Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

گداگرمافیا

SAMAA | - Posted: Feb 7, 2017 | Last Updated: 5 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 7, 2017 | Last Updated: 5 years ago

baggers1

بہت سے دیگر مسائل کے ساتھ پاکستان کا اہم ترین مسئلہ غربت ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ساڑھے بتیس فیصد لوگ غربت بھری زندگی گزار رہے ہیں ۔جو بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ ایسے میں گداگری کا پیشہ اپنے عروج پہ ہے۔

کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور پاکستان کو سب سے زیادہ فائدہ بھی کراچی ہی سے پہنچتا ہے۔ یہاں ہر طبقہ کے لوگ موجود ہیں، اپَر کلاس سے لے کر پیشہ ور گداگر طبقے تک ۔ کراچی کے سگنل پہ گاڑی رکتے ہی ارد گرد ایسی صدائیں سننے کو ملتی ہیں کہ لوگ نا چاہتے ہوئے بھی اپنی جیبوں میں سے کچھ نا کچھ دے ہی دیتے ہیں۔نت نئے طریقوں سے حلال روزی کمانے والے لوگوں کی جیبیں خالی کرائی جانا معمول بن گیا ہے۔ ان گداگروں میں بیشتر تعداد عورتیں، بوڑھے اور بچوں کی ہے جو کہ لوگوں پہ نفسیاتی وار کرتے ہیں ، ایسی ایسی دعائیں دیتے ہیں یا تو ایسی مجبوریاں بتائیں گے کہ سفید پوش لوگ جو پہلے ہی حالات کے ستائے ہوئے ہوتے ہیں ،بخشش کے طور پر پیسے دے ہی دیتے ہیں۔

baggers2

کراچی میں گداگری کا پیشہ ایک مافیا میں بدل چکا ہے۔ ایک پورا نیٹ ورک ان گداگروں کے پیچھے کام کر رہا ہے اور یہ کام پوری پلاننگ کے ساتھ ہوتا ہے۔اس نیٹ ورک کے لوگ اپنے بندے مختلف جگہوں پہ کھڑے کرتے ہیں اور بھیک منگواتے ہیں ان کو واچ بھی کیا جا رہا ہوتا ہے۔اور تو اور یہ جگہیں کرائے پہ دی جاتی ہیں اور ہر بھکاری کی جگہ مخصوص ہوتی ہے اس کی جگہ پہ دوسرا بھکاری نہیں کھڑا ہو سکتا اور ساتھ ساتھ بھیک مانگننے کے اوقات کار بھی متیعن ہوتے ہیں۔اس گداگر مافیا کے گروپ میں جو بھکاری سب سے زیادہ کما کر دیتا ہے اس کو اتنے ہی پوش علاقے میں تعینات کیا جاتا ہے جیسے کہ ڈیفینس، کلفٹن، طارق روڈ اور گلشن کے علاقوں میں دوسرے علاقوں کی بنسبت زیادہ بھیک مل جاتی ہے۔   زیادہ تر بھکاری اسپتال کے باہر بھی ملتے ہیں جہاں مریض کے ساتھ آنے والے سے بیماری سے صحت یاب ہونے کے صدقے میں، پیسوں کے بدلے دوائی دلانے کا مطالبہ کرتے ہیں، تاکہ دس بیس روپے کے بدلے سو دو سو کی دوائی مل جاتی ہے جسے بعد میں میڈیکل اسٹور والے کو ہی تھوڑے کم دام میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ان بھکاریوں کی بڑی تعداد شہر کے مصروف ترین سگنلز پہ کھڑی ہوتی ہے جہاں سے دن بھر میں ہزاروں گاڑیاں گزرتی ہیں اور ایک منٹ کے لئے رکتے ہی یہ بھکاری گاڑیوں کی طرف لپکتے ہیں، اب تو بھیک مانگنے کا اسٹائل بھی بدل گیا ہے، تربیت یافتہ بچوں کے ہاتھوں میں وائپرز تھما دیے جاتے ہیں اور گاڑی کے سگنل پہ رکتے ہی بغیر اجازت وہ آپ کی چمکدار گاڑی کو مزید چمکا دیتے ہیں اور بدلے میں اپنی محنت کا معاوضہ طلب کرتے ہیں۔اس کے علاوہ ان ننھے ہاتھوں میں غبارے، گجرے ، قلم یا اسلامی تبرکات ہوتے ہیں اور ساتھ یہ درخواست کی جا رہی ہوتی ہے کہ  اگر کوئی شخص یہ چیزیں خریدنے میں دلچسپی نا رکھتا ہو تو مدد کے طور پہ پیسےہی دے دے۔اس کے علاوہ پیسوں کے بجائے دیگر اشیا  خرید کے دلوانے کا مطالبہ کرتے ہیں جیسے کہ فروٹ ،آٹا، کمبل وغیرہ جنہیں بعد ازاں کم داموں میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔

baggers

یہ بھکاری نا صرف بھیک مانگنے کا کام کرتے ہیں بلکہ بچے اغوا کرنا، لوگوں کی جیبیں تراشنا، خواتین کے پرس چھیننا، دکانوں پہ سے چیزیں غائب کرنا جیسے کاموں میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مافیا کے لوگ ان کو ایجینٹ یا مخبر کے طور پہ بھی استعمال کرتے ہیں اور منشیات کی اسمگلنگ میں بھی یہ سہولت کار بن جاتے ہیں۔اکثر نومولود کو اغوا کر کے ھاتھ پاؤں سے معذور کر دیا جاتا ہے اور بھیک منگوائی جاتی ہے۔ایک سروے کے مطابق ان پیشہ ور بھکاریوں کی یومیہ آمدنی پندرہ سو سے دو ہزار روپے تک باآسانی ہو جاتی ہے۔جبکہ رمضان کے مہینے میں یہ کمائی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ کراچی کے باہر سے آنے والے بھکاری واپس جا کے اگلے چھ مہینے تک آرام سے بیٹھ کے کھاتے ہیں۔  اس لئے یہ لوگ محنت کے بجائے بھیک مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ پیشہ ور بھکاری خواتین بچے اغوا کرنے کے ساتھ ساتھ جنسی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہوتی ہیں جو کہ صرف چند پیسوں کی خاطر معاشرے میں خطرناک ترین بیماریاں پہلانے کا باعث بن رہی ہیں۔

ان بھکاریوں کے خاتمہ کے لئے متعدد بار اقدامات کئے گئے ہیں اور سینٹرز بھی بنائے گئے جہاں ان کو کھانا پینا اور بنیادی سہولتیں میسر کی جاتیں لیکن یہ دوبارہ بھیک نا مانگنے کا وعدہ کر کے وہاں سے بھاگ جاتےہیں۔حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان گداگروں کی سرگرمیوں سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور ان کی ناک کے نیچے ہی یہ ساری کاروائی کی جاتی ہے پھر بھی ان گداگروں کی کوئی پکڑ دھکڑ نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ان بھکاریوں کی حوصلہ افزائی کرنے والا بھی ہم لوگ یہ ہیں، اگر لوگ ان کو دینا چھوڑ دیں اور حوصلہ شکنی کریں تو یہ چار و نا چار محنت کر کے ہی کھانے کمانے پہ اکتفا کریں گے۔ اگر حکومت کوئی مناسب اقدامات نہیں کر سکتی تو عام لوگوں کو چاہیے کہ ان گدا گروں کی صداوٗں پہ کان نا دھریں اور اس پیشے کی جتنی ممکن ہو مذمت کریں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube