Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  15

عمران خان اورسیاسی اعلان

SAMAA | - Posted: Oct 4, 2016 | Last Updated: 6 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 4, 2016 | Last Updated: 6 years ago

nn1
لاہور کے علاقے رائیونڈ میں واقعہ اڈہ پلاٹ پر ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے کامیاب جلسے کے بعد لگ رہا ہے کہ حکومت سے زیادہ اپوزیشن مشکلات میں پھنس گئی ہے، جس کی وجہ عمران خان کی طرف سے اسلام آباد کو بند کردینے کااعلان ہے۔

جلسے کے دوران عمران خان نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی بھی پانامہ لیکس کے خلاف تحقیقات کے لئے ان کا ساتھ نہیں دیگا، تو وہ اکیلے ہی اس مقصد کے لئے کھڑیں ہوں گے۔

اس اعلان کے بعد اپوزیشن جماعتوں جن میں پاکستان پیپلز پارٹی سرفہرست ہے، اس فکر میں مبتلا ہے کہ اگر عمران خان اپنے اس اعلان کے بعد حکومت کو پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لئے اپوزیشن کی مرضی کے ٹی او آرز پر راضی کرلیتے ہیں تو سارا کریڈٹ عمران خان لے جائیں گے اور باقی اپوزیشن جماعتیں منہ تکتے رہ جائیں گی۔

nn2
حکومت کے ساتھ ٹی او آرز پر متفق نا ہونے کے بعد تحریک انصاف کے علاوہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے احتجاج کرنے کا اعلان تو کیا تھا۔ مگر عمران خان کے سولو فلائٹ کے اعلان کے بعد متحدہ اپوزیشن کی دیگر جماعتیں بھی عمران خان کا ساتھ یہ کہہ کر چھوڑ گئیں کہ جمہوری روایات انھیں کسی کے گھر پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیتیں۔

رائیونڈ کے جلسے کے بعد لگتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اس قدر کامیاب جلسے کی امید نہیں کررہی تھیں اور عمران خان کےاعلان کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی یہ غلط فہمی دور ہوگئی ہے کہ عمران خان عوامی سپورٹ کھو چکے ہیں۔

ایسی صورت حال میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی اپنے کارکنان کو حکومت کے خلاف احتجاج کا لائحہ عمل دینا ہوگا اور اگر اپوزیشن جماعتیں عمران خان کے احتجاج کا حصہ نہیں بنتیں تو اپوزیشن جماعتیں رہی سہی عوامی سپورٹ بھی گنوا بیٹھے گیں۔

nn3
عمران خان کے رائیونڈ جلسے سے پہلے سیاسی وچولن شیخ خورشید کے ذریعے پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان عوامی تحریک کو اس جلسے میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔ مگر تینوں جماعتوں کی طرف سے آئیں بائیں شائیں کے جوابات موصول ہوئے۔ جلسہ کامیاب ہونے کے بعد انہی تینوں جماعتوں نے کہنا شروع کردیا کہ تحریک انصاف نے ان سے جلسہ میں شریک ہونے کے لئے باضابطہ رابطہ نہیں کیا تھا۔ اگر تحریک انصاف دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بھی اپنے ساتھ چلنے کا کہتی تو وہ یقیناًً اس پر سوچتے۔ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ایسے بیانات دراصل ان کے اس پچھتاوے کی نشاندہی کرتے ہیں جو انھیں رائیونڈ جلسے میں شرکت ناکر کے ہے۔

موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتیں عمران خان کا ساتھ دینے کا سوچ رہی ہیں۔ مگر اس کے لئے لازمی ہے کہ خاص طور پر پیپلز پارٹی حکومت کی کھلم کھلا مخالفت کرے۔ اس کے لئے یہ بھی لازمی ہے کہ پیپلز پارٹی مفاہمتی سیاست کے نام پر حکومت سے لینے والے سیاسی مفادات لینا بند کردےاور سندھ میں کرپشن کیسز کا سامنا کرے۔

nn4
عمران خان کے اس اعلان کے بعد امید ہے کہ سیاسی وچولن شیخ رشید پاکستان مسلم لیگ اور عوامی نیشنل پارٹی کو اس احتجاج کا حصّہ بنانے میں کامیاب ہوجائئں گے۔ جس کے بعد امید کی جاسکتی ہے کہ ماضی کی طرح تحریک انصاف کو ڈاکٹر طاہر القادری کی سپورٹ بھی مل جائیگی۔ جس کا مطلب ہزاروں لوگوں کی اس احتجاج میں شرکت ہوگی۔

ایسی صورتحال میں اصل امتحان پیپلز پارٹی کا ہوگا۔ جوکہ 2018 کے انتخابات سے قبل اپنا کھویا ہوا سیاسی مقام بزریعہ بلاول بھٹو زرداری حاصل کرنا چاہتی ہے۔ پیپلز پارٹی اگر اس احتجاج کا حصّہ نہیں بنتی تو یقیناً پیپلز پارٹی کے کارکنان اپنے لیڈروں سے سوال کریں گے۔ جس کا جواب شاید پیپلز پارٹی کے پاس نا ہو۔

nn5
دوسری طرف حکومت نے کوشیشیں شروع کردیں ہیں کہ وہ اس عرصے میں پیپلز پارٹی کی مدد سے ایسا قانون لے آئے۔ جس کے ذریعے شریف خاندان کے افراد بھی بچ جائیں اور آئینی طریقے سے معاملہ بھی سلجھ جائے۔

مگر اس بار نہیں لگتا کہ عمران خان کسی بھی طرح کے آئینی لالی پاپ کو اہمیت دیں گے، بلکہ ایسی آئینی ترمیم میں پیپلز پارٹی اور حکومت کا ساتھ، پیپلز پارٹی کے لئے سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube