اسٹاف رپورٹ
کوئٹہ : کوئٹہ سمیت بلوچستان کے سرکاری و نجی اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتال گیارویں روز میں داخل ہوگئی ہے۔ مسیح کی ہڑتال کے باعث صوبے بھر میں مریض اور ان کے رشتے دار رل گئے ہیں۔ جبکہ صوبائی حکومت سکون کی نیند سو رہی ہے۔
کوئٹہ میں سول اسپتال ، بولان میڈیکل کمپلیکس سمیت صوبے بھر کے نجی و سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹر غلام رسول کی عدم بازیابی کے خلاف ڈاکٹروں کی ہڑتال کو گیار روز گزر گئے ہیں۔
اس دوران ڈاکٹروں کی جانب سے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں کام جاری ہے جبکہ او پی ڈیز میں ڈاکٹروں نے کام مکمل طور پر بند کر رکھا ہے ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کئی روز سے ہڑتال کی جارہی ہے جلسے مظاہرے اور دھرنے کئے جارہے ہیں مگر صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے یہی رویہ اختیار رکھا اور ڈاکٹر غلام رسول کی بازیابی کے لئے کوئی موثر اقدامات نہیں کئے جارہے ۔ ڈاکٹروں کی ہڑتال اور حکومت کی عدم توجہ کے باعث ہڑتال نے غریب مریضوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
دور دراز علاقوں سے آئے مریض ہڑتال کے باعث مایوس اپنے علاقوں کو لوٹتے ہیں جس سے نہ صرف انھیں ذہینی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے بلکہ مالی پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مریضوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ ڈاختر غلام رسول کی بازیابی کے لئے موثر اقدامات کریں تاکہ ڈاکٹر اپنی ہڑتال ختم کر کے انسانیت کی خدمت کریں۔ سماء