Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  17

پہلے میں ۔۔۔

SAMAA | - Posted: Feb 17, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 17, 2017 | Last Updated: 5 years ago

queue2

ایک معروف بلڈرکمپنی نے پلاٹ اسکیم کا اعلان کیا۔عوام الناس میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں کہ مستقبل قریب میں اس پلاٹ کے دام آسمان کوچھو جائیں گے لہٰذا ہم بھی فائدے کا سوچتے ہوئےفارم لینے صبح سویرے  میاں جی کے ساتھ مقررہ بینک پہینچ گئے۔ مردوں کی قطار میں تا حدِ نگاہ رش دیکھ کے ہم نے جھٹ پٹ خواتین کی قطارمیں کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہم سے آگے تقریباً بیس تیس خواتین کھڑی تھیں، دل کو اطمینان ہوا کہ نمبرآہی جائے گا۔ ابھی پانچ منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ ہمارے پیچھے رش بڑھنا شروع ہوا اور کم از کم تیس خواتین پیچھے بھی لگ گئیں قطار میں۔ اچانک پیچھے لائن میں سے ایک خاتون آئیں اور سرگوشی والے اندازمیں مودٔبانہ گزارش کرنے لگیں کہ ذرا سی سرک جائیں اور اپنے آگے کھڑا کر لیں چونکہ وہ جاب کرتی ہیں اور انہیں دیر ہو رہی ہے۔ ہم نے جگہ دے دی بس پھر کیا تھا پیچھے کھڑی خواتین نے اتنی زور سے شور مچانا شروع کر دیا اور الٹا ہمیں برا بھلا کہنا شروع کیا کہ ان سب کو بھی کوئی نا کوئی کام ہے اور جلدی جانا ہےاور چار پانچ خواتین دھڑلے سے آگے آ کر کھڑی ہو گئیں اور اس طرح ہم جو تقریباً تیسویں نمبر پہ تھے دھکے لگتے ہوئے چالیسویں پہ جا پہنچے۔ محسوس ہوا کہ قطار میں لگنا کتنا ناگوارکام ہے۔

queue

اسی طرح کا ایک اور تجربہ چاند رات والے دن ہوا۔ بیٹی کو لے کے بیوٹی پارلر کا رخ کیا کہ مہندی لگوا لی جائے دوسرے دن عید ہے ۔ پارلر میں بلا کا رش اور مہندی لگانے والی صرف چار یا پانچ لڑکیاں۔ ہمیں انتظار کرنے کو کہا گیا اور ہمارے مطابق ہمارا نمبر سات یا آٹھ کسٹمرز کے بعد تھا۔ ہمارے بعد اور خواتین بھی آتی گئیں، پارلر کی منتظم خاتون بتاتی گئی کس کے بعد کس کا نمبر ہے۔ ہر آنے والی خاتون بضد تھی کہ پہلے اس کو فارغ کر دیا جائے کیونکہ وہ گھر میں اہم کام چھوڑ کر آئی ہے ۔ کوئی بھی اپنی باری کا انتظار کرنے کو تیار نہیں۔

queue3

بچوں کو اسکولوں میں قطار میں آنے جانے کی خوب پریکٹس کرائی جاتی ہے تاکہ ان کے اندر زندگی گزارنے کے منظم اصول اجاگر ہوں۔امریکہ، کوریا اور کینیڈا جیسے ممالک کے صدر بھی قطار میں لگتے ہیں اور اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں جب کہ یہاں اگر قطار میں لگنا پسند نہیں تو ایک اور حل نکالا جاتا ہے سو پچاس روپے اوپر سے ہاتھ میں رکھ دیں اور فٹافٹ بغیر لائن کے اپنا کام نکلوائیں۔
اگر دیکھا جائے تو ہر شخص بقول خود ،جلدی میں ہی ہوتا ہے اور قطار میں لگنے سے اس کے دوسرے اہم کاموں میں تاخیر ہو رہی ہوتی ہے۔ چاہے اسپتال میں ڈاکٹر کا انتظار کرنے کی قطار ہو یا یونیورسٹی میں کوئی فارم جمع کروانا ہو۔ حتیٰ کہ پارکوں میں جھولوں کی باری کے لئے جو قطار لگوائی جاتی ہیں اس میں بھی لوگوں کو یہ ہی کہتے سنا کہ پہلے ہمیں جانے دیں پھر ہمیں کام سے جانا ہے۔ ریستورنٹ میں کھانا کھانے جائیں اور پہلے سے بیٹھے ہوئے شخص سے پہلے اگر آپ کا آرڈر کیا ہوا کھانا آگیا تو بس پھر دیکھیں ہوٹل کے ویٹر سے لے کے مالک تک کی کیسی شامت آتی ہے۔ اکثر بینک یا نادرا آفس وغیرہ کی قطاروں میں جھگڑے بھی ہو جاتے ہیں اور اکثر جگہوں پر جہاں مردوں کی قطار میں رش ہوتا ہے تو گھر سے ایک خاتون کو ساتھ لے جا کے خواتین کی قطارمیں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح کام کے جلدی ہونے کی امید ہو جاتی ہے۔جب کہ سب سے بڑی قطار تو آج کل سی این جی اسٹیشنزپرہوتی ہے جس میں نا صرف صبح سویرے لگنا پڑتا ہے بلکہ اگلے تین چار دن تک کی سی این جی ایک ساتھ بھروانا پڑتی ہے کہ کون بار بار قطار میں انتظار کی کوفت اٹھائے گا۔

queue1

اس کے برعکس جب میاں بچوں کے ساتھ عمرے پہ جانے کی سعادت حاصل ہوئی تو وہاں کا نظم و ضبط دیکھ کے حیران رہ گئی۔ لاکھوں کی تعداد میں مکہ اور مدینے منورہ میں لوگ عبادتوں میں مشغول ہوتے ہیں، لیکن جماعت کا یا افطار کا وقت ہوتے ہی منٹوں میں منظم طریقے سے لوگوں کو صفوں میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ہماری عوام کو جنرل سطح پہ بہت سے عام معاملات میں شعور اور آگاہی کی ضرورت ہے اور یہ آگاہی میڈیا سے بہتر کون دے سکتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی عادتیں یا باتوں سے دنیا میں کسی اور جگہ آپ کی شناخت بھی ہوتی ہے جیسے کہ سڑک کنارے کچرا پھینک دینا، گاڑی غلط پارک کر دینا یا قطار سے نکل کر جلدی دکھانا۔اپنی اسی طرح کی چھوٹی چھوٹی عادتوں کو صحیح کرکے ایک اچھی قوم  ہونےکا ثبوت دیا جا سکتا ہے اور پوری دنیا میں بدنامی سے بچا جا سکتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube