ہی اندر بہت کچھ چل رہا ہوتا ہے۔

اب اہمیت فیس بک فرینڈز کو دی جاتی ہے جب کہ اصل دوستوں سے دوستی نام کی رہ گئی ہے، چاہے وہ فیس بک فرینڈز جعلی ہی کیوں نا ہوں اور یہ الگ بات ہے کہ حقیقت بعد میں پتا چلے۔ اکثر فیس بک اور ٹوئٹرصارفین کا یہ حال ہے کہ کوئی بھی تصویر یا اسٹیٹس ڈال کربڑی بے چینی سے اس کے لائکس گنتے ہیں اور بڑے فخر سے دوسروں کو بتاتے ہیں کہ فلاں شئیر کی گئی پوسٹ پراتنے لائکس ملے تھے۔ چاہے اصل زندگی میں انہیں کوئی لائک کرتا ہو یا نہیں، اس بات سے انہیں کوئی پرواہ نہیں۔

2016-12-06T182857Z_1_LYNXMPECB51FE_RTROPTP_3_SCHIBSTED-FACEBOOK

دوست تو دور کی بات اب تو ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ بھی ایک دوسرے سے بے خبر ہوتے جا رہے ہیں۔  سوشل میڈیا کے عام ہونے سے پہلے تک بھائی بہن اور فیملی کے دوسرے افراد آپس میں ایک اچھا وقت گزارتے تھے اور ایک دوسرے سے اپنی باتیں شیئر کرتے تھے، اب زیادہ تر گھروں میں ایسا نہیں ہوتا ۔بھائی کی کیا ایکٹیوٹیز ہیں، یہ کوسوں میل دور بیٹھے فیس بک پر ملنے والے دوست کو تو پتا ہوگا لیکن اپنے ہی گھر میں دوسرا بھائی یا بہن نا واقف ہوں گے۔اس کے علاوہ اب لوگ شادی بیاہ یا کسی تقریب میں بھی جاتے ہیں تو اس تقریب میں دلچسپی لینے کے بجائے ہاتھ میں موبائل فون ہی میں مگن ہوتے ہیں اور فیس بک پر اسٹیٹس شیئر کیا ہوتا ہے کہ انجوائینگ فلاں کزن ویڈنگ اور تو اور اب تو فیس بک پر پارٹیاں بھی ہونے لگی ہیں۔

کچھ دن پہلے ایک کزن نے بتایا کہ اس کے سب فیس بک فرینڈز ایک ٹائم سیٹ کر کے فیس بک پر پارٹی کرتے ہیں،جس میں وہ سب کافی انجوئے کرتے ہیں۔خوشی کے علاوہ اب خدا نا خواستہ کوئی غم یا حادثہ بھی آجائے تو فکر کی بات نہیں کہ دکھ درد بانٹنے والا کوئی نہیں ، بس اسٹیٹس اپ لوڈ کریں اور ڈھیرو ں ہمدردیاں وصول کریں۔

کوئی اچھا کھانا بنایا ہو تو اس کی تصویر دے دی جائے گی اور خوب داد وصول کی جائے گی۔حتیٰ کہ ماں باپ بھی خود موبا ئل میں مصروف رہتے ہیں اور اکثر چھوٹے چھوٹے بچے ان کی توجہ کے منتظر رہتے ہیں۔ اب پڑوس میں کون رہتا ہے یا پڑوسی کس حال میں ہے اس بات سے بے خبر لوگ ہزاروں میل دور بیٹھے اس کے حال سے ضرور واقف ہوں گے۔ اس کےساتھ ہی جب سے سیلفیز کا ٹرینڈ عام ہوا ہے، رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی۔

اب خود پسندی عروج پر آگئی ہے جب کہ ریسرچرز کے مطابق بہت زیادہ سوشل میڈیا فیس بک وغیرہ استعمال کرنے والے لوگ احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں اور لوگوں کی توجہ حاصل کر کے خود کو نفسیاتی طور پر خوشگوار محسوس کرتے ہیں۔ اس لئے اگر کسی شخص کے ساتھ کوئی چوری یا ڈکیتی کا واقعہ ہو جاتا ہے تو اس کو سب سے زیادہ افسوس اپنے موبائل فون جانے کا ہوتا ہے کیونکہ موبائل کے بغیر تو اب ایک پل نہیں رہ سکتے اور اسی وجہ سے اپنی عبادات میں بھی یکسوئی نہیں رکھ پاتے۔

ہر کام اور  آج کے دور میں  سوشل میڈیا ایکٹیوٹی ایک حد تک صحیح رہتی ہے اور ہر ایکٹیویٹی کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا استعمال کریں لیکن اس کے عادی نا بن جائیں کہ بعد میں پچھتاوا ہو۔ ان  سب سے پہلے اپنے ارد گرد اور حقیقی دنیا اور اس میں بسنے والے لوگوں کو اہمیت دیں ، سوشل میڈیا پہ تو کون کہاں سے آیا اور کب غائب ہو جائے کچھ نہیں پتا لیکن اصل دوست اور رشتے تو ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube