Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

سب تاج اچھالے جائیں گے

SAMAA | - Posted: Feb 22, 2016 | Last Updated: 6 years ago
Posted: Feb 22, 2016 | Last Updated: 6 years ago

Cencus-in-Pakistan

تحریر : نسیم خان نیازی

چہروں پر معصومیت ، اجلے ملبوسات اور نرم لہجے ، مگر چمڑی موٹی اور دل پتھر کے ہیں ۔ پاکستان میں بدمعاش کمپنی پیچ در پیچ الجھی ، شاخ در شاخ پھیلی ہوئی ہے ۔ کمپنی کا سلسلہ ء حاکمیت شہرِ اقتدار سے ملک کے قصبے قصبے تک ہے ۔ مملکت خداداد کی پیٹھ پر آمریت کا ٹیکہ ہو یا منہ میں جمہوریت کی ٹافی ، اصل میں یہی کمپنی برسر اقتدار ہے ، پٹوار سے لے کر تھانے تک ، کچہری سے لے کر ہر سرکاری دفتر تک اسی کا سکہ چلتا ہے اور اہلکار کسی قانون کی بجائے اسی کمپنی کے تابع ہیں۔

 اقتدار کا ہما کسی بھی شخصیت کے کندھے پر بیٹھ جائے ، بدمعاش کمپنی کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ اس شخصیت کی بیعت کےلیے فوراً تیار ہوتی ہے ۔ اس ابن الوقتی کا پھل یہ ہے کہ کمپنی کے پاس وسائل ہیں ، اختیارات ہیں ، مسلح لشکر ہیں اور سب سے بڑھ کر آئین و قانون کا دھوکہ دینے کی مہارت ہے ۔

aa

کمپنی کے شاہ دماغوں نے مل کر ایسا نظام تیار کرلیا ہے کہ اس کمپنی کے باہر سے کوئی بھی شخص اب قابل انتخاب نہیں رہا ، کمپنی کے ان نمائندوں کےلیے ہی شائد الیکٹ ایبلز کی ٹرم ایجاد ہوئی ۔

جرائم پیشہ لوگ عموماً شکل و صورت سے پہچانے جاتے ہیں مگر اس کمپنی کے نمائندے بظاہر انتہائی مہذب ، پڑھے لکھے اور غریب عوام کا درد رکھنے والے ہیں ۔ دین و دنیا کو ساتھ لے کر چلنے والے ہیں ۔ یہ ظلم و جبر کا شکار خاندانوں کے پاس پہنچ کر ان کے سروں پر دست شفقت رکھنے کی بے مثال اداکاری میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ بدمعاش کمپنی عام لوگوں کو اس بات کی بھنک بھی نہیں پڑنے دیتی کہ وہ لوگ آج جس بھوک ننگ کا شکار ہیں ، اس کی ماسٹر مائنڈ یہی کمپنی ہی تو ہے ۔ کمپنی کا پراپیگنڈا اتنا موثر ہے کہ کئی معقول افراد بھی انہیں خلق خدا کا نجات دہندہ سمجھتے ہیں ۔ عامیوں کے دکھوں اور مصائب سے قطع نظر اس کی کمپنی کی اپنی دنیا انتہائی رنگین اور آسودہ ہے ۔ سفر کرنے کےلیے جہاز ہیں ، انواع و اقسام کے کھانوں کےلیے خانساماں ہیں ، محل ہیں ، حکم بجا لانے والے نوکر چاکر ہیں ۔ اجلاس ہیں ، فائلیں ہیں اور پروٹوکول ہیں ۔ شہزادوں شہزادیوں کے محفوظ مستقبل کےلیے مختلف کرنسیوں کے اکاؤنٹس ہیں ۔

bb

دوسری طرف اس کمپنی کے باہر بھی اک دنیا ہے جو عام لوگوں کی دنیا ہے ۔ صحراوں میں بھوکے بچے ہیں  ۔ دن رات مشقت کے باوجود فاقہ کشی کا شکار مزدور ہیں  ۔ ورکشاپوں ، ہوٹلوں اور بھٹوں پر کام کرنے والے نونہال ہیں ۔ تھانوں میں مار کھاتے غریب ہیں اور اسپتالوں کے دروازوں پر بچوں کو جنم دیتی عورتیں ہیں ۔ کمپنی کا مفروضہ ہے کہ یہ دکھ قدرت کی طرف سے لوگوں کی قسمت میں لکھ دیئے گئے ہیں اور اب کوئی چاہے بھی تو کچھ نہیں کرسکتا ۔

سادہ لوح لوگ جن کی حیثیت کیڑوں مکوڑوں سے زیادہ نہیں ، اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دکھ کے یہ دن تھوڑے ہیں اور ایک سہانا مستقبل ان کا منتظر ہے ۔ کمپنی کی جانب سے انہیں یہ باور کرایا جاتا ہے کمپنی ان کی ترقی و خوشحالی کے منصوبے بنارہی ہے مگر ارض پاک کے کئی دشمن ملک ایسا ہونے نہیں دیتے ، بس تھوڑے دنوں کی بات ہے ہرطرف خوشنما نظارے ہوں گے اور راوی چین ہی چین لکھے گا ۔

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

اسی معاشرے کے کچھ عاقبت نااندیش کمپنی سے بغاوت پر مائل ہوکر لڑ مرنے کےلیے بھی تیار ہوجاتے ہیں ۔ پہلے ایک ، پھر دو ، پھر چار اور پھر بے شمار ۔ آخر وہ گھڑی بھی آتی ہے کہ بھوکے ننگوں کا شور محل کے مکینوں تک پہنچتا ہے ، شور آہستہ آہستہ بڑھتا جاتا ہے حتی کہ محل کے غلام اپنے آقاؤں کے کانوں میں سرگوشی کرتے ہیں ، چہروں کے رنگ فق ہوتے ہیں اور سب ٹھاٹھ دھرا رہ جاتا ہے ۔ فیض احمد فیض ایسی ہی کسی صورتحال کے بارے میں کہہ گئے تھے ۔

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

 وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے

سب تاج اچھالے جائیں گے

 سب تخت گرائے جائیں گے

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube