Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں؟

SAMAA | - Posted: May 6, 2016 | Last Updated: 6 years ago
SAMAA |
Posted: May 6, 2016 | Last Updated: 6 years ago

PAKISTAN-CRIME-WOMEN

سمیرا کی آنکھوں میں تھے کئی خواب، سنہرے خواب، یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے جب لڑکیاں خود کو شہزادی تصور کرکے، تصور کی دنیا میں کسی اجنبی شہزادے کی منتظر ہوتیں ہیں کہ ان کے خوابوں کا شہزادہ آئے گا جو انہیں رانی بنا کر لے جائے گا۔ جوانی کی دہلیز کو چھونے والی ہزاروں خوابوں اور خواہشات سے بھری آنکھیں، سمیرا نے بھی ایسے کئی سپنے دیکھے ہونگے مگر اس کے سپنوں کا دشمن اس کے خوابوں کو چکنا چور کر دینے والا خود اس کا بھائی تھا۔

اورنگی ٹاون کے رہائشی حیات نے اپنی چھوٹی بہن سمیرا کو چھریوں کے وار سے زخمی کیا اور پھر اس کے تڑپتے وجود کو گھر کی دہلیز پر رکھ کر سارے زمانے کے سامنے اپنی بہادری کا چرچا کرتا رہا۔ سمیرا تڑپتی رہی، چادر سے ڈھکا سمیرا کا وجود تڑپ تڑپ کر زندگی کی بھیک مانگتا رہا مگر اس کا بھائی، اس کا غیرت والا بھائی بہن کے سسکتے وجود کے گرد لگے تماشے کی وڈیو بنواتا رہا۔ بھائی تو بہنوں کا مان ہوا کرتے ہیں۔ بہنوں کی عزت کے محافظ لیکن حیات جیسے بھائیوں کے لیے غیرت کا پیمانہ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ سمیرا نے تو تڑپ تڑپ کر جان دے دی مگر اس کا قاتل ابھی تک کیفر کردار کو نہیں پہنچا۔

Hayat

حیات کے میڈیا اور عدالت کے سامنے دیے گئے بدلتے بیانات نے اس کیس کو الجھا دیا ہے۔ حیات کے اس گھناونے اقدام پر اہل خانہ کو کوئی خاص شرمندگی نہیں۔ سمیرا کی لاش بغیر پوسٹ ماٹم کے واپس لے گئے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ  جب حیات نے سمیرا کو چھریوں کے وار سے زخمی کیا تب اس کے گھر والے کہاں تھے، کسی نے کیوں نہیں روکا؟ سمیرا کا تڑپتا وجود ایک گھنٹے تک گھر کی چوکھٹ پر سسکتا رہا  گلی محلے کے لوگ تماشبین بنے رہے، کسی نے برقت پولیس کو اطلاع کیوں نہ دی؟ کسی نے ایمبولینس کال کیوں نہ کی؟ بر وقت طبی امداد مل جاتی تو شاید سمیرا زندہ ہوتی۔ زندہ رہ بھی جاتی تو کیا جینے دیتے اس لڑکی کو؟ اس کا گناہ کیا تھا؟ سمیرا کی زندگی کیا اتنی ہی بے مول تھی کہ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر خواتین کے حق میں نعرے لگانے والی این جی اوز نے بھی چپ سادھ رکھی ہے۔غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کی روک تھام کے لیے ڈالروں کی صورت فنڈز لینے والی سماجی کارکنان کہاں ہیں؟ کیوں آواز نہ اٹھائی گئی سمیرا کے لیے؟ سمیرا کے قاتل کو بچانے کے لیے سمیرا ہی کے اہل خانہ سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔

Sameera-Family-Reax-2100-Khi-Pkg-28-04-640x480-280x200

کیا بیٹی ہونا سمیرا کا جرم تھا؟ پھر ہم کہتے ہیں کہ آج کی خاتون  آزاد ہے، خود مختار ہے، کیا یہ ہے خود مختاری۔ اسے کہتے ہیں آزادی؟ سچ تو یہ ہے کہ آج بھی حوا کی بیٹی مردوں کے شملے اونچے رکھنے کے لیے پستی رہی ہے اور شاید ہمیشہ ایسے ہی پستی رہے گی۔ صرف ایک سمیرا دقیانوسی سوچ، فرسودہ روایات اور نام نہاد غیرت کے نام پر جان سے گئی بلکہ بہت سی سمیرا قربان ہوتیں رہی ہیں۔ ایسی قربانیوں کا کہیں نام نہیں ہوتا۔ اس بات کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ سمیرا کی قبر پر فاتحہ کے لیے گلی کے بچوں کے سوا کوئی نہ تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube