Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  15

سوال ایک اسپتال کا۔۔۔۔۔!۔

SAMAA | - Posted: Apr 21, 2016 | Last Updated: 6 years ago
SAMAA |
Posted: Apr 21, 2016 | Last Updated: 6 years ago

—–**  تحریر: ضیاء الرحمٰن  **—–

گزشتہ روز ایک سیاسی شخصیت سے ملاقات ہوئی تو وہاں ایک دوست نے مجھ سے پوچھا کہ ضیاء بھائی پاکستان میں ایسا اسپتال کب بنے گا جس میں تمام وزراء، مشیر، وزرائے اعلیٰ اور وزرائے اعظم کا علاج ہوسکے؟، میں نے کہا یہ بات انہی موصوف سے پوچھتے ہیں جو خود بھی ماضی میں پنجاب کے وزیر صحت رہے ہیں، سوال پوچھنے پر وہ بغلیں جھانکنے لگے اور کہا چھوڑو جی ایک تو آپ صحافی حضرات سوال بہت پوچھتے ہیں۔

رواں ماہ سوشل ميڈيا پر ايک پوسٹ بہت شيئر کی جارہی ہے کہ جرمنی کے ايک اسپتال ميں داخل بوڑھے شخص نے اپنے ساتھ والے کمرے ميں رش، سيکیورٹی کے لوگوں کی آمد و رفت اور عملے کا اہتمام ديکھا تو اپنے ساتھ موجود ورثاء سے پوچھا کیا ہوا ہے؟ بوڑھے کے ورثاء نے بتايا کہ اس کمرے ميں مصر کے صدر حسنی مبارک کو علاج کیلئے ٹھہرايا گيا ہے، بوڑھے نے کہا کہ يہ ايک گندا آدمی ہے، تو ورثاء نے تعجب سے پوچھا آپ کيسے جانتے ہيں؟، بوڑھے مریض نے ساتھ والے کمرے کی طرف دیکھ کر جواب دیا جو شخص اپنے 25 سالہ دور حکومت ميں اپنے ملک کے اندر کوئی ايسا اسپتال نہيں بنوا سکا جس ميں وہ اعتماد کے ساتھ علاج کراسکے تو ايسے شخص کا اپنے ملک اور عوام کے ساتھ خلوص مشکوک ہے، اس کے انتظامی اور تعميری کاموں ميں کھوٹ ہے۔

2

پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی میں عباسی شہید اسپتال، سول اور جناح اسپتال سمیت نو بڑے سرکاری اسپتال جبکہ 11 بڑے نجی اسپتال ہیں، جن میں سے چند ایک کے نام وزرائے اعظم سے منسوب کئے گئے ہیں، ایسے تمام اسپتالوں میں غریب پاکستانیوں کا علاج ہوتا ہے، علاج کیسا ہوتا ہے یہ پھر کسی دن سہی۔۔۔۔۔۔

2a

پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد میں 2 سرکاری اسپتال ہیں، لاہور میں بھی گنگارام اسپتال، میو اسپتال، لیڈن ایچ سن اسپتال، سروسز اسپتال، شیخ زید اسپتال سمیت 13 سرکاری جبکہ 14 پرائیویٹ اسپتال ہیں۔

پنجاب میں بھی بعض اسپتالوں کے توسیعی منصوبوں پر وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ کے نام کنندہ ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان تمام اسپتالوں میں کوئی بھی موجودہ یا سابق صدر، وزیراعظم، وزیراعلیٰ، گورنرز، ریٹائرڈ فوجی جرنیل اپنا علاج کرانا پسند نہیں کرتے، یہ تمام اپنے علاج اور چھوٹے موٹے طبی معائنے کیلئے بیرون ملک کا سفر کرتے ہیں۔

2b

سوال ہے صرف ایک ہسپتال کا، جہاں ہمارے تمام حکومتی لوگ اپنا علاج کراسکیں، پاکستان بنے 68 سال ہوگئے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہمارے حکمران پیارے وطن میں ایک بھی ایسا اسپتال نہیں بناسکے جہاں ان سب کا علاج ہوسکے، ہمارے حکمران جن ملکوں میں اپنا علاج کرانا فخر سمجھتے ہیں وہاں کے حکمران انہی کے ملکوں میں قائم اسپتالوں میں اپنا علاج کراتے ہیں، لہٰذا سوال ہے صرف ایک اسپتال کا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube